(26) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

Download PDF

 

 

ترکی کا سفرنامہ(26) 

مبشر نذیر

ایلیٹ ازم کا خاتمہ

عثمانی دور میں اشرافیہ کا طبقہ بہت مضبوط تھا۔ جو شخص بادشاہوں کے جتنے قریب ہوتا، اس کا درجہ اتنا ہی بلند سمجھا جاتا۔ مصطفی کمال نے ایک اچھا کام یہ کیا کہ انہوں نے ایلیٹ ازم کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے لئے انہوں نے عثمانی دور کے القابات اور عہدوں کو خلاف قانون قرار دیا۔ یقینی طور پر یہ ایک اچھا کام تھا مگر اس کے نتیجے میں ترکی میں ایلیٹ ازم کا خاتمہ نہ ہو سکا۔ ان کے ان اقدامات کے نتیجے میں عثمانی دور کی اشرافیہ تو شاید ختم ہو گئی مگر جدید ری پبلکن دور کی اشرافیہ پیدا ہو گئی جو اس وقت ترکی کے اقتدار پر قابض ہے ۔

زبان سے متعلق اقدامات

مصطفی کمال نے زبان سے متعلق کچھ ایسے اقدامات کیے جن کی مثال شاید ہی کسی قوم کی تاریخ میں ملتی ہو گی۔ عثمانی عہد میں ترکی زبان عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔ کمال نے ترکی کو عربی کی بجائے رومن رسم الخط میں لکھنے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے عربی اور فارسی الفاظ کو ترکی زبان سے نکالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذہبی تصورات کو عربی کی بجائے ترکی الفاظ میں بیان کیا جائے ۔ انہوں نے نماز ، اذان اور تلاوت قرآن کو عربی زبان کی بجائے ترکی زبان میں ادا کرنے کا حکم دیا۔

کمالسٹ اس بات میں تو کامیاب ہو گئے کہ ترکی کو رومن رسم الخط میں لکھا جا سکے مگر وہ دینی معاملات میں دخل اندازی میں ناکام رہے ۔ عربی زبان میں نماز، اذان اور قرآن کے معاملے میں انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور خود کمال کی زندگی میں ہی اس حکم کو واپس لے لیا گیا۔

کمال کا یہ اقدام بدیہی طور پر غلط تھا۔ یہ واضح طور پر ترک قوم کو اپنے ماضی سے کاٹ دینے کی کوشش تھی۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ کسی جوان شخص کے سر پر ہتھوڑا مار کر اس کی یادداشت گم کر دی جائے ۔ اس کے بعد وہ شخص اپنے ماضی کے تجربات اور ان کے نتائج سے مکمل طور پر محروم ہو جاتا ہے ۔ یہی معاملہ ترک قوم کے ساتھ ہوا۔ انہیں ان کے اسلامی ماضی سے کاٹ کر پوری طرح مغرب سے جوڑ نے کی کوشش کی گئی۔ ترک معاشرے میں اسلام کی جڑیں بہت ہی گہری تھیں لہٰذا اس کوشش کا نتیجہ یہ نکلا کہ ترک معاشرہ آدھا تیتر آدھا بٹیر بن کر رہ گیا۔ مسلمان ترکوں کو مغرب زدہ سمجھتے ہیں اور اہل مغرب انہیں اسلامی قرار دے کر ان سے فاصلہ رکھتے ہیں ۔

فاشسٹ اور آمرانہ نظام حکومت

کمال نے ایک طرف تو بادشاہت کو ختم کرتے ہوئے جمہوریت قائم کرنے کا دعوی کیا مگر ان کا جمہوری تصور مغرب کے عام جمہوری نظام کی بجائے ہٹلر اور مسولینی کے ماڈل پر مشتمل تھا۔ ترکی میں صرف ایک سیاسی پارٹی کے قیام کی اجازت دی گئی جو کہ کمال کی اپنی پارٹی تھی۔ انہوں نے اختلاف رائے کو سختی سے کچل دیا اور پارٹی پر اپنی اجارہ داری قائم رکھی۔

ترکی کے تعلیمی نصاب میں کمال اور کمال ازم کو اس طریقے سے داخل کر دیا گیا کہ کمال کی شخصیت مقدس رنگ اختیار کر گئی اور ان سے معمولی سا اختلاف بھی جرم قرار پایا۔ موجودہ دور میں بھی ترکی کے سیکولر کمالسٹ ، کمال کو کسی پیغمبر سے بھی بلند درجہ دیتے ہیں اور ان کی کسی بات پر تنقید کو برداشت نہیں کرتے ۔

کمال کے اقدامات پر رد عمل

کمال نے ترکی میں ایسی اشرافیہ پیدا کر دی جس کی رگوں میں کمال ازم بری طرح رچ بس گیا۔ اشرافیہ کا یہی طبقہ ترک حکومت، فوج اور عدلیہ میں اہم عہدوں پر قابض ہو گیا اور انہوں نے اپنے مخالفین کو کچلنے کے لئے مختلف ادوار میں حکومت کی طاقت کا بھرپور استعمال کیا۔ اس کے رد عمل میں ایسے لوگ جو دین اسلام کو اپنی زندگی میں اہمیت دیا کرتے تھے ، منظم ہونا شروع ہوئے اور انہوں نے فاشزم کے خلاف جدوجہد کی ایسی تاریخ رقم کی جس کی مثال کسی اور ملک میں نہیں ملتی۔

اس جدوجہد کی تفصیلات پر ہمیں اردو میں کوئی غیر جانبدار تحریر نہیں مل سکی۔ ہمارے مذہبی لوگوں کی زیادہ تر تحریریں کمال ازم کی مذمت اور تردید میں لکھی گئی ہیں جبکہ سیکولر حضرات نے کمال کو پیغمبر بنا کر پیش کیا ہے ۔ انگریزی زبان میں رینڈ کارپوریشن کی ایک رپورٹ مل گئی جس میں بڑی غیر جانبداری سے اس تاریخ کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ اس رپورٹ کا نام ہے ۔ The Rise of Political Islam in Turkey۔ یہ رپورٹ اینجل راباسا اور ایف اسٹیفین لارابی نے مرتب کی ہے ۔ انہوں نے دقت نظر سے ترکی کی پوری ری پبلکن تاریخ کا جائزہ لیا ہے ۔ یہاں ہم اس کا خلاصہ پیش کر رہے ہیں :

کمال ازم نے مغربی اناطولیہ کے شہری علاقوں میں تو جگہ بنا لی مگر دیہات میں اس کا اثر و نفوذ کم رہا۔ حکومتی سطح پر کئے جانے والے اقدامات کا رد عمل یہ ہوا کہ اسلام پسندوں میں دین کو بچانے کا جذبہ پوری طرح بیدار ہو گیا۔ ترکی میں متعدد تحریکیں پیدا ہوئیں جنہوں نے حکومت کو چھوڑ کر عوام پر اپنی توجہ مبذول کی۔ ان تحریکوں نے ترکوں میں اسلامی شناخت کا احساس پیدا کیا اور دینی تعلیم کو غیر رسمی انداز میں فروغ دیا۔

[جاری ہے ]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

One Response to (26) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

  1. dilnawaz says:

    اس جدوجہد کی تفصیلات پر ہمیں اردو میں کوئی غیر جانبدار تحریر نہیں مل سکی۔ ہمارے مذہبی لوگوں کی زیادہ تر تحریریں کمال ازم کی مذمت اور تردید میں لکھی گئی ہیں
    i dont know why such type of articales are being published.mustapha kamal ny meer jafir jesy deen e islam kay ghadaroo jesa kridar ada kiya . ab es jesa insan pay tabsaraa koi mani nai rakhta bus wo islam ka ghadar tha thats it

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *