(31) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

Download PDF

 

 ترکی کا سفرنامہ (31)

مبشر نذیر

آسمان پر گھنے بادل اکٹھے ہو رہے تھے ۔ اچانک ہی تیز بارش شروع ہو گئی۔ بارش میں سبز پہاڑ گویا نہا رہے تھے اور بارش کے یہی قطرات سمندر میں بھی تلاطم پیدا کر رہے تھے ۔ کچھ دور جا کر ہم سمندر سے دور ہونے لگے ۔ اب ہم سبز دریا کے اوپر سے گزر رہے تھے۔ یہ “چار شمبا” کا قصبہ تھا۔ یہاں لکڑی کی بنی ہوئی ایک مسجد تھی جس کا سن تعمیر 1206ء تھا۔ اس مسجد کا نام “گوک چیلی مسجد” تھا۔ اس کی خصوصیت یہ تھی کہ اس کی تعمیر میں دھات کا کوئی کیل استعمال نہ ہوا تھا۔

میں نے تو جیسے تیسے ناشتہ کر لیا تھا مگر میری اہلیہ اور بیٹی نے صحیح طور پر ناشتہ نہ کیا تھا۔ کسی متوقع ہنگامے سے بچنے کے لئے میں نے ایک پٹرول پمپ پر واقع ریستوران پر گاڑی روک دی۔ یہ ایک نہایت ہی خوبصورت مقام تھا۔ سبز پہاڑوں کے دامن میں کھیتوں کے درمیان یہ ریستوران بنا ہوا تھا۔ کھانے میں ترک کباب ملے جو کہ واقعتاً بہت مزیدار تھے ۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ہم کسی متوقع ہنگامے سے محفوظ رہے ۔

یہاں کے پٹرول پمپ پر گاڑیوں کی صفائی کا عجیب طریقہ نظر آیا۔ گاڑیوں کو دھونے کے بعد ایک اسٹیشن پر لایا جا رہا تھا جہاں بہت بڑے بڑے آٹومیٹک برش گھوم کر اس کی صفائی کر رہے تھے ۔

کھانا کھا کر ہم روانہ ہوئے ۔ اب ہم ساحل سے کچھ دور ہو چکے تھے ۔ اگلا شہر “انیے” تھا۔ یہاں سمندر سڑک کے بالکل ساتھ لگا ہوا تھا۔ ایک جگہ سڑک کے بیچ میں کوئی کام ہو رہا تھا اور ٹریفک کو ایک طرف کرنے کے لئے ایک پولیس اہلکار کسی پنجابی ہیرو کی طرح سینہ تانے اور ہاتھ میں گنڈاسے کی بجائے ڈنڈا پکڑے سڑ ک کے بیچ میں کھڑا تھا۔ یہ ایکسپریس وے تھی مگر عجیب بات یہ تھی کہ اس پر بھی جا بجا سگنل بنے ہوئے تھے ۔اس پوری سڑک کے نیچے سے گزر کر بہت سے مقامات پر بے شمار ندی نالے سمندر میں مل رہے تھے ۔ اسی تازہ پانی کی بدولت بلیک سی آباد تھا۔

سڑ ک کے ساتھ ساتھ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ہورڈنگز لگی ہوئی تھیں جن پر ایک نہایت ہی غمگین صورت صاحب کی تصویر تھی۔ ان کا نام احمد یلماز لکھا ہوا تھا۔ ان کی اس مغموم صورت نے پورے ترکی میں ہمارا پیچھا کیا۔ جہاں جہاں ہم گئے ، وہاں وہاں انہوں نے ہمارے استقبال کے لئے ہورڈنگز لگوا رکھی تھیں ۔ چونکہ یہ ہورڈنگز ترکی زبان میں تھیں، اس وجہ سے اندازہ نہیں ہو سکا کہ یہ صاحب کون ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ یہ ان کے کوئی سیاستدان وغیرہ ہوں گے ۔ بعد میں انٹرنیٹ پر تلاش کیا تو ڈھیروں احمد یلماز نکل آئے جن کی صورتیں اتنی غمگین نہ تھیں ۔

انیے سے باہر نکلتے ہی ایک اور عجیب منظر نگاہوں کے سامنے آیا۔ سڑک اور سمندر کے درمیان ایک سرسبز پٹی حائل ہو چکی تھی جس پر لوگوں نے کیمپنگ کی ہوئی تھی۔ اگلا شہر “فستا” تھا۔ یہاں سے سڑک سمندر سے ہٹ کر پہاڑوں کے بیچ میں جا رہی تھی۔ اب سرنگوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا۔ ہم ایک سرنگ سے نکلتے تو دوسری میں جا گھستے ۔ ہر سرنگ کے آغاز میں اس کی طوالت درج تھی۔ ایک سرنگ تو چار کلومیٹرطویل ثابت ہوئی۔ اس سے باہر نکلتے ہی ہماری آنکھیں چندھیا گئیں ۔ آج جمعہ کا دن تھا اور نماز کا وقت قریب آ رہا تھا۔ ہم لوگ اب اگلے شہر کے قریب پہنچ رہے تھے ۔

اردو میں نماز جمعہ

قارئین کے لئے یہ بات حیرت کا باعث ہو گی کہ ہم نے نماز جمعہ، اردو میں ادا کی۔ بے فکر رہیے ، ہم نے کوئی بدعت ایجاد نہیں کی۔ یہاں اردو سے مراد، اردو زبان نہیں بلکہ اردو شہر ہے ۔ اب ہم “اردو” شہر پہنچ چکے تھے جو کہ بلیک سی کے کنارے ایک صاف ستھرا خوبصورت شہر تھا۔ یہاں سمندر کے کنارے ایک مسجد بنی ہوئی تھی جہاں سے اذان کی صدا بلند ہو رہی تھی۔ مسجد کے قریب بہت سی گاڑیاں رکی ہوئی تھیں ۔ میں بھی وضو کر کے مسجد میں چلا گیا کیونکہ مجھے اللہ تعالی کی طرف سے عائد کردہ اہم ترین فریضہ انجام دینا تھا۔

ہمارے ہاں بعض لوگ نماز کی اہمیت کو کم کرنے کے لئے طرح طرح کے فلسفے ایجاد کرتے ہیں ۔ ہمارے ایک ملنے والے جو کہ امت مسلمہ کے مسائل پر فلسفے جھاڑنے کے بہت شوقین ہیں ، ایک دن عین نماز کے وقت اپنا وعظ شروع کر بیٹھے ۔ انہوں نے اپنے دفتر کا ایک واقعہ بیان کیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ لوگ نماز کو بہانہ بنا کر کام نہیں کرتے ۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ یہ دونوں انتہائیں ہیں ۔ بعض لوگ نماز کو بہانہ بنا کر کام چوری کرتے ہیں ، یہ ایک انتہا ہے جبکہ بعض لوگ نماز کو کم اہم سمجھتے ہوئے سرے سے اسے ادا ہی نہیں کرتے ۔ اللہ تعالی نے اپنے فرائض میں سب سے زیادہ اہمیت نماز ہی کو دی ہے ۔ہمیں ان دونوں انتہاؤں سے بچتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور نماز کے لئے حاضر ہونا چاہیے ۔

ترکی کی مساجد کا اندرونی حصہ بہت سے تیز رنگوں والے نقش و نگار سے مزین ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس سعودی عرب کی مساجد کا اندرونی حصہ سادہ رکھا جاتا ہے ۔ سعودی عرب کی طرح ترکی کی مساجد کا انتظام بھی حکومت کی جانب سے کیا جاتا ہے ۔

امام صاحب نے خطبہ ترکی زبان میں دیا جس کا کچھ حصہ عربی میں تھا۔ عربی حصے سے معلوم ہوا کہ خطبے کا موضوع رمضان کی تیاری اور شعبان کے فضائل تھے ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ترکی میں مساجد کے ائمہ کو اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے مگر وہ لوگ اس آزادی کا غلط استعمال نہیں کرتے اور اپنے خطبات میں فرقہ واریت پھیلانے کی بجائے معاشرے کی اصلاح کو اپنا موضوع بناتے ہیں ۔ تخلیقی عمل کے لئے آزادی اظہار کو کلیدی اہمیت حاصل ہے ۔ ایک تخلیقی شخص اس وقت تک اعلی درجے کی تخلیق نہیں کر سکتا جب تک کہ اسے اس بات کا یقین نہ ہو کہ میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں ، اسے کہنے کی آزادی مجھے حاصل ہے ۔

موجودہ دور میں مغربی ممالک اس معاملے میں ہم سے بہت آگے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس کا میدان ہو یا ادب کا، اعلی درجے کی تخلیقات ان ہی کے ہاں ہوا کرتی ہیں ۔ ان کے ہاں آزادی اظہار کا یہ عالم ہے کہ امریکی پالیسیوں کے سب سے بڑے ناقد نوم چومسکی کو امریکی شہریت حاصل ہے اور وہ وہاں آزادی سے رہ رہے ہیں ۔ ہم لوگ چونکہ اس میدان میں پیچھے ہیں ، اس وجہ سے ہمارے تخلیقی صلاحیت رکھنے والے افراد مغربی ممالک میں جا بسنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہاں انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع میسر ہوا کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام انسان کی اظہار رائے کی آزادی کا سب سے بڑا علمبردار ہے ۔ اس آزادی کی حدود یہ ہیں کہ ہم دوسروں کی آزادی میں دخل اندازی نہ دیں اور ان کی دل آزاری نہ کریں ۔

اردو ایک قدیم شہر ہے ۔ یہاں انسانی آبادی کے آثار 3000 قبل مسیح سے ملتے ہیں ۔ یہ علاقہ خاص قسم کے نٹس کی پیداوار کے لئے مشہور ہے جنہیں “ہیزل نٹس” کہا جاتا ہے ۔ ان کے لئے اردو زبان میں کوئی نام موجود نہیں ہے ۔ یہاں جولائی میں ان نٹس کی نمائش بھی ہوتی ہے جو اس وقت ختم ہو چکی تھی۔

[جاری ہے ]

Posted in Articles By Other Writers, Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *