(36) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

 

ترکی کا سفرنامہ (36)

مبشر نذیر

اب شام ہو رہی تھی اور بھوک بھی لگ رہی تھی۔ ایک جگہ ہمیں ایک صاحب پراٹھے تیار کرتے نظر آئے۔ ترکی میں یہ پہلا موقع تھا جب ہمیں پراٹھے نظر آئے تھے چنانچہ ہم یہیں براجمان ہو گئے۔ یہ پنیر کے پراٹھے تھے۔ ترکی کے ہوٹلوں میں یہ مسئلہ تھا کہ ویٹر اور مالک کے لباس میں کوئی خاص فرق ہم محسوس نہ کر سکے۔ ہر جگہ ویٹر بھی ایسے خوش لباس تھے کہ انہیں ٹپ دیتے ہوئے بھی شرمندگی محسوس ہو رہی تھی کہ کہیں برا نہ مان جائیں۔ کھانا کھا کر ہم اب دوبارہ جھیل کے کنارے پر جا پہنچے۔ اب آہستہ آہستہ اندھیرا ہو رہا تھا۔ اس مقام سے میں نے جھیل کی ایک ہی زاویے سے متعدد تصاویر کھینچیں جن میں آہستہ آہستہ اندھیرا پھیل رہا تھا۔

یہاں بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ بعض لوگ جھیل کے کنارے کوئلے جلا کر بار بی کیو کر رہے تھے۔ بعض یونہی چہل قدمی کر رہے تھے۔ بعض لوگ جھیل میں ڈوری ڈالے مچھلیاں پکڑنے کے لئے بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ طریقہ نہایت ہی ظالمانہ ہے۔ ایک کانٹے پر خوراک لگا کر اسے پانی میں ڈال دیا جاتا ہے۔ مچھلی اس خوراک کو کھانے کے لئے یہ کانٹا اپنے حلق میں پھنسوا بیٹھتی ہے اور پھر اسے کھینچ لیا جاتا ہے۔ ذرا تصور کیجیے کہ ہمارے حلق میں اسی طرح کانٹا ڈال کر ہمیں گھسیٹا جائے تو شاید پھر اس تکلیف کا اندازہ ہو۔ ایک مرتبہ مچھلی کا کانٹا میرے حلق میں پھنس گیا تھا، اس کی تکلیف مجھے آج بھی یاد ہے۔ ہمارے دین نے ہمیں جانوروں کے ساتھ بھی رحم دلی کا حکم دیا ہے۔ جانور کو ذبح کرنے کے لئے چھری کا تیز ہونا ضروری ہے تاکہ اسے کم سے کم تکلیف ہو۔ اسی طرح مچھلی کے شکار کے لئے جال کا طریقہ درست ہے ۔

اس مقام پر بہت سی قومیتوں کے لوگ موجود تھے ۔ اللہ تعالی نے یہ دنیا فرق کے اصول پر بنائی ہے ۔ یہاں ہر شخص دوسرے سے مختلف ہے ۔ بعض فاشسٹ گروہوں میں انسانوں کے درمیان فرق کو مٹا کر ایک جیسے گھڑے گھڑائے انسان تیار کرنے کا تجربہ کیا گیا جو کہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ ہر انسان شکل و صورت، طرز فکر، رنگ، زبان اور صلاحیت کے اعتبار سے دوسرے سے مختلف ہے۔ انسانوں کا یہی فرق ہے جس سے دنیا کا نظام چل رہا ہے ۔ اہل مغرب نے یہ سیکھ لیا ہے کہ مختلف طرز کے انسان مختلف صلاحیتوں کے حامل ہوا کرتے ہیں ۔ اسی وجہ سے معاشرتی تنوع (Pluralism) کو انہوں نے بطور پالیسی اختیار کر لیا ہے۔ یک رخے (Authoritarian) معاشرے بالعموم ناکام رہتے ہیں کیونکہ ان میں انسانوں کے فرق کو اہمیت نہیں دی جاتی۔

آرٹون اور ٹورٹم آبشار

اگلی صبح اٹھ کر ہم پراٹھا ہوٹل پہنچے۔ آج یہاں آلو کے پراٹھے بھی دستیاب تھے۔ ان میں ہماری طرح کے مصالحے تو نہ تھے مگر یہ پھر بھی غنیمت تھے۔ ناشتے سے فارغ ہو کر ہم نے آگے چلنے کا ارادہ کیا۔ اب ہماری منزل آرٹون تھی۔ ترکی کے شمال مشرقی علاقوں سے متعلق بروشرز میں آرٹون سے متعلق بہت ہی خوبصورت تصاویر تھیں چنانچہ ہمارا ارادہ تھا کہ آرٹون میں بھی ایک دو دن جا کر رکا جائے ۔

اب ہم یوزن جھیل سے دریا کے کنارے کنارے واپس “آف” کی طرف سفر کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں ہم آف جا پہنچے۔ یہاں سے اب ہم دوبارہ کوسٹل ہائی وے پر سفر کرنے لگے جو بلیک سی کے کنارے پر بنی ہوئی تھی۔ کچھ دور جا کر ہمیں ایک عجیب چیز نظر آئی۔ سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر ایکسر سائز مشینیں لگی ہوئی تھیں ۔ جو لوگ اپنے جسم کو فٹ رکھنے کے شوقین ہوں وہ عین سمندر کے کنارے تازہ ہوا میں ورزش کر سکتے تھے۔ یہ ایک بہت اچھی سہولت تھی ورنہ ہمارے ہاں تو جم کی اچھی خاصی فیس ادا کرنا پڑتی ہے۔ جگہ جگہ سڑک کے کنارے سیڑھیاں نیچے جا رہی تھیں ۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ لوگ نیچے بنی ہوئی سرنگ سے سڑک پار کر کے ساحل تک جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے بہت کم لوگوں کو سڑ ک پار کرتے ہوئے دیکھا تھا۔

راستے میں ماریہ نے آئس کریم کی فرمائش کر دی۔ میں نے ایک دکان پر گاڑ ی روکی۔ اس قصبے کا نام ’’ارھاوی‘‘ تھا۔ یہاں والز آئس کریم کا نام ’’ال جیڈا‘‘ تھا۔ جب میں یونی لیور کے آئس کریم ڈویژن میں کام کرتا تھا تو ہمارے سامنے ترکی میں کمپنی کے آئس کریم بزنس کو مثال کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ یہی حقیقت تھی کہ ترکی کے ہر ہر اسٹور پر ال جیڈا کا فریزر رکھا ہوا تھا اور ا س میں آئس کریم بھری ہوئی تھی۔ کچھ ایسا ہی معاملہ یہاں کوکا کولا کا بھی تھا۔ پیپسی کہیں دور دور تک نظر نہ آ رہی تھی۔

ارھاوی سے آگے چلے تو پھر سرنگوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ان میں سے ایک سرنگ بہت قدیم تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہ اب گری کہ اب گری۔ سرنگ کی چھت سے باقاعدہ پانی ٹپک رہا تھا۔ جلدی جلدی اس سرنگ سے نکلے ۔ اب ہم ’’رزے ‘‘ شہر پہنچ رہے تھے جو کہ صوبائی صدر مقام تھا۔

چونکہ اب ہم کافی سفر طے کر چکے تھے۔ مناسب یہ تھا کہ گاڑی کا آئل چینج کروا لیا جائے۔ شیل کا ایک سروس اسٹیشن دیکھ کر میں نے گاڑی یہاں روک دی۔ سروس اسٹیشن کے ملازمین کو بات سمجھانا ایک مشکل کام ثابت ہوا۔ انہوں نے مسئلے کا حل یہ کیا کہ اندر سے اپنے منیجر کو بلا لائے۔ یہ صاحب نہایت ہی صاف انگریزی بول رہے تھے۔ ایسی اچھی انگریزی ترکی میں کم ہی سننے میں ملی تھی۔ ان سے معلوم ہوا کہ موصوف اسی علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔ ویسے استنبول میں رہتے تھے مگر یہاں ایک ہوٹل کی تعمیر کے سلسلے میں موجود تھے ۔ کہنے لگے کہ ہمارے پاس آئل چینج کا سلسلہ تو نہیں ہے البتہ آپ کی گاڑی میں آئل کم ہے۔ اسے پورا کر دیتے ہیں۔ بعد میں آپ آئل چینج کروا لیجیے گا۔

یاجوج ماجوج کے دیس میں

رزے کے بعد اگلا شہر ’’ہوپا‘‘ آیا۔ یہ ترکی کا آخری بڑا شہر تھا۔ اس کے بعد جارجیا کی سرحد تھی۔ جارجیا کا دارلحکومت تبلیسی یہاں سے دو تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ 1990ء تک یہ علاقہ سوویت یونین میں شامل تھا مگر جب اس کے ٹکڑے ہوئے تو جارجیا نے بھی دوسری بہت سی ریاستوں کی طرح آزادی کا اعلان کر دیا۔

اب ہم یاجوج ماجوج کی سرزمین میں داخل ہو رہے تھے ۔ بائبل کی کتاب پیدائش کے مطابق سیدنا نوح علیہ الصلوٰۃوالسلام کے بعد انسانی نسل ان کے تین بیٹوں سام، حام اور یافث سے چلی تھی۔ سام نے رہائش کے لئے دجلہ و فرات کی وادی کا انتخاب کیا جو ’’میسو پوٹیمیا‘‘ کہلاتی ہے۔ حام نے اپنی اولاد سمیت دریائے نیل کی وادی میں رہائش اختیار کی۔ یافث کو بحیرہ کیسپین اور بحیرہ اسود کے درمیان کا علاقہ پسند آیا، چنانچہ انہوں نے اپنی اولاد کو یہاں آباد کر دیا۔ اس وقت ہم اسی علاقے سے گزر رہے تھے ۔

یافث کی اولاد میں سے ماجوج (Magog) نام کے ایک بزرگ گزرے ہیں ۔ ان کی نسل میں ’’یاجوج‘‘ یا ’’جوج ‘‘(Gog) نام کا بادشاہ گزرا ہے ۔ اس وجہ سے ماجوج کی پوری نسل یاجوج و ماجوج کہلائی۔ سام و حام کی نسلوں نے بڑی بڑی تہذیبیں قائم کیں مگر یاجوج ماجوج زیادہ تر خانہ بدوش رہے ۔ ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا جس کی وجہ سے یہ اپنے اصل وطن سے شمال، مشرق اور مغرب کی طرف نکل کھڑے ہوئے ۔ شمال میں انہوں نے روس کو اپنا مسکن بنایا۔ مشرق میں انہوں نے چین اور ہندوستان پر اپنا اقتدار قائم کیا اور مغرب میں یورپ کی سرزمین پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد معلوم تاریخ میں امریکہ اور آسٹریلیا پر بھی ان ہی کی حکومت قائم ہوئی۔ سام اور یافث کی نسلوں میں کئی مرتبہ زمین کے حصول کے لئے جنگ ہوئی۔ ایسی ہی ایک جنگ کی تفصیل بائبل کی کتاب ’’حزقی ایل‘‘ میں ملتی ہے ۔

دنیا کا اقتدار سب سے پہلے حام کی نسلوں کو سپرد ہوا اور مصر میں انہوں نے عظیم الشان تہذیب قائم کی۔ اس زمانے میں حام کی افریقی نسلیں سپر پاور کی حیثیت رکھتی تھیں ۔ اس کے بعد سام کی نسلوں کی باری آئی۔ سام کی نسل کے ایک بطل جلیل سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اولاد کی دو شاخوں بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل کو باری باری زمین کا اقتدار نصیب ہوا۔ اس کی تفصیل آپ میرے سابقہ سفرنامے ’’قرآن اور بائبل کے دیس میں ‘‘ میں پڑھ سکتے ہیں ۔

قرآن مجید اور بائبل میں قیامت کی یہ نشانی بیان ہوئی ہے کہ اس سے پہلے روئے زمین پر یاجوج و ماجوج کا اقتدار قائم ہو جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ان کے پہلے گروہ نے منگولیا سے اٹھ کر تاتاریوں کی شکل میں عالم اسلام پر یلغار کی۔ کچھ عرصے بعد یہ گروہ تو مسلمان ہو گیا۔ اس کے بعد یاجوج و ماجوج کے دوسرے گروہ نے یورپی استعمار کی صورت میں ایشیا اور افریقہ پر پھر یلغار کی۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ دور میں بھی دنیا کی تمام بڑی طاقتیں یعنی امریکہ، روس اور چین کا بڑا حصہ یاجوج ماجوج ہی پر مشتمل ہیں ۔ یافث کی ماجوج کے علاوہ اور اولاد بھی ہو گی مگر غالب اکثریت کے اصول پر یافث کی پوری نسل ہی کو یاجوج و ماجوج کے نام سے مذہبی صحیفوں میں بیان کیا گیا ہے ۔

[جاری ہے ]

۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *