(38) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

Download PDF

ترکی کا سفرنامہ (38)

مبشر نذیر

دریائے چوروح

اگر ہم سمندر کے ساتھ ساتھ سفر کرتے تو جارجیا میں داخل ہو جاتے مگر ہوپا سے ہمیں بلیک سی کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہنا تھا۔ یہاں پہنچ کر ہم نے اس سمندر کا آخری نظارہ کیا اور گاڑ ی سمندر سے ہٹ کر اندر کی طرف ڈال لی۔ یہ علاقہ بھی باقی بلیک سی ریجن کی طرح سرسبز پہاڑ وں پر مشتمل تھا۔

اب ہم ایک چھوٹے سے دریا کے ساتھ ساتھ سفر کر رہے تھے جسے نالہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ یہاں کی سڑ ک میں بل بہت زیادہ تھے جس کی وجہ سے گاڑی کو زیادہ اسپیڈ پر بھگانا مشکل ہو رہا تھا۔ ایک مقام پر قدیم دور کا پتھر کا ایک محرابی پل بنا ہوا تھا۔ ڈیڑھ گھنٹے کے سفر کے بعد ہم ’’بورچکا‘‘ جا پہنچے۔ یہاں کچھ ایسا ہی منظر تھا جیسا کہ ہمارے ہاں تھا کوٹ کے قریب شاہراہ قراقرم کا منظر ہوتا ہے جب یہ سڑ ک دریائے سندھ پر آ نکلتی ہے۔ بس فرق یہ تھا کہ ہم دریائے سندھ کی بجائے دریائے چوروح پر پہنچ رہے تھے۔

دریائے چوروح ترکی کے بڑے دریاؤں میں سے ایک ہے۔ یہ دریا ترکی کے شمال مشرقی ریجن کے پہاڑوں سے نکلتا ہے اور اپنے ساتھ بہت سے چھوٹے دریاؤں کو ملاتا ہوا جارجیا میں داخل ہوتا ہے جہاں کچھ سفر طے کرنے کے بعد یہ بلیک سی میں جا گرتا ہے۔ بورچکا پر ایک بڑا ڈیم بنا ہوا تھا جس کی جھیل کئی کلومیٹر تک پھیلی ہوئی تھی۔ ڈیم سے پہلے ہم نے دریا کا پل پار کیا اور دوسری جانب پہنچ گئے۔ اب سڑک بل کھاتی ہوئی اوپر کی طرف جا رہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں ہم پہاڑ کے اوپر جا پہنچے۔ یہاں سے جھیل کا نظارہ قابل دید تھا۔

اب ہماری منزل ’’آرٹوِن‘‘ تھی جو یہاں سے محض 25 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ ڈیم کی وجہ سے دریا جھیل کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ یہ جھیل آرٹون تک ہمارے ہمراہ رہی۔ آرٹون کے بارے میں بروشرز میں بڑے بلنگ و بانگ دعوے کئے گئے تھے۔ اس وجہ سے ہمارے ذہن میں یوزن جھیل جیسا تصور موجود تھا مگر جیسے ہی ہم یہاں پہنچے، ہمارے خوابوں کا تاج محل چکنا چور ہو گیا۔ یہ خشک پتھریلے پہاڑوں کے درمیان واقع ایک چھوٹا سا قصبہ تھا جس میں کہیں کہیں سبزہ نظر آ رہا تھا۔ دریائے چوروح کا رنگ بھی مٹیالا تھا جس کی وجہ سے اس کا حسن بھی ماند پڑ گیا تھا۔

شہر کے بیچ میں ایک نہایت ہی شاندار آبشار موجود تھی جس میں سے بے پناہ پانی نیچے گر رہا تھا۔ میری اہلیہ کہنے لگیں، ’’یہ آبشار قدرتی نہیں لگ رہی۔‘‘ میرا خیال تھا کہ یہ قدرتی ہے۔ ہم کچھ دیر آبشار کے نیچے بیٹھ کر اس کا نظارہ کرنے لگے۔ ہمارے اختلاف کا تھوڑی دیر ہی میں فیصلہ اس طرح ہوا کہ اچانک بجلی چلی گئی اور یہ قدرتی نظر آنے والی آبشار خود بخود بند ہو گئی۔ یہاں ایک دکان سے ہم نے کھانے پینے کی کچھ اشیاء خریدیں۔ میں نے اپنے لئے پھل لیا جس میں ترکی کی مشہور زمانہ خوبانیاں شامل تھیں۔ یہ سائز میں ہماری خوبانیوں سے دوگنا اور نہایت ہی رسیلی تھیں ۔

دکاندار نے مجھے ایرانی سمجھ کر خواہ مخواہ فارسی میں منہ ماری کرنا چاہی۔ جب میں نے اپنا تعارف کروایا تو وہ صاحب بڑے افسردہ ہوئے۔ کہنے لگے، ’’پاکستان کے حالات بہت خراب ہیں۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا میڈیا بھی پاکستان کے حالات کو خاصی کوریج دیتا ہے کہ ایک دور دراز دیہاتی علاقے میں رہنے والوں کو بھی پاکستان کے حالات کا علم ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔

Posted in Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *