(32) مضامین قرآن (Abu Yahya ابو یحییٰ)

Download PDF

 مضامین قرآن (32)

ابو یحییٰ

دین کی بنیادی دعوت

دین کی بنیادی دعوت کے ضمن میں ہم نے یہ دیکھا کہ دعوت عبادت رب وہ بنیادی پیغام ہے جو قرآن مجید اپنے قارئین کے سامنے رکھتا ہے۔ اس کا ایک پہلو وہ ہے جس پر ہم پیچھے تفصیل سے گفتگو کر چکے ہیں کہ قرآن مجید ایک اللہ پر ایمان اور اس کی بندگی کی دعوت دیتا ہے۔ لیکن یہ دعوت کسی طور پر منوائی نہیں جا سکتی جب تک کہ یہ بات پوری شرح و وضاحت اور وثوق کے ساتھ واضح نہ کر دی جائے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو معبود سمجھنا، اس کی بندگی میں کسی پہلو سے کسی کو شریک قرار دینا ایک غلط اور بے بنیاد رویہ ہے۔ یہی دعوتِ عبادت رب کا وہ دوسرا پہلو ہے جس پر ذیل میں ہم تفصیل سے گفتگو کریں گے ۔

غیر اللہ کی عبادت اور شرک کی نفی

قرآن مجید اس بات کو جگہ جگہ بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اس دنیا میں اپنی ذات کا شعور فطری اور تاریخی دونوں پہلوؤں سے دے کر بھیجا ہے۔وجود باری تعالیٰ کے دلائل کے ضمن میں ہم بیان کر چکے ہیں کہ عہد الست کے موقع پر انسانوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار کیا تھا۔ اس کے ساتھ موجودہ شکل میں انسان کی تخلیق کرتے وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم و حوا کو باقاعدہ اپنی ذات سے متعارف کروا کر اس دنیا میں بھیجا تھا۔ حضرت آدم کو مخاطبت کا شرف عطا کر کے منصب نبوت پر بھی فائز کیا گیا۔ یوں انسانوں کی ابتدائی نسلوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا وجود ایک فطری اور تاریخی سچائی تھی۔

تاہم اس کے ساتھ قرآن مجید یہ بھی واضح کرتا ہے کہ تخلیق آدم کے بعد شیطان نے جو کہ ابلیس نام کا ایک جن تھا، اللہ کے حکم کے باوجود نہ صرف ان کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا تھا بلکہ یہ چیلنج بھی دیا تھا کہ شیطان کو اگر مہلت دی جائے تو وہ انسانوں کی اکثریت کو رب کی ناشکری اور خاص کر شرک میں مبتلا کر کے دم لے گا۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں ہر دور میں انسان شرک کے مرض کا شکار ہوتے رہے ہیں اور ایک اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کو اپنی محبت، عبادت، اطاعت کا محور و مرکز بناتے رہے ہیں۔ چنانچہ زمانہ قدیم ہی سے یہ مرض تمام دنیا میں پھیل گیا۔ ہر قوم اورہر گروہ اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کو معبود بناتی رہی۔ کچھ انسانوں کے مفادات اور باقی انسانوں کے توہمات کے باطل نکاح سے شرک کے بندھن نے جنم لیا۔ پھر اس حرام کاری کے نتیجے میں باطل معبودوں کی ایک دنیا وجود میں آئی۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ دنیا کی ہر چیز معبود بنالی گئی۔ انسانوں نے اپنے جیسے انسانوں کو حکمرانوں کی شکل میں خدا کا اوتار اور صالحین کی شکل میں خدا کا ولی قرار دے کر ان کی پرستش کی۔گائیں اور سانپ سے لے کر بندر اور ہاتھی تک کو مقدس ٹھہرالیا گیا۔ حیوانوں کی دنیا سے نیچے اتر کر پیپل اور برگد کو قابل تعظیم سمجھا گیا۔ زمین کی مخلوق سے لے کر آسمان کے چاند سورج اور تاروں سب کی عبادت کر ڈالی۔ انسان پھر اس سے بھی نیچے اترا اوربے جان پتھروں کے سامنے جبین نیاز ٹیک دی۔ یہ بت پرستی تو ایک عالمگیر مذہب بن گئی جو آج کے دن تک اربوں انسانوں کا دین ہے۔ جب مظاہر کی دنیا سے تسکین نہ ملی تو نظر نہ آنے والی ہستیوں کی عقیدت کا بخار اٹھا۔ فرشتوں کو خدا کی بیٹیا ں بنالیا گیا۔ جنوں کو رب کا شریک قرار دیا گیا۔ مرنے والوں کی روحوں کو خدا کی خدائی میں حصہ دار سمجھا گیا۔ اور جس ہستی نے انسان کو اس کام پر لگایا یعنی اس کا دشمن شیطان، انسان نے اسی کو معبود بنالیا۔

یہ سلسلہ عبادت تک ہی نہ رکا بلکہ معبودان باطل کے نام پر سیاسی اور مذہبی لیڈر شپ نے توہمات کی ایک دنیا آباد کی۔ اس دنیا کے اپنے قوانین تھے اور اپنی شریعت تھی۔ اپنی عبادت اور رسوم تھیں ۔ اپنے مناسک اور اپنے مراسم تھے۔ ان کی پابندی اور اطاعت ایسے ہی ہوتی تھی جیسے اللہ کے حکم کی ہونی چاہیے۔ اس مشرکانہ قانون سازی کے نتیجے میں انسان انسانوں کے غلام بنے۔ لوگوں کی جان، مال، آبرو برباد ہوئی۔ دنیا ظلم اور فساد سے بھرگئی۔ اس کے نتیجے میں انسانوں نے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا ظلم اپنے اوپر ڈھایا۔ اسی لیے شرک ظلم عظیم قرار پایا۔

یہ تھی شرک کی وہ قدیم دنیا جس میں ہر سو غیر اللہ کی عبادت ہوتی تھی۔ چنانچہ اس دنیا میں بار بار پیغمبروں کو بھیجا گیا۔ یہ پیغمبر ایک طرف خدا کی بندگی کی دعوت دیتے اور دوسری طرف خدائی کے شریکوں کی بے وقعی کو واضح کرتے۔ قوم ان کا انکار کرتی اور آخر کار اللہ کے غضب کا شکار ہو کر تباہ ہو جاتی۔ بچنے والے اہل ایمان نئے سرے سے توحید پر زندگی کا آغاز کرتے مگر صدیوں کے تعامل سے وہی شرک دوبارہ زندگی میں پھیل جاتا۔ یہاں تک کہ قرآن مجید آخری پیغمبر پر نازل ہونا شروع ہوا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ہر ہر پہلو سے اس بات کو واضح کیا اللہ کے سواکوئی معبود نہیں۔ جو معبود سمجھے جاتے ہیں وہ بے جان پتھر ہیں جو ایک مکھی کا بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتے نہ اسے تخلیق کرسکتے ہیں۔ یہ معبود کیسے ہو سکتے ہیں؟ یہ معبودان باطل وہ اجرام فلکی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوکر صبح و شام گردش میں ہی۔ جو خود تابع ہیں اور وقفے وقفے سے ڈوبتے رہتے ہیں۔ یہ معبود کیسے ہو سکتے ہیں؟ یہ جھوٹے معبود وہ مرنے والے ہیں جن کو خود نہیں معلوم کہ وہ کب زندہ کیے جائیں گے۔ جو نہ دیکھ سکتے ہیں نہ سن سکتے ہیں۔ یہ معبود کیسے ہو سکتے ہیں؟ یہ معبود وہ جن و ملک ہیں جن کا خدائی میں کوئی حصہ ہے نہ ان میں سے کوئی یہ جرات کرسکتا ہے کہ خدا کے علاوہ رب ہونے کا دعویٰ کرے۔ یہ معبود کیسے ہو سکتے ہیں؟ کوئی انسان، کوئی جن، کوئی فرشتہ، کوئی بت، کوئی سورج، چاند اور تارا، کوئی شجر، حجر یا حیوان، کوئی زندہ یا کوئی مردہ نہ معبود بننے کی قدرت رکھتا، نہ طاقت رکھتا ہے، نہ دعویٰ کرسکتا ہے نہ دعویٰ کر کے اسے نبھا سکتا ہے کہ وہ معبود برحق ہے۔ ہم نے اس بات کے استدلالی پہلو کو توحید کی دلیل قدرت کے ذیل میں معبودان باطل کے عجز کے عنوان سے تفصیل سے واضح کیا ہے ۔

قرآن مجید استدلال کے ساتھ اس بات کی بھی وضاحت کرتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کا حق نہیں کہ اس کی عبادت کی جائے۔ اس کی پرستش کی جائے۔ ایک معبود کی حیثیت میں کسی کی اطاعت نہیں کی جا سکتی۔ کسی کے اذن پر حلال و حرام اور جائز و ناجائز کا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ مافوق الفطرت مدد کی امید پر کسی کے سامنے مشکلات سے بچنے اور کسی بھلائی کی امید پر دست سوال دراز نہیں کیا جا سکتا۔ نفع وضر ر کے لیے کسی سے دعا نہیں مانگی جا سکتی۔ کسی کی خوشنودی کے لیے اس کے حضورنذر نہیں گردانی جا سکتی۔ کسی کا نام لے کر مویشیوں کو ذبح نہیں کیا جا سکتا۔

قرآن نے یہ بھی بالکل قطعیت کے ساتھ واضح کیا کہ گنا ہوں میں سب سے بڑا گناہ شرک ہے۔ یہ ظلم عظیم ہے۔ اللہ تعالیٰ جس گناہ کو چاہیں جس کسی کے لیے چاہیں معاف کر دیں، مگر شرک ناقابل معافی جرم ہے۔ یہ وہ جرم ہے جس کی سزا ابدی جہنم ہے ۔

کسی کو اللہ کے حوالے سے کوئی غلط فہمی ہے تو وہ سن لے۔ اللہ یکتا ہے۔ اس جیسا کوئی نہیں ۔ نہ کوئی اس کا باپ، نہ بیٹا، نہ بیٹی نہ بیوی۔ اس کی خدائی اور اختیارات میں کوئی شریک نہیں ۔ کائنات کی تخلیق اوراس کے چلانے میں اسے کسی کی مدد درکار نہیں۔ وہ سراپا قدرت ہے جبکہ ہر غیر سراپا عجز ہے۔ وہ سراپا عطا ہے۔ جبکہ ہر غیر سراپا احتیاج ہے۔ وہ ہر شے سے باخبر ہے۔ جبکہ ہر غیر صرف اس کے دیے ہوئے علم تک جانتا ہے۔ وہ ہر جگہ حاضر مگر زمین و آسمان سے ماورا ہے۔ جبکہ ہر غیر زمان و مکان کا قیدی ہے۔ اسے کسی کی ضرورت نہیں۔ مگر سب کو اس کی ضرورت ہے۔ سب مرجائیں گے وہ زندہ رہے گا۔ وہ اپنی ذات میں محمود، ہر جگہ موجود، ہر ضعف سے ناآشنا اور ہر تصور سے جدا ہے ۔ سراپا جمال، سراپا کمال، سراپا جلال۔ اول، آخر، ظاہر، باطن۔ سراپا قدرت سراپا کرم۔ کوئی ہے ایسا خدا؟ کوئی ہے اس کے ساتھ شریک؟ کوئی ہے تخلیق کائنات یا تدبیر امور میں اس کا ساجھی؟ اس سا ہے تو سامنے آئے۔ اور اگر نہیں اور بلاشبہ نہیں ہے تو جان لینا چاہیے کہ وہی اللہ معبود برحق ہے۔ اس کے بالمقابل یا اس کے ساتھ کسی شجر وحجر، انسان وحیوان، جن و مَلَک، اجرام فلکی غرض کسی بھی ہستی کو بندگی و استعانت کا مرجع اور نفع و ضرر کا مالک سمجھ کر اس کا رخ نہ کیا جائے۔ نہ اس کی عبادت کی جائے نہ اسے پکارا جائے۔ ایک اللہ کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہ کبھی تھا، نہ ہے اور نہ کبھی ہو گا۔

لا الہ الا اللہ۔اللہ اکبر ۔ وللہ الحمد۔ سبحان اللہ عما یشرکون۔

Posted in مضامینِ قرآن | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *