(32) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

Download PDF

 

ترکی کا سفرنامہ (32) 

 مبشر نذیر

گائرسن

اردو سے اگلا شہر گائرسن تھا۔ یہ شہر سمندر کنارے سبز پہاڑوں پر واقع تھا۔ مین روڈ سے نکل کر ہم شہر میں داخل ہوئے ۔ ایک سڑک اوپر پہاڑ پر جا رہی تھی۔ میں نے گاڑی کو اس سڑک پر ڈال دیا۔ سڑک کا زاویہ بہت ہی گہرا تھا۔ ہمیں یوں محسوس ہو رہا تھا کہ گاڑی ابھی آگے سے اٹھ جائے گی اور پھر رول ہوتی ہوئی نیچے سمندر میں جا گرے گی۔ تھوڑی دیر میں ہم پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گئے۔ اب ایک نہایت ہی حسین نظارہ ہمارے سامنے تھا۔ ہمارے سامنے سمندر تھا جس کے بیچوں بیچ ایک سرسبز چٹان نکلی ہوئی تھی۔ آسمان پر گھنے بادل تھے اور ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ دور بادل گویا سمندر کو مس کر رہے تھے ۔

چوٹی پر بہت سے گھر بنے ہوئے تھے ۔ پہاڑ کے دوسری جانب گائرسن شہر تھا۔ چوٹی سے لے کر نیچے تک سرخ چھتوں والے گھر ہی گھر تھے ۔ ہر گھر کی چھت پر سولر پینل لگا ہوا تھا تاکہ شمسی توانائی سے بجلی پیدا کی جا سکے۔ نیچے ایک قبرستان تھا جس کی قبریں بالکل ہمارے طرز کی تھیں ۔

ایک جگہ گاڑی کھڑی کر کے ہم چٹان کے کنارے کی طرف بڑھے تاکہ یہاں سے سمندر اور گائرسن شہر کی تصویریں لی جا سکیں ۔ ادھر ایک ترک اماں اور ان کے دو بیٹے لکڑیوں کے گٹھے اٹھائے چلے آ رہے تھے ۔ ان سے سلام دعا ہوئی۔ انہیں بھی ہمارے پنجاب کے دیہاتیوں کی طرح ہمارے بارے میں بہت تجسس ہوا۔ اماں نے ایک لڑکے سے کچھ کہا اور وہ گھر کے اندر سے جا کر اپنی بہن کو بلا لایا۔ ان خاتون کو اچھی خاصی انگریزی آتی تھی۔ انہوں نے ہمارا انٹرویو کیا اور ہمیں چائے کی دعوت دی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی زبان میں یہ تفصیلات اپنی والدہ کے گوش گزار کر دیں تاکہ ان کا تجسس ختم ہو سکے ۔

ہم ان کا شکریہ ادا کر کے واپس مڑے اور ہائی وے پر واپس آ گئے۔ اب وہی منظر ہماری نگاہوں کے سامنے تھا۔ ہمارے دائیں طرف سبزے میں ڈھکے پہاڑ تھے اور بائیں جانب سمندر۔ آسمان پر سرمئی بادل تھے ۔ عجیب بات یہ تھی کہ یہاں بادل صرف خشکی پر تھے ۔ ساحل کے اوپر پہنچ کر بادل اس طرح ختم ہو رہے تھے جیسے کسی نے باقاعدہ چھری سے انہیں ساحل کے ساتھ ساتھ کاٹ دیا ہو۔

ٹائر بولو، آئی نیسل، چارشی باشی سے گزرتے ہوئے اب ہم ترابزن کے قریب پہنچ رہے تھے ۔ اچانک ایک بورڈ ہمارے سامنے آ گیا جس میں دائیں طرف تیر کا نشان دیا ہوا تھا اور بورڈ پر لکھا تھا: ’’سیرا گولو، 5 کلومیٹر۔‘‘ ہمیں چونکہ جھیلوں سے عشق تھا، اس وجہ سے ہم بھی اسی جانب چل پڑے۔ ہمارے ساتھ ساتھ ایک دریا چل رہا تھا جس میں اس وقت پانی کم تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم جھیل کے کنارے پہنچ گئے۔ یہ مٹیالے پانی کی جھیل تھی جو سرسبز پہاڑوں کے بیچ میں تھی۔ پہاڑوں پر سبزہ تو اچھا تھا مگر جھیل بہت زیادہ خوبصورت نہ تھی۔

ترابزن سے متعلق بروشرز میں ایک خوبصورت جھیل کی تصویر دی گئی تھی۔ میں نے بروشر نکالا تاکہ دیکھا جائے کہ یہ وہی جھیل ہے یا نہیں ۔ معلوم ہوا کہ وہ دوسری جھیل ہے جس کا نام ’’یوزن گولو‘‘ ہے ۔ یہاں کچھ ترک لڑکے کھڑے تھے۔ میں نے انہیں یوزن گولو کی تصویر دکھا کر اس کا راستہ پوچھا۔ وہ کہنے لگے ، ’’آپ دوبارہ ساحل یولو پر چلے جائیے ۔ ایک گھنٹے کے سفر کے بعد آپ کو اس کا بورڈ نظر آ جائے گا۔‘‘

جھیل سے ہم دریا کے ساتھ ساتھ سمندر کی جانب بڑھے ۔ ساحل یولو پر پہنچے تو یہ گولڈن دریا سمندر میں مل رہا تھا۔ جہاں تک اس کا پانی جا رہا تھا، وہاں سمندر کا رنگ مختلف تھا۔ یہ ’’اکچا آباد‘‘ کا قصبہ تھا۔ اب ہم ترابزن شہر میں داخل ہو رہے تھے ۔ پاکستان کی طرح ترکی کے بہت سے شہروں کے نام کے ساتھ ’’آباد‘‘ کا لاحقہ استعمال ہوتا ہے ۔ ان کے ہاں ایک اور لاحقہ ’’شہر‘‘ بھی استعمال ہوتا ہے جیسے اسکی شہر وغیرہ۔

ترابزن

ترابزن بلیک سی پر واقع ترکی کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے ۔ اس کا شمار بڑے شہروں میں ہوتا ہے ۔ یہ ایک قدیم شہر ہے جہاں انسانی آبادی کے آثار 7000 قبل مسیح سے ملتے ہیں ۔ یہاں 1263ء کا تعمیر کردہ مشہور ’’آیا صوفیہ‘‘ بھی واقع ہے جو استنبول کے آیا صوفیہ کی ایک شاخ ہے ۔ اس کی تفصیل ہم استنبول پہنچنے پر بیان کریں گے ۔

ترابزن آٹھویں صدی عیسوی یا دوسری صدی ہجری میں مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوا۔ یہ رومی سلطنت کی ایک اہم چھاؤنی تھی۔ مسلم دور میں ترابزن کو بین الاقوامی اہمیت حاصل ہوئی جب یہ ایک اہم تجارتی مرکز بن گیا۔ یورپ کی مصنوعات بذریعہ بلیک سی ترابزن میں لائی جاتیں اور یہاں سے یہ مال ایران کے راستے ہندوستان اور چین کی طرف بھیج دیا جاتا۔ اسی طرح ہندی اور چینی مصنوعات ترابزن سے بذریعہ سمندر یورپ اور روس پہنچائی جاتیں ۔

مشہور اطالوی سیاح مارکوپولو بھی اسی راستے سے چین کی طرف گئے تھے۔ چین میں طویل عرصہ گزارنے کے بعد واپسی پر وہاں کے بادشاہ نے ان کی ذمہ داری لگا دی کہ وہ ایک شہزادی کو ایران چھوڑ دیں جس کی شادی ایران کے بادشاہ سے طے پائی تھی۔ ایک طویل بحری سفر کے بعد جب یہ قافلہ ایران پہنچا تو معلوم ہوا کہ بوڑھے بادشاہ سلامت جہان فانی سے گزر گئے ہیں ۔ یقیناً اس کا علم ہونے پر مارکوپولو کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ہو گی کہ اب شہزادی کو واپس پہنچانے کے لئے دوبارہ چین جانا پڑے گا۔ اس وقت ان کی خوش قسمتی آڑے آئی اور ابا جان کی بجائے، اس کے بیٹے نئے بادشاہ کو چینی شہزادی پسند آ گئی۔ اس نے شہزادی سے شادی کر لی۔ مارکوپولو نے جان چھوٹنے پر یقیناً خدا کا شکر ادا کیا ہو گا۔ اس کے بعد ایران سے مارکوپولو ترابزن پہنچے اور بحری جہاز میں بیٹھ کر اپنے وطن روانہ ہوگئے ۔

انیسویں صدی میں اس علاقے پر کچھ عرصے کے لئے روس کا قبضہ بھی رہا ہے جو بعد میں عثمانی افواج نے چھڑ ا لیا۔ اس زمانے میں روسی افواج نے مختلف ممالک میں جنوب کی طرف پیش قدمی کی تھی۔ بحیرہ کیسپین کے دوسری جانب انہوں نے ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان اور کرغیزستان پر قبضہ کیا اور بحیرہ کیسپین او راسود کے درمیان جارجیا، آذر بائیجان ، آرمینیا اور ترکی پر فوج کشی کی۔

سڑ ک سے ترابزن شہر کی قدیم فصیل نظر آ رہی تھی جو سیاہ رنگ کے پتھروں سے بنی ہوئی تھی۔ یہاں ساحل یولو پر ٹریفک کافی جام تھا۔ یہاں سے نکل کر ہم مزید آگے بڑھتے چلے گئے ۔ اب تک ساحل کے ساتھ ساتھ ہم مشرق کی جانب سفر کرتے آئے تھے مگر اب سڑ ک ساحل کے ساتھ ساتھ شمال کی طرف رخ کر رہی تھی۔ ترابزن سے باہر نکلتے ہی ہمیں تیز بارش نے آ لیا۔ ہم جدہ میں بارش نہ ہونے کے باعث اس نعمت سے ترسے ہوئے تھے ۔ میں نے فوراً گاڑی روکی اور باہر نکل کر بارش میں نہانے کو انجوائے کرنے لگا۔ ماریہ بھی باہر نکل آئی۔ موسلا دھار بارش میں بلیک سی خوبصورت منظر پیش کر رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ میں اتنا گیلا ہوتا کہ گاڑی خراب ہوتی، میں واپس آ کر بیٹھ گیا۔

یوزن گولوکا پہلا نظارہ

کچھ دیر بارش سے لطف اندوز ہونے کے بعد ہم آگے بڑھے ۔ ترابزن کے بعد “یومرا “اور “اراکلی” کے قصبے آئے ۔ اس کے بعد ہم لوگ “آف” پہنچ گئے ۔ یہاں پہاڑوں کی جانب “یوزن گولو “کی طرف راستہ نکل رہا تھا۔ سڑک کے ساتھ ساتھ ایک پختہ کناروں والا نالہ بہہ رہا تھا۔ ہم اس نالے کے ساتھ والی سڑک پر ہو لئے ۔ تھوڑ ی دور جا کر پختہ کنارے ختم ہو گئے ۔ اب ہم ایک شور مچاتے ہوئے تیز دریا کے ساتھ ساتھ سفر کر رہے تھے ۔ اس دریا کو ہم دریائے سوات سے تو نہیں البتہ وادی کاغان کے دریائے کنہار سے تشبیہ دے سکتے ہیں ۔

دریا کے دونوں جانب کافی بلند سرسبز پہاڑ تھے۔ ان پہاڑوں کی خصوصیت یہ تھی کہ یہاں بلندی پر زمین ہموار کر کے چائے کے باغات لگائے گئے تھے ۔ یہ ترابزن کی مشہور چائے تھی۔ تھوڑ ی دور جا کر “چیکارہ” کا قصبہ آیا۔ قصبے کے قریب ہی ایک خوبصورت منظر ہماری نگاہوں کے سامنے تھا۔ پتلی سی ایک آبشار نالے کی صورت میں پہاڑ سے گر رہی تھی۔ اس کے اوپر چھوٹا سا پل بنا کر سڑک کو گزارا گیا تھا۔ اس سے سو میٹر کے فاصلے پر ایک بہت بڑی آبشار دریا میں گر رہی تھی۔ جہاں آبشار دریا میں گر رہی تھی، وہاں پر دریا کے دوسرے کنارے گھنے درخت تھے۔ ان ہرے بھرے درختوں کے درمیان عین دریا کے کنارے ایک ٹنڈ منڈ سا خشک درخت کھڑا تھا۔ ہدایت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ بعض لوگ اللہ کے پیغمبر کے زمانے میں ہوتے ہوئے بھی ہدایت سے محروم رہ جاتے ہیں ۔

ہم کچھ دیر کے لئے یہاں رک گئے ۔ گاڑ ی کا تھرما میٹر اب 14 ڈگری سینٹی گریڈ کا اعلان کر رہا تھا۔ باہر نکلے تو کافی سردی محسوس ہوئی۔ میں نے ڈگی کھول کر گرم فل شرٹ نکالی اور اپنی ٹی شرٹ کے اوپر پہن لی۔ کچھ دیر آبشار کی قدرتی موسیقی سے لطف اندوز ہونے کے بعد ہم آگے روانہ ہوئے ۔

 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *