(34) مضامین قرآن (Abu Yahya ابو یحییٰ)

مضامین قرآن (34)

ابو یحییٰ

دین کی بنیادی دعوت: صفات باری تعالیٰ

اللہ تعالیٰ کا تعارف کرانا قرآن مجید کے مقاصد نزول میں سے ایک بنیادی مقصد ہے۔ یہ تعارف سب سے بڑھ کر جس پہلو سے قرآن مجید میں کرایا گیا ہے وہ صفات باری تعالیٰ کے حوالے سے ہے۔ ذات باری تعالیٰ جیسا کہ پیچھے گزرا، انسانوں سے اس طرح مختلف اور منفرد ہے کہ ان کا فہم و ادراک اس کی ہستی کا احاطہ تو کیا ابتدائی تصور کرنے سے بھی عاجز ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں قرآن مجید کا زیاد ہ زور ان غلط تصور ات کی اصلاح پر ہے جو انسانوں نے اس کے حوالے سے قائم کر لیے تھے۔ لیکن مثبت طور پر قرآن مجید نے اللہ تعالیٰ کا تعارف اس کی صفات کے پہلو سے کرایا ہے۔ ان صفات کو قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ دو طریقوں سے بیان کرتے ہیں۔ ایک بطور اسماء الحسنیٰ جن میں اللہ تعالیٰ کی صفات کو اچھے ناموں سے بیان کیا جاتا ہے۔ دوسرے طریقے میں اسماء کے بجائے بیان وصف کے طریقے پر اللہ تعالیٰ اپنی صفات کو بیان کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن مجید میں کہیں اللہ تعالیٰ کو الخالق کہہ دیا گیا ہے۔ یہ پہلے طریقے کی مثال ہے۔ کہیں پر کہا گیا ہے کہ خلق الانسان یعنی اس نے انسان کو پیدا کیا یا خالق کل شی یعنی وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔

اللہ کا نام

اللہ تعالیٰ کی ہستی انسانوں کے لیے کبھی اجنبی نہیں رہی۔ انسان اپنے آغاز ہی سے وجود باری تعالیٰ سے واقف تھا۔ بلکہ جیسا کہ ہم نے وجود باری تعالیٰ کے دلائل میں اس چیز کو بیان کیا کہ انسان اس دنیا میں خدا سے براہ راست متعارف ہوکر آیا تھا۔ تاہم اس دنیا میں حالت امتحان میں ہونے کی بنا پر اس کے اور رب العالمین کے درمیان میں غیب کا ایک پردہ حائل ہو گیا تھا۔ اس پردے کے پیچھے رہ کر خدا کو پکارنے، اس سے مانگنے اور فریاد کرنے کا ایک ہی راستہ تھا کہ اسے نام لے کر پکارا جائے۔ دوسری طرف نام کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ کسی ہستی کو اس جیسی کسی دوسری ہستی سے ممتاز کر کے الگ سے شناخت کرنے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ جیسا کوئی دوسرا ہے ہی نہیں، چنانچہ اس پہلو سے اس کو کسی نام کی ضرورت نہیں نہ اس کا کوئی نام ہے۔

اس گفتگو سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ کا نام اس کی نہیں مخلوق کی ضرورت ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو یہ بات بتادی کہ سارے اچھے نام اسی کے ہیں۔ تم جس اچھے نام سے جو اس کی ذات کو زیبا ہو، پکار لو۔ ان میں سے سب سے پہلا اور معروف نام اللہ کا ہے۔ یہ عربی زبان میں اسی معنوں میں استعمال ہوتا تھا جن معنوں میں مثال کے طور پر انگریزی میں God، فارسی میں خدا، سنسکرت میں ایشور بولا جاتا ہے۔ یہ اسم عربی زبان میں نزول قرآن سے پہلے بھی استعمال ہوتا تھا۔اہل عرب اس اسم کو اس خالق ومالک کے لیے استعمال کرتے تھے جس کے ہاتھ میں رزق، زندگی، موت اور تمام امور کائنات ہیں ۔ یہ لفظ ’الہ‘ یعنی معبود پر الف لام تعریف داخل کر کے بنایا گیا اور کثرت استعمال سے ’الالہ ‘سے اللہ رہ گیا۔

قرآن مجید نے کفارمکہ کا ایک اعتراض نقل کر کے یہ بات واضح کی ہے اللہ تعالیٰ کے لیے اللہ کے علاوہ بھی کوئی اور اچھا نام جیسے الرحمن جو کہ مسیحی اہل عرب میں مستعمل تھا، بلا تکلف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی بھی صفاتی نام کے لیے اس کا اچھا ہونا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ایسی بہت سی صفات قرآن مجید میں جگہ جگہ خود بیا ن کر دی ہیں۔ تاہم یاد رہے کہ بہت سی صفات اپنے موقع محل سے مجرد ہو کر مستقل صفات کے مفہوم میں انسانوں کے ہاں اچھی نہیں سمجھی جاتیں۔ مثلاً جو لوگ اپنے جرائم کی بنا پر بطور سزا ذلت کے مستحق ہوں، ان پر ایک حاکم یا قاضی کوئی ایسی سزا نافذ کرسکتا جس میں ان کی ذلت کا پہلو نمایاں ہوجائے لیکن اس بنا پر قاضی کو ذلیل کرنے والا کہنا، انسانوں میں اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ یہی معاملہ مثال کے طور پر نقصان پہنچانے، انتقام لینے وغیرہ کا ہے۔ یہ کسی موقع پر کیا جانے والا عمل تو ہو سکتا ہے جو بربنائے عدل کیا جائے گا تو قابل تحسین ہو گا اور اسی حیثیت میں بیان بھی ہوجائے گا، لیکن بطور اسم اسے بیان کرنا کوئی درست عمل نہیں۔

چنانچہ یہی پس منظر ہے جس میں ایسے بعض افعال قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی نسبت سے بیان کیے گئے ہیں جو اپنے موقع پر باعث تحسین ہیں، لیکن بطور اسم نہ قرآن مجید نے ان کو بیان کیا ہے نہ ان کا بیان کیا جانا کسی پہلو سے بھی انسانوں میں باعث تحسین سمجھا جاتا ہے۔

صفات باری تعالیٰ

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی جو صفات بیان ہوئی ہیں ان کے تین بنیادی مقاصد ہیں۔ ایک یہ کہ خدا کے متعلق لوگوں کو درست تصور دیا جائے اور غلط تصورات کی اصلاح کی جائے ۔ دوسرا یہ کہ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ خدا ان سے غیر متعلق کوئی وجود نہیں بلکہ ہر لمحہ اور ہر لحظہ وہ خدا کی عنایات اور اس کے کرم کی وجہ سے زندگی گزار رہے ہیں۔ تیسرا یہ کہ لوگ متنبہ رہیں کہ جس خدا نے یہ سب کچھ عطا کیا ہے، اس کے حضور سرکشی، نافرمانی غفلت و معصیت میں مبتلا رہنے والے یاد رکھیں کہ وہ کسی طور اس کی پکڑ اور گرفت سے باہر نہیں ہیں۔ یہ تینوں پہلو بالترتیب خدا کے کمال، جمال اور جلال کا بیان ہے۔ ان تین طرح کی صفات کو ہم تفہیم مدعا کے لیے صفات احدیت یا صفات کمال، صفات رحمت یا صفات جمال اور صفات قدرت یا صفات جلال کے عنوان سے ذیل میں بیان کر رہیں ۔

صفات احدیت یا صفات کمال

صفات احدیت یا صفات کمال اصلاً اللہ تعالیٰ کی ہستی کا بیان ہیں۔ یہ اس کے ہونے اور مخلوق سے جدا بطور ایک مشخص ہستی کے موجود ہونے کا بیان ہیں۔ یہ صفات اللہ تعالیٰ کی ذات کے ان پہلوؤں کو سامنے لاتی ہیں جس طرح کہ وہ مخلوقات سے جدا بطور ان کے رب، خالق، مالک اور معبود کے طور پر موجود ہے، ہمیشہ سے تھا اور ہمیشہ رہے گا۔ یہ صفات اس بات کا جواب دیتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کیا ہیں۔ چنانچہ اس سوال کے جواب میں مثال کے طور پر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ احد ہیں۔ وہ الہ ہیں۔ وہ غنی ہیں۔ وہ حمید ہیں۔ وہ اول ہیں۔ وہ آخر ہیں۔ وہ ظاہر ہیں۔ وہ باطن ہیں۔ یہ صفات اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں یکتا اور اپنی ہستی میں ہر عیب، ہر عجز، ہر کمزوری، ہر ناتمامی اور ہرنقص سے پاک ہے۔ چنانچہ اسی پس منظر میں پوری کائنات اس کی تسبیح کرتی ہے۔ تسبیح اسی چیز کا بیان ہے کہ خدا کی ذات ہر عیب اور ہر نقص سے پاک ہے۔ یہ پاکی اس کی ذات کے پہلو سے بھی ہے، خصوصیات کے پہلو سے بھی اور افعال کے پہلو سے بھی۔ چنانچہ یہی تسبیح زمین و آسمان کی ہر شے کا وظیفہ ہے۔ اور جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا کہ ان صفات کے بیان کا اصل مقصد اللہ کے بارے میں غلط تصورات کی تصحیح تھی۔ نیز ہر مشرکانہ تصور کے خاتمے کے ساتھ صرف ایک اللہ کی عبادت پر متوجہ کرنا تھا۔

صفات رحمت یا صفات جمال

صفات رحمت یا صفات جمال اللہ تعالیٰ کی ہستی کے اس پہلو کا تعارف ہیں جس میں اس کی ذات کامل اپنے ذوق رحمت کا اظہار کرتی اور مخلوق کو وجود بخش کر اس پر اپنے کمال عطا کی بارش کرتی ہے۔ چنانچہ یہی وہ پس منظر ہے جس میں اللہ تعالیٰ موجودات کو پیدا کرتے ہیں۔ ان کو زندگی اور رزق دیتے ہیں۔ ان کی نگہبانی کرتے ہیں۔ ان کو تحفظ دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ وہ صرف اس بنا پر کرتے ہیں کہ وہ الرحمن ہیں۔ الرحیم ہیں۔ الرؤف ہیں۔ الکریم ہیں۔ السلام ہیں۔ الودود ہیں۔

ان صفات کے بیان کا مقصد انسانوں کو یہ بتانا ہے کہ ان کا واسطہ ایک بے حد کریم ہستی سے پڑا ہے۔ جو محبت کرنے والا ہے۔ بہت نبھانے والا ہے۔ بہت بخشش کرنے والا ہے۔ بہت معاف کرنے والا، بہت تحمل والا اور بہت چشم پوشی کرنے والا ہے۔ انسانوں نے اس دنیا میں جو کچھ پایا ہے اور ہر لمحہ پا رہے ہیں، وہ اسی رب کریم کی مہربانی سے پایا ہے۔ اور مستقبل میں بھی وہ جو کچھ پائیں گے ، اسی کی عطا سے پائیں گے۔ اس کے خزانے لا محدوہیں اور وہ ان خزانوں کو ہم انسانوں کو ابدی طور پر دینے کے لیے تیار ہے۔ ایسے رب سے محبت پیدا ہونا ایک فطری چیز ہے۔ دل و دماغ کا اس کی مہربانیوں کے احساس سے سرشار ہونا عین انسانیت ہے۔ اس کی بندگی بلا جبر اور شوق سے کرنا عین تقاضائے فطرت ہے۔ انسان اگر انسان ہے تو ایسے رب کو نظر انداز کر کے نہیں جی سکتا۔

صفات قدرت یا صفات جلال

صفات قدرت یا صفات جلال اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ظہور ہے۔ یہ اس حقیقت کا بیان ہے کہ جس مخلوق کو انھوں نے بنایا ہے ، وہ کسی پہلو سے ان کے قبضہ قدرت، علم اور طاقت، بادشاہی اور جبروت سے باہر نہیں نکل سکتی۔ مخلوق کی تمام تر ہستی اور ارادے کے باوجود وہی قادر مطلق ہیں۔ ان کا فیصلہ ہی آخری فیصلہ ہوتا ہے۔ انھیں کی بادشاہی اور اقتدار زمین و آسمان پر قائم ہے۔ کوئی چاہے نہ چاہے اس کی اطاعت پر مجبور ہے۔ کوئی اگر سرکش ہوتا ہے اور نافرمانی سے باز نہیں آتا تو پھر وہ اس کو پکڑنے، اس کا مکمل محاسبہ کرنے اور اسے اس کے کیے کی بھرپور سزا دینے کی مکمل قدرت رکھتے ہیں۔ یہ دنیا ان کی دنیا ہے۔ یہ بادشاہی ان کی بادشاہی ہے۔ کوئی فرعون ہو یا نمرود، انسان ہو یا شیطان، ظالم ہو یا فاسق ان کے اقتدار سے باہر نہیں نکل سکتا۔

یہ صفات بیان کرنے کا مقصد امتحان کی عارضی مدت میں اختیار رکھنے والے انسانوں کو یہ بتانا ہے کہ وہ کسی صورت اللہ رب العالمین کے قبضہ قدرت سے باہر نہیں نکل سکتے۔ وہ اس کے عدل کی زنجیر تڑا کر نہیں بھاگ سکتے ہیں۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کے علم میں ہے۔ وہ زندہ ہوں تب بھی اور مرجائیں تب بھی خدا کی پہنچ میں رہتے ہیں۔ وہ دنیا میں ان کا ٹھکانہ جانتا اور موت کے بعد ان کے رہنے کی جگہ سے بھی واقف ہے۔ وہ ان کی ایک ایک پور کو دوبارہ تخلیق کر کے انھیں زندہ کرنے اور اپنے سامنے حساب و کتاب کے لیے پیش کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔ اس لیے اس سے بے خوف ہو کر جینا ایک تباہ کن راستہ ہے۔ اس کی نافرمانی کرنا بربادی کی راہ ہے۔ اس سے سرکش ہونا اس کی کبریائی تلے کچلے جانے کے مترادف ہے۔ انسان اگر انسان ہے تو پھر ایسے رب کو نظر انداز کر کے جی نہیں سکتا۔

قرآنی بیانات

’’ان سے پوچھو، کون تم کو آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہے؟ یا کون ہے جو سمع اور بصر پر اختیار رکھتا ہے اور کون ہے جو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور کون ہے جو ساری کائنات کا انتظام فرماتا ہے، تو جواب دیں گے اللہ۔ تو ان سے کہو کہ کیا تم اس اللہ سے ڈرتے نہیں ؟ ‘‘ (یونس 31:10)

’’حم ۔ اس کتاب کی تنزیل خدائے عزیز و علیم کی طرف سے ہے، جو گنا ہوں کو بخشنے والا۔ توبہ کو قبول کرنے والا، سخت پاداش اور بڑی قدرت والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔‘‘ (المومن 40: 3-1)

’’خدائے رحمان نے قرآن کی تعلیم دی۔ اس نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ (الرحمن 55: 3-1)

’’اللہ ہی کی تسبیح کرتی ہیں جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں۔ اسی کی بادشاہی ہے اور وہی سزاوارِ شکر ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔

وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا تو کوئی تم میں کافر ہے اور کوئی مومن۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ اللہ کی نظر میں ہے۔ اس نے آسمانوں اور زمین کو غایت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اور اس نے تمہاری صورت گری کی تو اس نے تمہاری صورتیں اچھی بنائیں اور اسی کی طرف لوٹنا ہو گا۔ وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو۔ اور اللہ باخبر ہے سینوں کے بھیدوں سے بھی۔‘‘
(تغابن 64: 4-1)

’’بے شک تیرے رب کی پکڑ بڑی ہی سخت ہے۔ وہی آغاز کرتا ہے اور وہی لوٹائے گا۔ اور وہ بخشنے والا پیار کرنے والا ہے ۔ عرش بریں کا مالک۔ جو چاہے کر ڈالنے والا۔‘‘ (بروج 85: 16-12)

’’کہہ دو کہ اللہ کے نام سے پکارو یا رحمن کے نام سے، جس نام سے بھی پکارو سب اچھے نام اسی کے ہیں۔‘‘
( بنی اسرائیل17: 110)

’’اللہ ہی کی تسبیح کرتی ہیں ساری چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ غالب و حکیم ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے۔ وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے اور وہ ہرچیز پر قادر ہے۔ وہی اول بھی ہے اور آخر بھی اور ظاہر بھی اور باطن بھی اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔

وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا چھ دنوں میں پھر وہ عرش پر متمکن ہوا۔ وہ جانتا ہے اس چیز کو جو زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی تم ہوتے ہو اور تم جو کچھ بھی کرتے ہو وہ سب دیکھتا ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور تمام امور کا مرجع اللہ ہی ہے۔ وہی داخل کرتا ہے رات کو دن میں اورداخل کرتا ہے دن کو رات میں اور وہ سینوں کے بھیدوں کو بھی جانتا ہے ۔‘‘   (الحدید 57: 6-1)

’’اللہ ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ تمام اچھی صفتیں اسی کے لیے ہیں ۔‘‘ (طہ20: 8)

’’شکر کا سزاوارِ حقیقی اللہ ہے ، کائنات کا رب، رحمان اور رحیم، جزا و سزا کے دن کا مالک۔‘‘
(الفاتحہ 1: 3-1)

’’اور اللہ کے لیے تو صرف اچھی ہی صفتیں ہیں تو انہی سے اس کو پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑو جو اس کی صفات کے باب میں کج روی اختیارکر رہے ہیں۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، عنقریب اس کا بدلہ پائیں گے ۔‘‘ (اعراف7: 180)

’’وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، غائب و حاضر کا جاننے والا، وہ رحمان و رحیم ہے ۔

وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ بادشاہ، یکسر پاک، سراپا سُکھ، امن بخش، معتمد، غالب ، زور آور، صاحبِ کبریاء۔ اللہ پاک ہے ان چیزوں سے جن کو لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔

وہی اللہ ہے نقشہ بنانے والا، وجود میں لانے والا، صورت گری کرنے والا۔ اسی کے لیے ساری اچھی صفتیں ہیں۔ اسی کی تسبیح کرتی ہیں جو چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں ۔ اور وہ غالب و حکیم ہے ۔‘‘
(حشر59: 24-22)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *