(35) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

Download PDF

ترکی کا سفرنامہ(35)

مبشر نذیر

نماز سے فارغ ہو کر ہم کھانے کے لئے ہوٹل تلاش کرنے لگے۔ ایک ہوٹل پر مچھلی کی تصویر بنی ہوئی تھی، ہم نے اسی کا انتخاب کیا۔ کھانے کا آرڈر دینے کے لئے میں نے ان کے بورڈ پر بنی کھانے کی تصویروں کی طرف اشارہ کیا۔ ہوٹل جھیل کے عین کنارے پر تھا۔ موسم کافی سرد ہو رہا تھا۔ کھانے میں روسٹ مچھلی اور پتلی دال آئی جو کہ یہاں “چوربا” کہلاتی تھی۔ اس کے ساتھ روٹی کے طور پر وہی لکڑی والے بن تھے جنہیں کھا کھا کر اب ہماری داڑھیں درد کرنے لگ گئی تھیں ۔ اہلیہ کہنے لگیں ، “مجھے تو چاول ہی منگا دیں ۔” ویٹرس کو اچھی خاصی عربی اور انگریزی آتی تھی۔ چاول منگوائے۔ یہاں کے چاول بھی خوب تھے۔ پنجاب کے باسمتی چاول کھانے والوں کے سامنے چینی کے سائز کے موٹے موٹے چاول لا کر رکھ دیے گئے ۔ چوربا اور مچھلی البتہ کافی مزیدار ثابت ہوئے ۔

کھانے سے فارغ ہو کر کافی پینے کے بعد ہم کچھ دیر جھیل کے کنارے پیدل چلے۔ مجھے سردیوں کا موسم بہت پسند ہے ۔ جدہ میں تو یہ موسم ہمیں نصیب نہیں ہوتا۔ اس وقت اگست کے ابتدائی دنوں میں ہم یوزن گولو کی سردی کو انجوائے کر رہے تھے ۔

بادل، بارش اور چشمہ

اگلی صبح آنکھ کھلی تو بادل پہاڑ کی چوٹی سے اتر کراس کے نصف تک آ چکے تھے۔ ساری رات یہ بادل ہلکی ہلکی پھوار کی صورت میں برستے رہے تھے جس سے پورے علاقے میں کیچڑ ہو رہا تھا۔ قریبی ہوٹل میں ناشتہ کرنے کے لئے گئے۔ ہوٹل کے اندر ایک خوبصورت منظر تھا۔ ہوٹل کے لان میں بڑے بڑے تالاب بنے ہوئے تھے جن میں سرد پانی کی مچھلیاں پالی گئی تھیں ۔ دریا سے پمپ کے ذریعے پانی ان تالابوں میں ڈالا جاتا اور یہاں مچھلیوں کی فصل تیار کی جاتی۔ اس وقت ہوٹل کا ایک ملازم مچھلیوں کو خوراک فراہم کر رہا تھا اور یہ اچھل اچھل کر پانی سے باہر آ کر خوراک جھپٹنے میں مصروف تھیں ۔

یہاں سے وہی بوفہ اسٹائل ناشتہ ملا جو ہم روزانہ ہی کر رہے تھے ۔ ناشتے کے بعد ہم نے پیدل ہی علاقے کا سروے کرنے کا ارادہ کیا۔ ہوٹل کے عقبی جانب دریا بہہ کر جھیل کی طرف جا رہا تھا۔ دریا کے دونوں کناروں کو پختہ کر دیا گیا تھا اور ان کے ساتھ ساتھ کچے ٹریک بنائے گئے تھے۔ درمیان میں کئی مقامات پر دریا پر لکڑی کے پل بنائے گئے تھے۔ دریا کے ایک جانب بہت سے ہوٹل بنے ہوئے تھے۔ ان میں لکڑی کا فرنیچر تھا ۔ تھوڑی دور چل کر ہم ایک چشمے پر جا پہنچے جو پہاڑ کی بلندی سے دریا میں گر رہا تھا۔ چشمے پر جگہ جگہ بند باندھ کر اس کا پانی زرعی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔

اب ہمارا دل چاہ رہا تھا کہ کسی طرح اڑ کر بادلوں میں جا پہنچیں۔ واپس ہوٹل آ کر کار میں بیٹھے اور جھیل کے دوسرے کنارے کی طرف روانہ ہوئے۔ یہاں سے ایک سڑک پہاڑ کے اوپر جا رہی تھی۔ آگے جا کر یہ ایک کچی سڑک میں تبدیل ہو گئی۔ دونوں طرف گھنے سبزے کے بیچ میں سے گزرتے ہم اوپر جا رہے تھے ۔ منظر کچھ ویسا ہی تھا جیسا کہ شوگران کی چڑھائی میں نظر آتا ہے۔ نصف پہاڑ کی بلندی پر پہنچ کر ہم بادلوں میں داخل ہو گئے۔ جیسے جیسے ہم اوپر جا رہے تھے ، بادل گھنے ہوتے چلے جا رہے تھے ۔

گاڑی مسلسل پہلے اور دوسرے گیئر میں چلی جا رہی تھی۔ تھوڑی دیر میں ہم پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گئے۔ اب صورتحال یہ تھی کہ گھنے بادلوں کی وجہ سے چند فٹ سے آگے نظر نہ آ رہا تھا۔ بل کھاتی ہوئی سڑک کا کنارہ بھی بمشکل دکھائی دے رہا تھا۔ اچانک ایک بڑا سا چشمہ نظر آیا جس میں سے ڈھیروں ڈھیر پانی بہہ کر نیچے کی طرف جا رہا تھا۔ یہاں دو تین سعودی فیملیاں اپنی GMC جیپ اور فورڈ کار پر آئے ہوئے تھے ۔ انہیں پٹرول کا اچھا خاصا خرچ برداشت کرنا پڑا ہو گا مگر اتنی بڑ ی فیملی کو گاڑی پر لا کر انہوں نے ہوائی جہاز کا جو کرایہ بچایا ہو گا وہ پٹرول کے خرچ سے زیادہ ہی ہو گا۔

یہ لوگ بھی ہماری طرح ایڈونچر پسند تھے ۔ چشمے میں سے کار گزارنا ایک مشکل کام تھا۔ انہوں نے اپنی کار وہیں کھڑی کی اور سب کے سب جیپ میں بیٹھ کر بلکہ زبردستی ٹھنس کر آگے روانہ ہو گئے۔ بادل اب ہلکی ہلکی پھوار کی صورت میں برس رہے تھے۔ کچھ دیر ہم یہیں رک کر موسم سے لطف اندوز ہوتے رہے ۔ میں چہرہ اوپر کر کے اس پر پڑنے والی پھوار سے لطف اندوز ہونے لگا۔

میں سوچنے لگا کہ یہ دنیا کتنی خوبصورت ہے ۔ یہاں کس قدر خوبصورت اور دلفریب مقامات ہیں تاکہ انسان یہاں آ کر انجوائے کر سکیں۔ گھنے سبزے سے ڈھکے پہاڑ، ان کے درمیان تیزی سے بہتے آبشار، شور مچاتے دریا، پرسکون جھیلیں، برفیلی وادیاں یہ سب انسان کے اعصاب کو سکون دیتے ہیں۔ اسے اگر جنت ارضی کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا مگر اس جنت ارضی میں دو خامیاں موجود ہیں ۔

دنیا کی اس جنت میں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس سے لطف اندوز ہونے کے لئے انسان کے پاس دولت ہونی چاہیے۔ جو لوگ پیسے سے محروم ہیں، اس جنت کی نعمتیں ان کے لئے نہیں ہیں۔ دوسری خامی یہ کہ امیر افراد کے لئے بھی دنیا کا یہ سارا لطف عارضی ہے۔ انسان کے پاس جتنی بھی دولت ہو، ایک دن ایسا آتا ہے کہ اسے اس دنیا سے جانا پڑتا ہے ۔ اس کے بعد پھر اس کا مال و دولت پیچھے رہ جاتا ہے۔ ہر انسان کی یہ شدید خواہش ہے کہ اسے زندگی میں ایسی انجوائے منٹ ملے جو کبھی ختم نہ ہو مگر اس دنیا کا ہر مزہ ایک دن ختم ہو کر رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں خوبصورت مقامات رکھ کر انسان کے اس شوق کو ہوا دی ہے کہ وہ اس سے ہزاروں گنا زیادہ پر لطف زندگی کو حاصل کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی جنت تیار کر رکھی ہے جس میں داخلے کے لئے پیسہ نہیں بلکہ نیک عمل شرط ہے۔ اس جنت میں داخلہ خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر ہو گا۔ اس جنت میں جگہ، موجودہ دنیا کی طرح عارضی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر الاٹ کی جائے گی۔ اس جنت میں انسان کو وہ نعمتیں ملیں گی جن کا اس نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو گا۔ اس جنت میں ہر امیر و غریب اپنے عمل کی بنیاد پر داخل ہو سکتا ہے ۔

اس مقام سے واپس آنے کو جی نہ چاہ رہا تھا مگر اب مسلسل پھوار سے کیچڑ پیدا ہو رہا تھا اور یہ خطرہ تھا کہ واپسی پر کہیں ہم پھسلتے ہوئے ایک گھنٹے کا سفر چند سیکنڈ میں طے نہ کر لیں۔ اب ہم پہلے گیئر میں واپس آ رہے تھے ۔ پھوار کا پانی درختوں سے چھن کر گاڑی کی چھت پر گر رہا تھا۔ آہستہ آہستہ ہم نیچے آ پہنچے۔ اب یوزن جھیل نظر آ رہی تھی اور ایک نہایت ہی خوبصورت منظر پیش کر رہی تھی۔ بلندی سے پانی کا نظارہ ایسا منظر ہے جو انسان کو مسحور کر دیتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے خالق کائنات نے جنت میں اونچے باغات اور نیچے بہنے والے دریاؤں اور نہروں کا ذکر کیا ہے ۔

نیچے اتر کر ہم جھیل کنارے ایک ہوٹل میں آ بیٹھے ۔ یہاں ایک بڑی آبشار پہاڑ سے گر رہی تھی۔ غالباً یہ وہی چشمہ تھا جسے ہم اوپر دیکھ کر آئے تھے۔ آبشار کے گرنے سے فضا میں پانی کا ایک بادل سا تشکیل پا رہا تھا جو پھوار کی صورت میں چہرے پر نہایت ہی بھلا محسوس ہو رہا تھا۔ یہاں گرما گرم کافی پینے کے بعد ہم واپس اپنے ہوٹل گئے ۔ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد دوبارہ نکلے ۔

۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *