(33) مضامین قرآن – (Abu Yahya ابو یحییٰ)

مضامین قرآن (33)

ابو یحییٰ

دین کی بنیادی دعوت: ذات باری تعالیٰ

ہم دین کی بنیادی دعوت کے ضمن میں پہلے موضوع کا احاطہ کر چکے ہیں۔ یعنی دعوت عبادت رب۔ اب ہم اس حوالے سے دوسرے موضوع کی طرف بڑھتے ہیں۔یہ دوسرا موضوع اللہ تعالیٰ کی ہستی کا وہ تعارف ہے جو قرآن مجید انسانیت کو کراتا ہے۔

تعارف رب

قرآن مجید انسان کو جس پروردگار کی عبادت کی دعوت دیتا ہے، اس کے بارے میں جاننا انسان کی ایک فطری خواہش ہے۔ یہ خواہش اپنی جگہ گرچہ بالکل جائز ہے، مگر اس اعتبار سے بہت نازک ہے کہ انسان اپنے مادی وجود کی بنا پر چیزوں کو مادی جسم، مادی شخصیت اور مادی خصوصیات کے ساتھ ہی سمجھنے کا عادی ہے۔ وہ چیزوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا، اپنے کانوں سے سنتا اور اپنے حواس سے انھیں اپنی عقل کی گرفت میں لیتا ہے۔ مادیت سے بلند بھی ہو جائے تو انسان ان تصورات سے باہر نکل کر نہیں سوچ سکتا جو مخلوقات کا خاصہ ہیں۔ جیسے انسان موت و حیات اور آغاز و اختتام جیسے تصور سے کبھی بلند نہیں ہو سکتا۔ اس پس منظر کے انسان کو ایک ایسے خدا سے متعارف کرانا جو نہ صرف مادی خواص سے بلند ہو بلکہ ان عوارض سے بھی بالکل منزا ہو جو مخلوقات کا عمومی خاصہ ہوتی ہیں، ایک نازک اور مشکل مرحلہ ہے۔

قرآن مجید نے انسان کی ان خلقی کمزوریوں کی بنا پر یہ راستہ اختیار کیا ہے کہ اللہ کیا ہے اور کیسا ہے جیسے سوالوں کے بجائے اللہ کیا کرتا ہے اور مخلوق سے کیسے متعلق ہوتا ہے جیسے سوالوں کا جواب زیادہ تفصیل سے دیا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید نے تعارف رب کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی سنن اور حکمتوں ہی کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ تاہم اس کے باوجود انسان کی یہ خواہش اپنی جگہ پھر بھی باقی رہتی ہے کہ وہ ذات باری تعالیٰ کو جانے اور اسے سمجھے۔ چنانچہ قرآن مجید اس سوال سے بھی مکمل پہلو تہی نہیں کرتا اوراس حوالے سے بھی کچھ بالکل بنیادی باتیں بیان کرتا ہے۔ چنانچہ اس اعتبار سے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی ہستی کا تعارف تین پہلوؤں سے کرایا گیا ہے۔ یعنی ذات باری تعالیٰ، صفات باری تعالیٰ اور اس کی وہ سنن اور حکمتیں جو اس کائنات میں روبہ عمل ہیں۔ سب سے پہلے ہم ذات باری تعالیٰ کے حوالے سے قرآن مجید کے بیانات کی روشنی میں یہ سمجھیں گے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی ذات کے حوالے سے اس کا کیا تعارف کراتا ہے۔

ذات باری تعالیٰ: غلط تصورات کی تصحیح

قرآن مجید میں ذات باری تعالیٰ کو زیر بحث لانے کی وجہ، جیسا کہ پیچھے بیان ہوئی یہ تھی کہ یہ انسانوں کی ایک فطری ضرورت ہے، لیکن اس کی ایک زیادہ اہم دوسری وجہ یہ تھی کہ انسانوں نے ہر دور میں اپنی اس فطری ضرورت کا جواب خود ہی دینے کی کوشش کی اور غلط فہمیوں اور گمراہیوں کی ایک دنیا آباد کر لی۔ ان میں سب سے بنیادی غلطی یہ تھی کہ انسانوں نے اللہ تعالیٰ کو جب اپنی خلقی اور مادی محدودیتوں کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی تو اسے اپنے جیسا بنا ڈالا اورلاعلمی اور جہالت میں مخلوق کی بہت سی خصوصیات اس کے حوالے سے بیان کرنا شروع کر دیں۔ چنانچہ ذات باری تعالیٰ کے حوالے سے قرآن مجید کا اصل زور اس بات پر نہیں کہ اللہ تعالیٰ کیا ہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ وہ کیا نہیں ہیں۔

خدائے سبحان، خدائے احد

قرآن مجید اس بات کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک ہیں۔ ہر اس منفی تصور سے جو انسانوں نے ان کے حوالے سے محض ظن و گمان اور اندازے و قیاس کی بنیاد پر قائم کر رکھا ہے۔ اس کی وجہ قرآن مجید یہ بیان کرتا ہے کہ ان کی ذات کسی بھی دوسری ہستی سے ہر اعتبار سے بالکل جدا اور بلند ہیں۔ وہ اپنی ذات میں بالکل یکتا، تنہا اور منفرد ہیں۔ کوئی ان جیسا نہیں۔ نہ وہ کسی اور کے جیسے ہیں۔ اس لیے اس بات کا کوئی سوال ہی نہیں کہ ان کو کسی اور جیسا قیاس کر کے اس کی خصوصیات اللہ تعالیٰ کے حوالے سے بیان کی جائیں۔ قرآن مجید ان کا دوسروں سے تعلق اس طرح بیان کرتا ہے کہ وہ خالق ہیں اور باقی تمام موجودات مخلوق ہیں۔ مخلوق ہونا ایک کمتر درجہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ میں مخلوق کی کوئی کمزوری نہیں پائی جاتی ہے۔ ہاں مخلوقات ان کی قدرت کا ظہور ہیں اور اگر مخلوق میں کوئی خوبی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی اپنی خوبیوں کا ظہور ہے۔

چنانچہ اس پس منظر میں قرآن واضح کرتا ہے کہ کسی بھی تشبیہ، تمثیل یا استعارے سے خدا کی ذات کو سمجھایا یا سمجھا نہیں جا سکتا۔ انسان جس جس تصور سے کسی مخلوق کی ذات سے واقف ہو سکتا ہے یا اسے سمجھ سکتا ہے اللہ تعالیٰ کی ذات ان تمام تصورات سے بہت بلند ہے۔ مثلاً ہر مخلوق کسی نہ کسی سے پیدا ہوئی ہوتی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ بہت سی مخلوقات اپنی نوع کی بقا کے لیے اپنے جیسے مزید وجود پیدا کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ہستی اپنی ذات سے کسی اور کو جنم نہیں دیتی چنانچہ اس کا کوئی بیٹا اور بیٹی نہیں ہے۔ مخلوقات جوڑوں کی شکل میں صنف مخالف سے مل کر مکمل ہوتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں بالکل یکتا ہیں اس لیے ان کی کوئی بیوی نہیں ہے۔ مخلوق اپنی بقا کے لیے کھانے پینے کی محتاج ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کو کھانے پینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہر مخلوق فنا ہوجاتی ہے یا فنا کے خطرے سے دوچار رہتی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ ہمیشہ باقی رہنے والے ہیں۔ مخلوق کا کوئی نہ کوئی آغاز ضرور ہوتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے موجود ہیں۔ ہر مخلوق مشکل اور کمزوری سے دوچار ہوکر کسی سہارے کی متلاشی ہوتی ہے، مگر وہ ہر سہارے اور ساتھی کی ضرورت سے بلند ہیں۔ غرض جس جس پہلو سے مخلوق کی ہستی کو سمجھا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ ہر اس پہلو سے بالکل مختلف ہیں۔ وہ احد ہیں یعنی اپنی ذات میں یکتا اور بالکل منفرد ہیں۔ وہ الحی ہیں، اپنی ذات میں زندہ ہیں ان کو کسی نے زندگی نہیں دی۔ وہ القیوم ہیں۔ وہ اپنے وجود کی بقا کے لیے خود ہی کافی ہیں۔ وہ الغنی ہیں یعنی وہ کسی پہلو سے کسی کے بھی محتاج نہیں ہیں۔ وہ الاول ہیں یعنی وہ کبھی پیدا نہیں ہوئے۔ وہ الآخر ہیں یعنی وہ کبھی فنا نہیں ہوں گے۔ وہ الظاہر ہیں یعنی کارخانہ قدرت اپنی ہستی میں ان کے ہونے کا اظہار ہے۔ وہ الباطن ہیں یعنی جہاں کسی مخلوق کی رسائی نہیں، وہ وہاں بھی ہوتے ہیں۔

خدا کی دید اور غیب کا پردہ

خدا کو سمجھنے کے ساتھ اسے دیکھنے کی خواہش بھی انسانی طبیعت کا ایک حصہ ہے۔ اس لیے قرآن مجید نے اصول میں بھی اس کو واضح کیا کہ نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں اور ایک جلیل القدر پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے میں تفصیل سے بھی اس کو واضح کیا کہ انسان تو کیا پہاڑ جیسی پرہیبت مخلوق بھی اس کی تجلی کی تاب نہیں لا سکتی۔ انسانوں کو ان کے پروردگارپر ایمان کے جس امتحان میں ڈالا گیا ہے اس کی سب سے کٹھن منزل یہی ہے کہ اسے غیب میں رہتے ہوئے ایمان لانا ہو گا۔ نہ صرف ایمان لانا ہو گا بلکہ خدا کی عبادت و اطاعت کی راہ میں چلنے پر جو مزاحمتیں پیش آئیں گی، ان میں اسے ثابت قدم رکھنے کے لیے سب سے بڑا سہارا یہ ہو گا کہ خدائے رحمن سے بن دیکھے ڈرنے والا ہو۔ خدا کبھی نظر نہیں آئے گا۔ وہ کبھی حواس کی گرفت میں نہیں آ سکتا۔ وہ کبھی براہ راست محسوس نہیں ہو سکتا۔ اس لیے جسے اسے ماننا ہے بن دیکھے اور بالواسطہ شواہد کی بنیاد پر اسے مانے۔ اس کے اور انسان کے بیچ غیب کا جو پردہ حائل ہے وہ روز قیامت سے قبل نہیں اٹھ سکتا۔

خالق: مخلوق سے بالکل جدا ایک الگ شخصیت

اللہ تعالیٰ کی ذات سے منسوب کردہ یہی وہ غلط فہمیاں تھیں جنھوں نے ہر دور میں شرک کو جنم دیا اور غیر اللہ کی عبادت کے تصور کو عام کیا۔ خداکے بیٹے، بیٹیاں، بیویاں، اوتار اور ان کے بت اسی بنیاد پر تراشے گئے۔ چنانچہ قرآن مجید نے اللہ تعالیٰ کے حوالے سے ان ساری غلط فہمیوں کو دور کر کے ان کے تصورات کی جڑ ہی کاٹ دی۔ تاہم جس طرح کچھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ غلط فہمی لاحق ہوئی کہ وہ مخلوق جیسے ہیں اسی طرح کچھ اور لوگوں کو یہ غلطی لاحق ہوئی کہ مخلوقات اللہ تعالیٰ کی اپنی ذات کا ظہور ہیں۔ خدا پوری کائنات میں جاری و ساری اور ہر شے میں موجود ہے۔ خالق و مخلوق کوئی جدا اور الگ وجود نہیں۔ اگر کوئی دوئی نظر آ رہی ہے تو وہ نظر کا دھوکہ ہے یا مادیت کا فریب ہے۔ انسان قطرہ ہے اور خدا سمندر۔ اس مادی جامے میں یہ قطرہ اپنی اصل یعنی سمندر سے دور ہو چکا ہے چنانچہ اس کی زندگی کا اصل مقصد یہی ہے قطرہ سمندر سے وصال کی جستجو کرے۔ یہ تصور تمام متصوفانہ مذاہب کی بنیاد ہے۔

Posted in مضامینِ قرآن | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *