(26) مضامین قرآن (Abu Yahya ابو یحییٰ)

Download PDF
(مضامین قرآن 26)
دلائل نبوت و رسالت:ذاتی زندگی اور سیرت رسول 

ابو یحییٰ

ذاتی زندگی اور غیر معمولی سیرت 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نبوت کا اعلان کیا تو اس وقت آپ کی عمر مبارک چالیس برس تھی۔چالیس بر س کی یہ زندگی آپ نے کہیں اورنہیں یہیں اپنی قوم کے بیچ گزاری تھی۔ آپ اسی قوم کے مرکز ام القریٰ مکہ میں پیدا ہوئے۔ یہیں پلے بڑھے۔جنگ و امن کے قبائلی معاملات میں حصہ لیا۔تجارت کی۔ لوگوں کے ساتھ لین دین کے معاملات کیے۔ شادی کی اور بیوی بچوں کے ساتھ عائلی زندگی گزاری۔ چالیس برس قوم کے درمیان گزارنے کے بعد آپ نے اعلان نبوت کیا۔آپ کی یہ دعوت کسی اجنبی کی صدا نہیں بلکہ ایک جانی پہچانی شخصیت کی پکار تھی۔
یہ پکار ایک ایسی ہستی کی تھی جسے لوگ خود صادق اور امین کہتے تھے۔ جس کے حسن خلق کے سب معترف تھے۔ جس کی غریب پروری اور انسانی ہمدردی کے سب گواہ تھے۔ آپ وہ ہستی تھے جس کا دامن نہ کبھی بت پرستی سے آلودہ ہوا، نہ شراب اور بدکاری کے قریب سے کبھی آپ گزرے۔ امانت، دیانت، سچ، ایفائے عہد جیسی اعلیٰ صفات آپ کی زندگی تھیں۔ آپ کی بیوی آپ کی سب سے بڑی مداح تھیں۔ آپ کے دوست آپ کے سب سے بڑے ثنا خواں تھے۔ آپ کے غلام نبوت سے پہلے بھی آپ کی غلامی کو آزادی پر ترجیح دیتے۔
اس پاکیزہ اور اعلیٰ ہستی نے جب ایمان کی صدا بلند کی تو سب سے پہلے آپ کے قریبی لوگ اور رفقاء آپ پر ایمان لے آئے۔ ان میں آپ کی اہلیہ حضرت خدیجہ ،آپ کے قریبی دوست حضرت ابوبکر، خادم حضرت زید اور بیٹوں کی طرح ساتھ رہنے والے حضرت علی کا نام نمایاں ہے۔ ان تمام قریبی لوگوں کے ایمان لانے کی وجہ ایک طرف تو یہ تھی کہ آپ کی دعوت عقل و فطرت کے مسلمہ تقاضوں کے عین مطابق تھی۔ مگر اس کے ساتھ دوسری اہم تربات یہ تھی کہ جو ہستی یہ دعوت پیش کررہی تھی اس کی زندگی سیرت و کردار کا اعلیٰ ترین نمونہ تھی۔ان تمام لوگوں کے لیے یہ بات ناقابل تصور تھی کہ آپ معاذاللہ کوئی بات غلط کہیں۔ یہ معاملہ آپ کے قریبی لوگوں ہی کا نہیں تھا بلکہ تمام لوگوں کے نزدیک اعلان نبوت سے قبل ہی آپ صادق اور امین تھے اور یہ خطاب دوسرے لوگوں ہی نے آپ کو دیا تھا۔ آپ کی یہی سیرت آپ کی سچائی کا پہلا ثبوت تھی۔ اسی بنا پر لوگ آپ کی بات سننے پر مجبور ہوئے۔ ایک ایک کرکے لوگوں کی آنکھوں سے پردے اٹھتے گئے اور آخر کار سب لوگ آپ پر ایمان لے آئے۔
اس پاکیزہ اور اعلیٰ ہستی نے جب ایمان کی صدا بلند کی تو سب سے پہلے آپ کے قریبی لوگ اور رفقاء آپ پر ایمان لے آئے۔ ان میں آپ کی اہلیہ حضرت خدیجہ ،آپ کے قریبی دوست حضرت ابوبکر، خادم حضرت زید اور بیٹوں کی طرح ساتھ رہنے والے حضرت علی کا نام نمایاں ہے۔ ان تمام قریبی لوگوں کے ایمان لانے کی وجہ ایک طرف تو یہ تھی کہ آپ کی دعوت عقل و فطرت کے مسلمہ تقاضوں کے عین مطابق تھی۔ مگر اس کے ساتھ دوسری اہم تربات یہ تھی کہ جو ہستی یہ دعوت پیش کررہی تھی اس کی زندگی سیرت و کردار کا اعلیٰ ترین نمونہ تھی۔ان تمام لوگوں کے لیے یہ بات ناقابل تصور تھی کہ آپ معاذاللہ کوئی بات غلط کہیں۔ یہ معاملہ آپ کے قریبی لوگوں ہی کا نہیں تھا بلکہ تمام لوگوں کے نزدیک اعلان نبوت سے قبل ہی آپ صادق اور امین تھے اور یہ خطاب دوسرے لوگوں ہی نے آپ کو دیا تھا۔ آپ کی یہی سیرت آپ کی سچائی کا پہلا ثبوت تھی۔ اسی بنا پر لوگ آپ کی بات سننے پر مجبور ہوئے۔ ایک ایک کرکے لوگوں کی آنکھوں سے پردے اٹھتے گئے اور آخر کار سب لوگ آپ پر ایمان لے آئے۔
بخاری و مسلم میں یہ واقعہ بیان ہوا ہے کہ ابتدائے نبوت میں ایک روز کوہ صفا پر چڑھ کر آپ نے تمام قریش کو پکارا اور جب سب جمع ہوگئے تو ان سے دریافت کیا کہ اگر میں تم کو یہ خبر دوں کہ پہاڑ کے پیچھے شہسواروں کی ایک جماعت تم پر حملہ کرنا چاہتی ہے تو کیا تم مجھے سچا مانو گے؟لوگوں نے کہا کہ ہم نے آپ سے سچ ہی کا تجربہ کیا ہے۔ اس پر آپ نے اپنی دعوت ان کو دیتے ہوئے فرمایا کہ میں ایک سخت عذاب سے قبل تم کو خبردار کرنے بھیجا گیا ہوں۔جس پر ابو لہب نے آپ کو برابھلا کہا۔
قریش کے لوگ آپ کے اسی سیرت و کردار کی بنیاد پر آپ سے متاثر ہوجاتے تھے۔ گرچہ عرب کے سرداروں نے ابتدامیں آپ کی مخالفت کی، مگر آپ کی دعوت کی ابتدا سے انتہا تک ہر مخالف کے ذہن میں یہی بات تھی کہ جو شخص بندوں کے معاملے میں جھوٹ نہیں بول سکتا وہ خدا کے معاملے میں جھوٹ کیوں بولے گا۔اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہ تھا۔

نبی اُمی کی ذاتی زندگی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و زندگی کا ایک دوسرا پہلو یہ تھا جس سے تمام مخاطبین واقف تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے قبل کی اپنی تمام زندگی کسی شاعر، عالم، مذہبی یا سیاسی لیڈرکے طور پر نہیں گزاری ۔آپ نے جو کلام پیش کیا اس نے تمام عربوں کو لاجواب کرڈالا۔ مگر حال یہ تھا کہ آپ کو شعر کا کبھی ذوق رہا نہ اشعار کبھی یاد ہوا کرتے تھے۔نہ آپ نے زندگی میں کوئی دیوان لکھا نہ قصیدہ کہا۔نہ کبھی تُک بندی کی نہ سخن سازی کی کسی مشق کا شوق کبھی پیدا ہوا۔ مگر ایک روز اچانک آپ نے خدا کے نام پر ایک کلام پیش کرنا شروع کیاجس کی مثال اور نظیر پیش کرنے سے سارا عرب قاصر ہوگیا۔ ایک عام آدمی نے یہ معجزہ کیسے کردیا،اس کا جواب کسی مخالف کے پاس نہیں تھا۔
پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آپ کا تعلق ایک اُمی قوم سے تھا۔ یعنی عرب کے اسماعیلی جن کے ہاں دو ڈھائی ہزاربرس سے کوئی نبی یا رسول نہیں آیا تھا۔ کوئی الہامی کتاب موجود تھی نہ نبیوں کے صحائف ہی پڑھے پڑھائے جاتے تھے۔ مذہبی علم کی جو کچھ روایت تھی وہ یہود و نصاریٰ کے پاس تھی۔ ان کے ہاں بھی صرف علما ء اور فقیہہ ہی مذہبی کتب اور تاریخ کے امین تھے۔ عام لوگوں کی پہنچ کتابوں تک نہیں تھی۔ یہ پرنٹنگ پریس کا دور نہیں تھا کہ کتابیں بازاروں میں عام بکتی اور گھروں میں رکھی جاتی ہوں۔مذہبی ادب ہی نہیں عام لکھنے پڑھنے کی روایت بھی عربوں کے ہاں نہیں تھیں۔ عام عربوں کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لکھنا پڑھنا بھی نہیں جانتے تھے۔
مگر ایک روز آپ خدا کے نام پر گفتگو شروع کرتے ہیں۔اس کے بعد انبیا کی تاریخ کا کون سا واقعہ ہے جو زیر بحث نہیں آجاتا۔ آدم علیہ السلام سے لے کر نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام سے لے کر عیسیٰ علیہ السلام اور پھر ان کے بعد والوں کی بھی زندگی، تاریخ ، دعوت اور زمانے کے واقعات اور مکالمات ایسے بیان ہوتے ہیں جیسے کوئی سامنے بیٹھا یہ سب کچھ دیکھ رہا ہو۔جو قریش اور یہود و نصاریٰ کی پوری قیادت کے علم میں نہیں تھا، وہ بھی بیان ہوا۔ جو ان کے علم میں تھا اور کسی اور کے علم میں نہیں تھا، اس کو بھی کھول کررکھ دیا گیا۔ جو وہ بیان کرتے تھے اور غلط کرتے تھے، اس کی بھی تصحیح کردی گئی۔
مگر ایک روز آپ خدا کے نام پر گفتگو شروع کرتے ہیں۔اس کے بعد انبیا کی تاریخ کا کون سا واقعہ ہے جو زیر بحث نہیں آجاتا۔ آدم علیہ السلام سے لے کر نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام سے لے کر عیسیٰ علیہ السلام اور پھر ان کے بعد والوں کی بھی زندگی، تاریخ ، دعوت اور زمانے کے واقعات اور مکالمات ایسے بیان ہوتے ہیں جیسے کوئی سامنے بیٹھا یہ سب کچھ دیکھ رہا ہو۔جو قریش اور یہود و نصاریٰ کی پوری قیادت کے علم میں نہیں تھا، وہ بھی بیان ہوا۔ جو ان کے علم میں تھا اور کسی اور کے علم میں نہیں تھا، اس کو بھی کھول کررکھ دیا گیا۔ جو وہ بیان کرتے تھے اور غلط کرتے تھے، اس کی بھی تصحیح کردی گئی۔
سوال یہ ہے کہ مکہ کا ایک چالیس سالہ تاجر جس کی زندگی میں لکھنے پڑھنے کا کوئی گزر ہی نہیں، جو کبھی علماکے پاس بیٹھا نہ پیشواؤں کے در پر حاضر ہوا،وہ اچانک اس طرح کی گفتگو کیسے شروع کرسکتا ہے۔ یہ سوال اتنا فطری تھا کہ ہر شخص یہ سوال اٹھا تھا۔ جس پر عرب کے سرداروں نے لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے یہ شوشہ چھوڑا کہ کچھ عجمی غلام ہیں جو آکر آپ کو قصے کہانیاں سناتے ہیں اور آپ اسے بیان کردیتے ہیں۔ مگرقرآن یہ سوال کرتا ہے کہ کوئی عجمی غلام فصیح عربی میں یہ واقعات کیسے بیان کرسکتا ہے۔ چلو موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے واقعات کہیں سے سن بھی لیے توان واقعات کی وہ تفصیل کہاں سے بیان ہوسکتی ہے جو صرف یہودی علما جانتے ہیں۔ یہود نے امتحان لینا چاہا۔ ان قصوں کی حقیقت جاننا چاہی جوان کے چندعلماء کے سوا کسی کے علم میں نہیں تھے۔ ان کے سجھانے پر قریش نے سوال پوچھنا شروع
کیے۔ یوسف اور بنی اسرائیل فلسطین سے مصر کیسے پہنچے؟ذوالقرنین کون تھا؟ اصحاب کہف کون تھے؟
ان سوالات کا جواب قرآن مجید نے دیا۔اس طرح دیا کہ ہر شخص انگشت بدنداں رہ گیا۔ واقعات کو اتنی تفصیل سے بیان کیا گیا کہ لوگ حیران رہ گئے۔ قرآن مجید میں نہ صرف یہ واقعات تفصیل سے بیان ہوتے ہیں بلکہ جو تاریخی غلطیاں یہود نے کی ہیں اور جو خود ان کے علم میں بھی نہیں تھیں کہ یہ چیزیں بائبل ہی میں غلط لکھی ہوئی ہے اس کی بھی تصحیح کردی جاتی ہے۔ مثلاً حضرت یوسف کے قصے میں بائبل بیان کرتی ہے کہ اس زمانے میں وہاں فرعون حکمران تھا۔ جبکہ تاریخی طور پر یہ ایک غلطی ہے۔ اس دور میں وہاں عرب ہکساس یا چرواہے بادشاہ حکمران تھے۔ جن کا لقب فرعو ن نہ تھا۔ چنانچہ قرآن اس واقعے میں بادشا مصر کے لیے فرعون کا لفظ استعمال کرنے کے بجائے عزیز کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ جبکہ حضرت موسیٰ کے واقعے میں فرعون کا لفظ ہی استعمال کیا جاتا ہے۔
ایک طرف آ پ کے علم غیب کا یہ حال تھا۔ دوسری طرف قرآن مجید بار بار لوگوں کو متوجہ کرتا ہے کہ نبوت کے اس دائرے سے باہر آپ اپنی ذات کے لیے غیب کا کوئی ایسا علم نہیں رکھتے جس سے کوئی ذاتی منفعت حاصل کرلی جائے یاآپ کسی نقصان سے بچ سکیں۔ اگر کوئی شخص کسی طرح غیب کے علم اور معلومات پر متوجہ ہوجائے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ایک دائرے میں غیر معمولی علم کا مظاہرہ کررہا ہواور اپنی ذات کی حد تک یہ علم غیب اسے نہ کوئی نفع دے رہا ہواور نہ کسی نقصان ہی سے بچارہا ہو۔مگر آپ کے معاملے میں یہ عجیب و غریب واقعہ ظہور پذیر ہوا کہ نبوت کے پہلو سے آپ ہر چیز بتارہے ہیں اور عام آدمی کے پہلو سے اپنے نفع نقصان سے متعلق غیب کا علم نہیں رکھتے۔
ان سب کی توجیہ اس کے سوا کیا ہوسکتی ہے کہ آ پ اللہ کے سچے نبی تھے جن پر وحی اترتی تھی۔ یہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب اللہ نے اس اعلیٰ انسان کو نبوت ورسالت کے منصب کے لیے چن لیا ہو۔ جبرائیل کو وحی دے کر بھیجا اور اس کی زبانِ حق ترجمان پر قرآن کو جاری کردیا۔ اس کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں۔ چنانچہ حضور کی بے مثل سیرت اور آپ کی زندگی اس بات پر گواہ ہے کہ آپ ایک سچے نبی ہیں اور آپ پر اترنے والا کلام اللہ کا کلام ہے۔
قرآنی بیانات
’’کہہ دو اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو نہ میں اس کو تمہیں سناتا اور نہ وہ اس سے تمہیں باخبر کرتا۔میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر بسر کر چکا ہوں تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔‘‘
( یونس 16: 10)
’’اور تم تو اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اس کو اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے۔ ایسا ہوتا تو یہ جھٹلانے والے مین میکھ نکالتے۔‘‘ (عنکبوت48: 29) ’’جن لوگوں نے نبی کی بات ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ فرقان(قرآن) ایک من گھڑت چیز ہے جسے اس شخص نے آپ ہی گھڑ لیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس کام میں اس کی مدد کی ہے۔ بڑا ظلم اور سخت جھوٹ ہے جس پر یہ لوگ اتر آئے ہیں۔کہتے ہیں یہ پرانے لوگوں کی لکھی ہوئی چیزیں ہیں جنہیں یہ شخص نقل کراتا ہے اور وہ اسے صبح و شام سنائی جاتی ہیں۔‘‘ (فرقان4-5: 25) ’’اور ہمیں اچھی طرح علم ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کو تو ایک انسان سکھاتا ہے۔ اس شخص کی زبان جس کی طرف یہ منسوب کرتے ہیں عجمی ہے اور یہ فصیح عربی زبان ہے۔‘‘(نحل103: 16) ’’اور ہم نے اس(پیغمبر) کو شعر کی تعلیم نہیں دی ہے اور یہ اس کے شایان شان بھی نہیں۔ یہ تو بس یاد دہانی اور نہایت واضح قرآن ہے ۔‘‘،(یٰسین36:69) ’’کہہ دو، میں اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان پر کوئی اختیار نہیں رکھتا، مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا توخیر کا بڑا خزانہ جمع کر لیتا اور مجھے کوئی گزند نہ پہنچ پاتا۔ میں تو بس ان لوگوں کے لیے ایک ہوشیار کرنے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں جو ایمان لائیں۔‘‘ اعراف 188:7

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in مضامینِ قرآن | Tags , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *