(25) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

Download PDF

 

ترکی کا سفرنامہ (25) 

مبشر نذیر

اگر کسی ملک میں متعدد مذاہب کے لوگ رہتے ہوں اور وہ سیکولرازم کو اختیار کر لیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے۔ مذہب ایسا معاملہ ہے جس میں انسان جذباتی ہوتا ہے ۔ کوئی شخص یہ ہرگز قبول نہیں کر سکتا کہ اس پر کسی دوسرے مذہب کے قوانین مسلط کیے جائیں ۔ ذرا دیر کے لئے تصور کیجیے کہ کسی دوسرے مذہب کا حکمران آپ پر زبردستی اپنے مذہب کو مسلط کرے تو آپ کی جذباتی کیفیت کیا ہو گی۔ یہی معاملہ مسلم ممالک میں رہنے والے غیر مسلموں کا ہے ۔ انہیں بھی اپنے مذہب سے محبت ہوتی ہے ۔ اگر ہم اسلام کو زبردستی ان پر مسلط کریں گے تو اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہ نکلے گا کہ یہ لوگ اسلام ہی سے متنفر ہو جائیں گے ۔

ایسی صورت میں یقیناً سیکولرازم سے بہتر کوئی حل نہیں ہے ۔ جدید دور میں اس کی بڑی اچھی مثال ہندوستان ہے جہاں بہت سے مذاہب کے لوگ بستے ہیں ۔ اگرچہ یہاں اکثریت ہندو مذہب کے ماننے والوں کی ہے مگر خود ہندومت میں اس قدر فرقے ہیں کہ ہندومت نافذ کرنا عملاً ممکن نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہر مذہب اور فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لئے ان کا ایک پرسنل لاء ہے ۔اجتماعی معاملات کو سیکولر طریقے سے چلایا جاتا ہے ۔

دین اسلام تھیوکریسی اور سیکولرازم دونوں سے مختلف تصور پیش کرتا ہے ۔ اسلام میں مذہبی طبقے کے اقتدار کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اس میں پاپائیت کا کوئی تصور نہیں ہے ۔ اسلام میں ہر شخص کا تعلق براہ راست خدا سے ہوتا ہے ۔ اسے خدا سے تعلق پیدا کرنے کے لئے کسی واسطے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسلام قطعی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی مذہبی شخص، خدا کے نام پر اپنا اقتدار قائم کرے ۔ ایک صاحب علم کے الفاظ میں اسلام میں ہر شخص اپنا پوپ خود ہی ہوا کرتا ہے ۔

دوسری طرف اسلام کا سیاسی تصور سیکولرازم سے مختلف ہے ۔ اسلام اپنے ماننے والوں سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ دین میں پورے کے پورے داخل ہوں ، اس کے تمام احکام کو مانیں اور ان پر عمل کریں ۔ دین پر جزوی عمل کی گنجائش اسلام میں نہیں ہے ۔ کوئی مسلمان یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں ذاتی زندگی میں تو دین کے احکام پر عمل کروں گا مگر اجتماعی زندگی میں ، دین سے کوئی واسطہ نہ رکھوں گا۔

جدید دور میں مذہبی ریاست کے بارے میں چند اور سوالات پیدا ہوتے ہیں ۔ قرون وسطی میں تو بادشاہت اور مذہبی راہنماؤں کے گٹھ جوڑ سے یہ معاملہ چل گیا۔ جدید جمہوری دور میں اس کی صورت کیا ہونی چاہیے؟ میری نظر میں اس مسئلے کا سب سے بہترین حل پاکستان کے 1973ء کے آئین میں پیش کیا گیا ہے ۔ اس بات سے ان لوگوں کو حیرت ہو گی جو کہ پاکستان کی ہر شے کو کمتر سمجھتے ہیں اور کسی بھی معاملے میں مثال کے لئے باقی دنیا کی طرف دیکھتے ہیں ۔

پاکستان آئینی طور پر ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے ۔ یہ تھیو کریٹک اسٹیٹ نہیں ہے جس میں مذہبی راہنماؤں کا ایک ٹولہ اپنی پسند و ناپسند کو خدا کے نام پر لوگوں پر مسلط کر سکے ۔ آئین کے مطابق پاکستان کے قانون ساز ادارے عوام کے ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں اور انہیں قانون سازی کا اختیار حاصل ہے ۔ ظاہر ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کا عالم دین ہونا ضروری نہیں ہے ۔ ان کے لئے یہ طے کرنا ایک مشکل کام ہے کہ کوئی قانون بناتے ہوئے اللہ تعالی کے احکام کی خلاف ورزی نہ ہو۔ اس بات کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک آئینی ادارہ ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ کے نام سے بنایا گیا ہے ۔

یہ مختلف مکاتب فکر کے اہل علم پر مشتمل ایک ادارہ ہے جو پارلیمنٹ کے لئے مشاورتی کردار ادا کرتا ہے ۔ یہاں قوانین کے مسودوں کا شریعت کے ماخذوں کی روشنی میں جائزہ لیا جاتا ہے اور اپنی سفارشات پارلیمنٹ کے سامنے پیش کر دی جاتی ہیں ۔ اس کے بعد ان سفارشات کی روشنی میں قانون کے مسودے میں ضروری تبدیلیوں کے بعد اسے پارلیمنٹ سے منظور کروا لیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شہری یہ سمجھتا ہے کہ کسی قانون کی کوئی شق قرآن و سنت کے منافی ہے تو وہ اس قانون کو آئینی عدالتوں میں چیلنج کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر مسلم اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی دی گئی ہے اور اسلام کو ان پر زبردستی مسلط نہیں کیا گیا ہے ۔

میں سمجھتا ہوں کہ وہ ممالک جو جمہوریت اور شرعی قانون کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں ، ان کے لئے پاکستان کے نظام میں ایک مثال موجود ہے ۔ اس صورتحال کو مزید بہتر کیا جا سکتا ہے ۔ انتخاب کے بعد ارکان پارلیمنٹ کو ضروری اخلاقی اور دینی تعلیم دی جانی چاہیے تاکہ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو سمجھ سکیں ۔

اس ضمن میں ایک اور اچھی مثال ملائشیا نے قائم کی ہے ۔ ان کی آبادی کا ساٹھ فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ ملائشیا میں حکومت کی سطح پر اسلامی قوانین نافذ ہیں مگر ان کا اطلاق صرف مسلمانوں پر کیا جاتا ہے ۔ اس طریقے سے غیر مسلم اقلیتوں کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ اسلام کو ان پر جبراً مسلط کیا جا رہا ہے ۔ اس کے نتیجے میں ان کی مذہبی آزادی برقرار رہتی ہے اور انہیں اپنی آزادانہ مرضی سے اسلام قبول کرنے یا نہ کرنے کا موقع حاصل رہتا ہے ۔ مسئلے کا یہ حل کوئی نیا نہیں بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہود پر تورات ہی کے قوانین نافذ کیے جاتے تھے ۔ مسلمانوں کی تیرہ سو سالہ تاریخ میں یہی حل اختیار کیا گیا۔ اسلام کو جبراً مسلط کر دینے سے غیر مسلموں کے دل میں اسلام کی محبت کبھی پیدا نہیں ہو سکتی۔ اس کے برعکس ایسا کرنا انہیں اسلام سے دور لے جا سکتا ہے ۔

ایک مذہبی جمہوری ریاست میں ایک مسئلہ اور پیدا ہو جاتا ہے ۔ تجربے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مذہبی راہنما اگر سیاست میں آئیں تو وہ سیاست کو تو کیا دین کے مطابق کریں گے ، وہ خود سیاست کی کرپشن کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ ہمارے پاکستان میں مذہبی سیاستدانوں میں سیکولر سیاستدانوں سے شاید زیادہ کرپشن پائی جاتی ہے ۔ مذہب کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنایا جاتا ہے ۔ انہیں سڑکوں پر لا کر دوسروں کی حق تلفی کروائی جاتی ہے ۔ پرمٹ حاصل کیے جاتے ہیں ۔ عوام کے فنڈز خورد برد کیے جاتے ہیں ۔ مذہب کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے۔ خدا کے نام پر نفرتیں پھیلائی جاتی ہیں۔ لوگوں کو تقسیم کیا جاتا ہے ۔ لاشوں کی سیاست کی جاتی ہے ۔ یہ سب وہ کرتے ہیں جو خود کو ’’اسلامی سیاستدان‘‘ کہتے ہیں ۔

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to (25) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

  1. Superb piece of writing and analysis.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *