2017 مکاتیب – ستمبر (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

مکاتیب

ابویحییٰ

اولاد اور گھر والوں کے ساتھ برا سلوک

محترمی ومکرمی     04 اگست، 2017

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

عنایت نامہ موصول ہوا جس کے لیے بے حد شکر گزار ہوں۔ تاہم جو حالات آپ نے بیان کیے ہیں وہ واقعی بہت تکلیف دہ ہیں۔ آپ کے والد صاحب اگر حقیقی معنوں میں ایک دیندار شخص ہیں تو پھران کو سب سے پہلے نیکی، حسن خلق اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ گھر والوں کے ساتھ کرنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تم میں سے اچھے لوگ وہ ہیں جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھے ہیں اور میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ سب سے بہتر ہوں ۔

یہی نہیں بلکہ قرآن مجید نے جگہ جگہ بیویوں کے ساتھ اچھے سلوک کی تلقین کی ہے۔ اگر کوئی شخص گھر میں بداخلاقی کا مظاہرہ کرتا ہے ، بیوی بچوں کو گالیاں دیتا ہے، مارپیٹ کرتا ہے اور باہر بہت مہذب اور شائستہ بنتا ہے تو درحقیقت اس نے ابھی تک اسلام کی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔

ایک صالح مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ بیوی اور بچوں کے ساتھ بہترین سلوک کرے۔ ان کی مادی ضروریات کے ساتھ ان کی عزت نفس کا بھی خیال رکھے ۔ ان کو اچھی تعلیم وتربیت دے ۔ خاص کربچوں کو اچھا انسان بنانے کی کوشش کرے ۔ اچھا مطالعہ کرنے کی عادت ڈالے۔ اس کے برعکس اگر وہ ان کے سامنے برے کردار کا مظاہرہ کرے گا تو وہ معاشرے میں کچھ منافقوں کو جنم دینے کا باعث بن جائے گا۔ اس کی منافقت اس کے ساتھ دوسرے انسانوں کو بھی اپنی لپیٹمیں لے لے گی۔ پھر ان کی گمراہیوں کا وبال بھی ایسے شخص پر پڑے گا۔

دور جدید کی دینداری کا یہ بڑا المیہ ہے کہ اس میں قرآن مجید کی اصل تعلیم یعنی ایمان و اخلاق کی دعوت دینی فکر اور عمل کا اصل محور و مرکز نہیں بنتی۔ یہیں سے وہ سارے افراط وتفریط جنم لیتے ہیں جن کا مشاہدہ ہم مختلف پہلوؤں سے اپنے معاشرے میں کرتے رہتے ہیں۔ اس موجودہ دینداری کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ فرد کچھ ظاہری چیزوں کو بطور دین اختیار کرتا ہے اورپھر دوسروں سے بحث مباحثے اور مناظرے میں مشغول رہتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی شخص کو وہ دینداری نصیب ہوجائے جو قرآن مجید پیش کرتا ہے اور جس کی سب سے بڑی عملی شکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ہستی ہے تو اس کے بعد انسان سب سے بڑھ کر خدا سے ڈرنے والا بن جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں انسان کی منافقت اور دوعملی ختم ہوجاتی ہے ۔ وہ جیسے گھر سے باہر ہوتا ہے ، ویسے ہی گھر کے اندر ہوتا ہے ۔ جیسے جلوت میں نظر آتا ہے، ویسا ہی اپنی خلوت میں ہوتا ہے ۔ جیسا معاملہ طاقتور کے ساتھ کرتا ہے  ویسا ہی کمزور کے ساتھ کرتا ہے ۔ جتنی خوش اخلاقی سے گھر سے باہر والوں کے ساتھ پیش آتا ہے ، اتنی ہی خوش اخلاقی سے گھر والوں کے ساتھ پیش آتا ہے۔

قرآن مجید کی اس دینداری کا مرکزی خیال یہ ہے کہ رب کو راضی کرنا ہے اور اس کے بندوں کے ساتھ بھلائی کرنی ہے۔ اس بھلائی کا آغاز سب سے پہلے اپنے گھر والوں سے کرنا چاہیے۔ ان کے ساتھ اچھا نہیں بننا بلکہ سب سے اچھا بننا ہے ۔ ان کی بھلائی ، خدمت، محبت کو اپنی زندگی کا اہم ترین جز بنانا ہے ۔ جس نے یہ کیا وہی حقیقی معنوں میں بندہ مومن ہے ۔

اللہ سے دعا ہے کہ آپ کے والد صاحب اور تمام مسلمانوں کو یہ دینداری نصیب فرمائے ۔ آمین۔ والسلام

ابو یحییٰ

 

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Posted in Letters - مکاتیب | Tags , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *