(34) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

ترکی کا سفرنامہ (34)

مبشر نذیر

بے حیائی قدیم دور سے دنیا میں موجود رہی ہے۔ پہلے زمانوں میں معاشرے پر مردوں کا مکمل کنٹرول ہوا کرتا تھا۔ معاشی وسائل ان ہی کے قبضے میں ہوا کرتے تھے ۔ قدیم دور میں مردوں کی ہوس کو پورا کرنے کے لئے بڑے بڑے حرم تعمیر کیے جاتے تھے جن میں خواتین کو غلام بنا کر رکھا جاتا تھا۔ ایک مرد کے حرم میں اس کی حیثیت کے مطابق سینکڑوں بلکہ ہزاروں عورتیں تک ہوا کرتی تھیں۔ ان خواتین کو بچپن سے ہی بے حجابی اور مرد کی جنسی تسکین کی تربیت دی جاتی تھی۔ ان خواتین سے وہ تمام کام لیے جاتے تھے جن کا مظاہرہ آج کل کے عریاں چینلز پر ہوتا ہے ۔

مغربی معاشروں کی کیفیت بھی یہی تھی۔ مغرب کے جاگیردارانہ نظام میں عورت کو بری طرح دبا کر رکھا گیا تھا۔ عورت کو مرد کی ملکیت سمجھا جاتا تھا۔ اس نظام کو ان کے مذہبی راہنماؤں کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں مغرب میں بادشاہت، جاگیرداری اور کلیسا کے جبر و تشدد کے خلاف زبردست تحریک پیدا ہوئی۔ اس تحریک کے نتیجے میں مغرب میں انسان کی شخصی آزادی ایک بنیادی قدر کی حیثیت اختیار کر گئی۔ اس آزادی کا نتیجہ یہ نکلا کہ خواتین کو ان کے وہ حقوق دیے گئے جن سے وہ صدیوں سے محروم تھیں ۔ خواتین کی آزادی کے ساتھ ہی ان کا سماجی رتبہ بلند ہوا اور انہیں کسی حد تک معاشی خود مختاری ملنے لگی۔

صنعتی انقلاب کے بعد جاگیرداری نظام کی جگہ سرمایہ دارانہ نظام نے لے لی جس میں عیاش مردوں کے لئے بڑے بڑے حرم بنا کر رکھنا ممکن نہ رہا۔ معاشی اعتبار سے اب بھی وسائل پر اسی عیاش طبقے کا قبضہ تھا۔ حرم کے سماجی ادارے کے خاتمے کے بعد ان کے معاشروں میں ایک خلا پیدا ہوا اور وہ یہ تھا کہ عیاش مرد اپنی سفلی خواہشات کی تسکین کہاں کریں۔ اس مقصد کے لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ حیا اور عفت و عصمت کے تصورات کو جاگیردارانہ دور کی یادگار بنا کر فرسودہ قرار دے دیا جائے تاکہ مردوں کو عیاشی کے لئے زیادہ سے زیادہ عورتیں دستیاب ہو سکیں۔ عیاش مردوں کے اس طبقے کے پاس جدید ایجادات اور میڈیا کے وسائل تھے جنہیں اس مقصد کے لئے بروئے کار لایا گیا۔

ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت مغربی دنیا میں حیا اور عفت و عصمت کے تصورات کے خلاف مہم چلائی گئی۔ خاندانی نظام کی عفت و عصمت کو غلامی اور جنسی بے راہ روی کو آزادی کا خوبصورت نام دے دیا گیا۔ اس تصور کو عام کرنے کے لئے فلمیں بنائی گئیں، تحریریں لکھی گئیں، ڈرامے تشکیل دیے گئے اور فلسفیانہ موشگافیاں کی گئیں۔ سگمنڈ فرائیڈ وہ پہلا ماہر نفسیات تھا جس نے اس تصور کو باقاعدہ سائنسی زبان میں بیان کیا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں مغرب میں مردوں کی تعداد خواتین کی نسبت بہت کم رہ گئی تھی۔ چونکہ مغرب میں ایک سے زائد شادیوں کی اجازت نہ تھی، اس وجہ سے خواتین کے معاشی مسائل نے انہیں مجبور کیا کہ وہ مردوں کی ہوس پوری کر کے اپنا گزارہ چلائیں ۔

بیسویں صدی کے نصف آخر میں میڈیا کی نت نئی ایجادات نے بے حیائی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہر قسم کے میڈیا نے خود کو مقبول بنانے کا سستا طریقہ یہ نکالا کہ بے حیائی کو فروغ دیا جائے تاکہ ان کا چینل، رسالہ یا ویب سائٹ زیادہ افراد کی نظر سے گزرے۔ اس کے ساتھ ساتھ مانع حمل ادویات نے خواتین کے لئے غیر مردوں سے جنسی تعلقات قائم کرنا آسان کر دیا۔ جب خواتین کی معاشی حالت بہتر ہوئی تو ان کے عیاش طبقے کی ہوس کو پورا کرنے کے لئے مرد طوائف اور مردانہ پورنو گرافی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔

مسلم دنیا میں بے حیائی کی پہلی لہر بیسویں صدی کے نصف اول میں آئی جب مسلمانوں کی اشرافیہ کے اس حصے نے جو یورپی آقاؤں کو خوش کرنا چاہتا تھا، مغربی اقدار کو اپنانے کی بھونڈی کوشش کی۔ اس سلسلے کو یہاں زیادہ پذیرائی حاصل نہ ہو سکی۔ بیسویں صدی کے آخری عشرے میں میڈیا کے انقلاب کے نتیجے میں یہاں بے حیائی کی دوسری لہر آئی ہے جس کے نتیجے میں ہماری نوجوان نسل میں حیا اور عفت و عصمت کی اقدار کا خاتمہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔

اب انفارمیشن ریوولوشن کو آئے بھی بیس برس ہو چکے ہیں ۔ اپنی پوری قوت لگا دینے کے باوجود بے حیائی اور فری سیکس کے علم بردار حیا اور عفت و عصمت کی اقدار کا خاتمہ نہیں کر سکے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے مذہبی اور سماجی راہنما اس خطرے کا احساس کر لیں جو ہمارے معاشروں میں سرایت کر رہا ہے ۔ اس ضمن میں اس فرق کا خیال رکھنا ضروری ہے جو مغربی اور مسلم دنیا میں موجود ہے ۔

مغرب میں مذہب کے خلاف ایک بہت بڑی بغاوت موجود تھی۔ مسلم دنیا میں ایسا نہیں ہے ۔ اہل مغرب کو اگر یہ کہا جاتا کہ حیا کو اپناؤ کیونکہ مذہب اس کا حکم دیتا ہے تو اس بات کا ان پر الٹا اثر ہوتا تھا۔ اس کے برعکس ایک مسلمان کو اگر مثبت انداز میں یہ سمجھایا جائے کہ اس کا دین اسے یہ حیا کا حکم دیتا ہے تو مسلمان اس کی پیروی میں فخر محسوس کرتا ہے ۔ ہمارے ہاں تو طوائفوں سے لے کر سیاستدانوں جیسے طبقات بھی ابھی خدا سے بغاوت کے مقام پر کھڑ ے نہیں ہوئے ۔ اگر مثبت انداز میں انہیں سمجھایا جائے تو اس کے نتائج اچھے نکل سکتے ہیں ۔

موجودہ دور میں عفت و عصمت اور حیا کے تصورات کو عام کرنے کے لئے اتنی ہی شدت سے مہم چلانے کی ضرورت ہے جتنی شدت سے بے حیائی کے علمبرداروں نے مہم چلائی ہے۔ وقت کی ضرورت یہ ہے کہ مولویانہ انداز میں فتوے بازی کی بجائے سنجیدہ اور معقول دلائل کے ذریعے نئی نسل کو حیا اور عفت و عصمت کے تصورات اپنانے کے لئے قائل کیا جائے ۔

مچھلی اور چوربا

یہی گفتگو کرتے ہم جھیل کے دوسرے کنارے پر جا پہنچے ۔ اچانک میرے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا: “یا شیخ! انت تعرف عربی؟۔ “ایوا۔” میں نے جواب دیا۔

“انت سعودی؟” سوال پوچھا گیا۔

“لا۔ انا باکستانی۔” میں نے جواب دیا۔ جواب میں معانقہ کیا گیا۔

میں نے بھی یہی سوال پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ صاحب ترک تھے اور جنوبی ترکی کے مشہور شہر انطالیہ سے آئے تھے۔ اچھی خاصی عربی جانتے تھے ۔ مڑ کر دیکھا تو ان کی اہلیہ میری اہلیہ سے گفتگو کر رہی تھیں۔ دونوں خواتین ایک دوسرے کی زبان تو نہیں جانتی تھیں البتہ ایک دوسرے کی بات پوری طرح سمجھ رہی تھیں۔ بچوں کی تعداد سے لے کر ان کے سائز اور عمروں تک پوری معلومات کا تبادلہ ہو رہا تھا۔

اب ہم مختلف ہوٹلوں سے کمرے کا پوچھنے لگے ۔ معلوم ہوا کہ سب کے سب ہوٹل بک ہیں ۔ یہاں کی عجیب بات یہ تھی کہ ہر ہوٹل میں 20 سال سے بھی کم عمر ترک لڑکے اور لڑکیاں ریسپشن پر کھڑے تھے ۔ لڑکیوں نے باقاعدہ حجاب پہنے ہوئے تھے ۔ ایک جگہ سے یہ مشورہ ملا کہ جھیل کے دوسری طرف چلے جائیے۔ وہاں آپ کو ہوٹل مل جائے گا۔ دوسری طرف پہنچے تو یہاں لکڑی کے بنے ہوئے ہٹس تھے۔ ایک ہٹ کے باہر ایک بزرگ تشریف فرما تھے۔ ان سے کمرے کے بارے میں پوچھا تو ترکی زبان میں ایک طویل تقریر کر دی گئی جس کا کچھ مطلب سمجھ میں نہ آیا۔ انہیں جسمانی زبان استعمال کرنے کی شاید عادت نہ تھی۔

ہم مزید آگے بڑ ھے۔ ایک ہوٹل سے معلوم کیا۔ یہاں ایک بارہ تیرہ سالہ بچی بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے بڑی مشکل سے اپنے حلق سے انگریزی برآمد کرتے ہوئے پوچھا: “ہاؤ مینی؟” “ٹو۔” “کم۔” یہ کہہ کر وہ ہمارے آگے چل پڑی۔ اس کے انداز میں ایسی عجلت تھی کہ کہیں یہ گاہک ہاتھ سے پھسل نہ جائیں۔ دوسری طرف ہمیں یہ بے چینی تھی کہ کہیں یہ کمرہ بھی ہاتھ سے پھسل نہ جائے۔ بچی ہمیں واپس انہی بزرگ کے پاس لے آئی۔ پہلے تو ان سے کچھ بات کی اور پھر ہمیں ایک ہٹ کھول کر دکھایا۔ لکڑی کا یہ کمرہ بہت اچھے انداز میں سجا ہوا تھا اور کرایہ بھی نہایت ہی مناسب تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ انہی بزرگ کی بیٹی تھی۔ ان کا پورا خاندان بھی اسی جگہ رہتا تھا۔ اپنے گھر کے اوپر نیچے انہوں نے متعدد کمرے بنا رکھے تھے جو ان کی آمدنی کا ذریعہ تھے ۔

میں نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ یہ بچی ہمیں اپنے والد کے رحم و کرم پر چھوڑ کر چلی جائے اور ہم انہیں نہ تو کچھ سمجھا سکیں اور نہ ان کی کوئی بات سمجھ سکیں، اس سے سارے معاملات طے کر لیے جائیں۔ انٹرنیٹ کا پوچھا تو اس نے پاس ورڈ بتا دیا۔ کمرے میں سامان رکھ کر ہم نے سوچا کہ نماز مسجد میں چل کر پڑ ھی جائے۔ جلدی جلدی گرم کپڑے پہن کر ہٹ سے باہر نکلے تو ایک باریش سعودی صاحب وضو کر کے جا رہے تھے۔ تعارف ہوا تو کہنے لگے، “یہاں کیا کرنے آئے ہو، پاکستان بھی تو ایسا ہی ہے ؟” یہ صاحب سعودی عرب کے شہر قصیم سے آئے ہوئے تھے ۔

جھیل کے دوسرے کنارے پر مسجد میں پہنچے تو یہ نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ جماعت ختم ہو چکی تھی مگر دوسری جماعت ابھی جاری تھی۔ نماز سے فارغ ہو کر مسجد کے اندرونی حصے پر غور کیا۔ ترکی کی دیگر مساجد کی طرح یہاں بھی نقش و نگار کا بھاری کام کیا گیا تھا۔ اتنے میں ایک صاحب آئے اور مجھے اپنا کیمرہ دے کر کہنے لگے، “میری تصویر اتار دیجیے ۔” یہ کہہ کر وہ خود محراب میں جا کھڑے ہوئے ۔ ان سے گپ شپ ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ مدینہ منورہ سے یہاں آئے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *