2017 سوال و جواب – مئی (Abu Yahya ابویحییٰ)

سوال و جواب

ابویحییٰ

کیا سالگرہ منانا بدعت ہے؟

سوال:

اسلام میں سالگرہ منانے کی کیا حیثیت ہے۔ کیا یہ جائز ہے؟ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ سالگرہ منانا دین میں اضافے اور بدعت کے زمرہ میں آتا ہے۔ جس کا شریعت مطہرہ میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ لہٰذا سالگرہ کی دعوت قبول کرنا بھی جائز نہیں کیونکہ یہ ایک بدعت کو سپورٹ کرنے اور اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے ضمن میں آتا ہے۔ نیز سالگرہ منانا بدعت اور شریعت میں بے بنیاد ہونے کے علاوہ یہود و نصاریٰ کی مشابہت کے زمرہ میں بھی آتا ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ جس نے جن کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے ۔      حمزہ

جواب:

محترمی و مکرمی حمزہ صاحب

سالگرہ کو لوگ مذہبی رسم کے طور پر نہیں منایا کرتے۔ اس لیے اسے بدعت قرار دینا کسی طور سے بھی درست نہیں ہے۔ بدعت کا سوال تب ہی پیدا ہوتا ہے کہ جب لوگ کسی نئی چیز کو مذہبی حیثیت میں منائیں، اس پر ثواب کے امیدوار ہوں اور اس کو دین قرار دیں۔ جبکہ اس حوالے سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی ہدایت نہ ہو۔ آپ نے جن آیات اور احادیث کو نقل کیا ہے ، وہ اس بدعت اور دین سازی کو موضوع بناتی ہیں نہ کہ کسی مباح چیز کو۔

جہاں تک یہود و نصاریٰ کی نقل کا تعلق ہے تو اس طرح کی چیزوں کو بھی مذہبی پیرائے میں دیکھنا چاہیے۔ یہی رسول کریم کی اس ہدایت کا مطلب تھا۔ آپ نے ہمیں ان کی طرح فرقہ واریت، ظاہر پرستی، قوم پرستی، بدعت، شرک اور دیگر گمراہیوں سے متنبہ کیا تھا۔ تمدنی اور سماجی معاملات کا اس سے تعلق نہیں تھا۔ ورنہ جہاز اور گاڑی کے استعمال سے لے کر سارا جدید تمدن جس سے ہم دن رات فائدہ اٹھاتے ہیں ان ہی کا پیدا کردہ ہے۔ آپ کا مجھے ای میل کرنا، انٹرنیٹ استعمال کرنا، سیمنٹ سے گھروں کو تعمیر کرنا وغیرہ سب کام یہود و نصاریٰ کی نقل قرار پائیں گے۔ اس لیے دینی ہدایات کو ان کے صحیح پیرائے میں سمجھنا ضروری ہے، ورنہ معاشرے میں انتہا پسندی اور دہشت گردی اور دوسروں کی تکفیر کے سوا کوئی اور رویہ نہیں بڑھے گا۔

ابو یحییٰ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسلمانوں پر ہونے والے مظالم

سوال:

اسلام علیکم

محترم ابو یحییٰ صاحب میرا نام بابر علی ہے اور میں برطانیہ میں رہتا ہوں میانمار میں جو ظلم ہو رہا ہے اس کی وڈیو دیکھ کر مجھ سے کسی نے سوال کیا ہے کہ چھوٹے بچوں کا کیا قصور ہے ان پر ظلم کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کیوں ڈھیل دے رہے ہیں ۔ جواب کا انتظار رہے گا۔ شکریہ

جواب:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

محترمی و مکرمی

اس طرح کے واقعات میں انفرادی طور پر جو لوگ ظلم و ستم سے گزرتے ہیں، ان کے متعلق ہم اللہ تعالیٰ سے امید رکھتے ہیں کہ اس کا بدلہ ان کو روز قیامت دیا جائے گا۔ وہ اللہ سے اس کی رحمت کے امید وار ہوں گے۔ تاہم اجتماعی طور پر اس طرح کے معاملات کو دیکھنے کا ایک دوسرا زاویہ قرآن مجید بنی اسرائیل کے حوالے سے دیتا ہے جس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ جب جب بنی اسرائیل نے خدا سے بے وفائی کی ان پر خدا کے قہر کا کوڑا برس پڑا۔ وہ دنیا میں مغلوب اور بدحال ہوگئے ۔

میں نے اپنی کتاب ’’آخری جنگ ‘‘ میں اس پر اور مسلمانوں پر اس قانون کے اطلاق پر تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ اس کاخلاصہ یہ ہے کہ ختم نبوت کے بعد مسلمان مجموعی طور پر دعوت حق کے امین بنائے گئے ہیں۔ جب وہ دعوت کا یہ کام نہیں کریں گے اور اپنے عمل سے ایمان واخلاق کی گواہی دینے کے بجائے بدعملی اور گمراہی کا نمونہ بن جائیں گے تو ان پر ذلت اور مغلوبیت مسلط کر دی جائے گی۔ ظاہر ہے کہ جب یہ ہو گا تو پھر اس کے کچھ نتائج نکلیں گے۔ یہ نتائج یہود پر بخت نصر اور ٹائٹس رومی کے ہاتھوں نکلے اور مسلمانوں پر پہلے تاتاریوں کے ہاتھوں اور اب دیگر غیر مسلم اقوام کے ہاتھوں نکل رہے ہیں۔ اس کے نتیجے کے طور پر مسلمان مارے بھی جا رہے ہیں، بے گھر بھی ہیں، اور ذلت اور مغلوبیت کا بھی شکار ہیں ۔

مسلمان جب تک ایمان اور عمل صالح کی دعوت کو خود اختیار کر کے دنیا کو اس کی طرف نہیں بلاتے، انھیں حالات میں تبدیلی کی کوئی امید نہیں رکھنا چاہیے۔ ہمیں اللہ سے کوئی شکایت کرنے کے بجائے اپنی اصلاح کرنا چاہیے۔ بدقسمتی سے مسلمان دو سوبرس سے اس کام کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اسی لیے مسلمانوں کے حالات بھی نہیں بدل رہے ۔

والسلام

ابویحییٰ

۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔

Posted in QnA سوال و جواب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *