(37) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

Download PDF

ترکی کا سفرنامہ (37)

مبشر نذیر

بعض صحیح احادیث میں ایک دیوار کا ذکر آیا ہے جس کے پیچھے یاجوج و ماجوج قید ہیں اور روزانہ اسے توڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور مستقبل میں ایک دن وہ اس میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان احادیث پر جدید دور میں یہ سوال کیا گیا ہے کہ آج کل تو روئے زمین کا چپہ چپہ سیٹلائٹ کی مدد سے چھانا جا چکا ہے۔ ایسی کوئی دیوار نہیں ملی جس کے پیچھے کوئی اتنی بڑی قوم آباد ہو۔

یہ سوال دراصل ایک غلط فہمی کی بنیاد پر پیدا ہوتا ہے جو کہ اس دیوار کو حقیقی معنی میں لینے سے پیدا ہوئی۔ اصل میں یہاں دیوار کو تمثیل کے اسلوب میں بیان کیا گیا تھا اور اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ اللہ تعالی نے انہیں گویا پہاڑوں کے اندر قید کر کے سام اور حام کی نسلوں کو ان سے محفوظ کر رکھا ہے۔ قرب قیامت میں یہ لوگ آزاد ہو کر روئے زمین پر قابض ہو جائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ حافظ ابن کثیر نے بھی سورۃ کہف کی تفسیر میں اس روایت پر تنقید کرتے ہوئے یہ توجیہ پیش کی ہے کہ یہ روایت دراصل اسرائیلی روایت ہے جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کعب الاحبار علیہ الرحمۃ سے سنی ہو گی لیکن کسی راوی نے غلطی سے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیا۔

اب یاجوج و ماجوج کو کسی دیوار کے پیچھے تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ امریکیوں، روسیوں، یورپیوں اور چینیوں کی صورت میں یہ اس وقت زمین کے اطراف میں موجود ہیں۔ قرآن مجید اور بائبل کی یہ پیش گوئی پوری ہو چکی ہے۔ اب ہمیں قیامت کا انتظار کرنا چاہیے اور اپنے قول و فعل کے اعتبار سے اس کی تیاری کرنی چاہیے۔

ذوالقرنین

قرآن مجید میں جناب ذوالقرنین کا ذکر آیا ہے۔ یہ ایک صاحب ایمان بادشاہ تھے جنہوں نے اپنی سلطنت کو عدل و انصاف سے بھر دیا تھا۔ ان کا ایک سفر بھی بحیرہ کیسپین اور بلیک سی کے درمیان ہوا تھا جس کے اشارات قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں ۔ سورہ کہف (18: 98-91) میں ان کا جو واقعہ بیان ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین کی سلطنت کے شمالی علاقے میں آباد اقوام پر اس دور میں بھی یاجوج و ماجوج حملے کیا کرتے تھے۔ بعض لوگوں نے آپ کی بنائی ہوئی دیوار کو اوپر بیان کردہ حدیث میں مذکور دیوار قرار دیا ہے جو کہ درست نہیں ہے۔ جناب ذو القرنین کی بنائی ہوئی دیوار ساتویں صدی عیسوی تک قفقاز کے شہروں دربند اور دریال کے بیچ میں واقع تھی۔ دربند اب بھی داغستان کا ایک شہر ہے جو بحیرہ کیسپین پر واقع ہے جبکہ دریال پہاڑی سلسلہ ہے جو جارجیا اور روس کی سرحد پر واقع ہے۔ اسی سلسلے میں کہیں وہ دیوار رہی ہو گی۔ یاقوت حموی نے اس کا ذکر اپنی کتاب ’’معجم البلدان‘‘ میں کیا ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔

[جاری ہے ]

۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *