(30) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

Download PDF

 

ترکی کا سفرنامہ (30) 

مبشر نذیر

ہمارے ہاں توہین رسالت کے قانون کا جس قدر غلط استعمال کیا گیا ہے، اس کے نتیجے میں ناموس رسالت کی پاسبانی کا فریضہ تو ہم کیا سرانجام دیتے ، ہم نے غیر مسلموں میں اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات والا صفات کے خلاف نفرت کا بیج اپنے ہاتھوں سے بویا ہے ۔ اس غلط استعمال کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ ذاتی جھگڑوں میں لوگ توہین رسالت کا غلط الزام لگا کر مخالف کو سزا دلوانے پر تل جاتے ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بے دین قسم کے لوگ اس قانون ہی کو ہدف بنا لیتے ہیں ۔

توہین رسالت ، بدکاری کے مقابلے میں ایک بہت ہی بڑا جرم ہے ۔ اگر کوئی کسی پر بدکاری کا غلط الزام عائد کرے تو اس کی سزا اسی کوڑے ہے ۔ عجیب بات یہ ہے کہ بدکاری سے کئی گنا بڑے جرم کا الزام عائد کرنے پر ہمارے ہاں کوئی سزا نہیں دی جا سکتی۔ اگر قانون کے اس غلط استعمال کو روکنے کی بات کی جائے تو مذہبی لوگ اپنی سیاسی دوکانداری چمکانے کے لئے میدان میں آ جاتے ہیں ۔ افسوس کہ ان کا سارا کاروبار ہی نفرت کی بنیاد پر چلتا ہے ۔ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔

اس معاملے میں ایک انتہا تو یہ ہے اور دوسری انتہا وہ ہے جس کی بدولت بے دین قسم کے لوگ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی شان میں گستاخی کرتے پھرتے ہیں ۔ اس تبصرے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ توہین رسالت کے قانون کو ختم کیا جائے ۔ اللہ کے کسی پیغمبر کے ساتھ کوئی شخص اگر گستاخی کا معاملہ کرے تو کسی بھی صاحب ایمان کی غیرت اسے گوارہ نہیں کر سکتی۔ اس قانون کو یقیناً برقرار رہنا چاہیے اور حکومت کے ذریعے اسے پوری قوت سے نافذ کیا جانا چاہیے تاکہ کسی کو ایسی جسارت کرنے کی جرأت نہ ہو سکے ۔ مگر اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ کوئی بددیانت انتہا پسند اس قانون کا غلط استعمال کرتے ہوئے کسی بے گناہ کو سزا نہ دلوا سکے ۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اسلامی قوانین بدنام نہ ہوں ۔

سامسن کا بازار

ناشتے سے فارغ ہو کر ہم بازار میں نکلے جو کہ ہوٹل کے گرد و نواح میں واقع تھا۔ یہ بازار پتلی پتلی گلیوں پر مشتمل تھا۔ عجیب بات یہ تھی کہ ان گلیوں میں بھی بسیں چل رہی تھیں ۔ یہاں گوشت کی کچھ دکانیں تھیں اور ان میں ذبح شدہ بکروں کو شو رومز میں کچھ اس طریقے سے ڈسپلے کیا گیا تھا جیسے یہ کوئی جدید فیشن کے ملبوسات ہوں۔ یہاں ایک عجیب چیز نظر آئی۔ قیمے کے سینگ نما لمبے لمبے رول گچھوں کی صورت میں شو رومز میں لٹکائے گئے تھے ۔ اسے غالباً کسی خاص ڈش میں استعمال کیا جاتا ہو گا۔

ایک دکان سے پھل خرید کر ہم گاڑی میں آ بیٹھے اور شہر سے باہر جانے والی سڑ ک کی طرف روانہ ہو گئے ۔ ایک صاحب سے ترابزن جانے والی سڑک کا پوچھا۔ انہوں نے ترکی زبان میں نجانے کیا تقریر شروع کر دی۔ خلاصہ یہ تھا کہ ساحل یولو پر چلے جائیے ۔ معلوم ہوا کہ یہاں بھی ساحل کو ساحل ہی کہا جاتا ہے۔ اب ہم پرانے شہر کی طرف جا رہے تھے ۔ ایک جگہ گاڑی روکی تو ہر طرف پرانے مکانات تھے ۔ ایک مکان کی بالکونی میں ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے جن کی عمر 80 سال کے لگ بھگ ہو گی۔ قریب ہی ان کی ہم عمر شریک حیات صفائی کر رہی تھیں اور پان کھانے کے انداز میں منہ چلا رہی تھیں ۔ دونوں کے چہروں پر ایک دوسرے کے لئے محبت کے تاثرات تھے ۔ کاش ایسا رومانس ہمارے ہر جوڑے کو نصیب ہو تو زندگی کتنی آسان ہو جائے ۔

بلیک سی کا پہلا نظارہ

مختلف سڑ کوں سے گھومتے ہوئے ہم بالآخر ساحل یولو پر آ پہنچے ۔ اب ہماری نظروں کے سامنے بلیک سی تھا جو واقعتاً سیاہ نظر آ رہا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس کا یہ رنگ بس یہیں تک محدود ہے ۔ آگے جا کر اس کا پانی نیلا ہی ہو جاتا ہے۔ یہاں بحری جہازوں کا ایک میوزیم بنا ہوا تھا جس میں متروک بحری جہازوں کو سجا سنوار کر کھڑ ا کر دیا گیا تھا۔ سامسن سے متعلق بروشرز میں یہاں مصطفی کمال کی ذاتیات سے متعلق ایک میوزیم کا ذکر بھی تھا جس میں ہمیں کوئی دلچسپی نہ تھی۔

ساحل کے ساتھ ساتھ چلتے ہم شہر سے باہر نکلتے گئے۔ اب ہم ترابزن کے بورڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے ساحل یولو پر سفر کر رہے تھے۔ ہمارے دائیں جانب سبزے سے ڈھکے ہوئے پہاڑ تھے اور بائیں جانب سمندر۔ یہ نظارہ ہمارے لئے نیا تھا کہ سمندر اور اتنا ڈھیر سا سبزہ ایک جگہ اکٹھا ہو۔

[جاری ہے ]

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *