(39) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

ترکی کا سفرنامہ (39)

مبشر نذیر

آرٹون کی متوقع خوبصورتی کے باعث ہمارا ارادہ تھا کہ یہاں بھی ایک دو دن رکیں گے مگر اس شہر کے امپریشن نے ہمارے خواب چکنا چور کر دیے تھے چنانچہ ہم نے فیصلہ کیا کہ آگے چل کر کہیں رکا جائے۔ اب ہم دریائے چوروح کے ساتھ ساتھ سفر کرنے لگے۔ کچھ دور جا کر ایک عجیب منظر ہماری نگاہوں کے سامنے آ گیا۔ دریا کے دونوں طرف پہاڑوں کو کھود کر انہیں ایک پیالے کی شکل دی گئی تھی۔ درمیان میں دریا بھی کہیں کہیں چٹانوں کے اندر غائب ہو رہا تھا۔ میرا اندازہ ہے کہ یہاں ماہرین نے دریا کو سرنگوں میں سے گزار کر بجلی پیدا کرنے کا اہتمام کیا ہوا تھا۔

کچھ دور جا کر سبزہ غائب ہو گیا۔ اب ہم چٹیل پتھریلے پہاڑوں کے بیچ میں سفر کر رہے تھے اور دریائے چوروح ہمارے ہمراہ تھا۔ اس پہاڑی سلسلے کو “کچکار” کہا جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ پہاڑ خوفناک ہوتے جا رہے تھے۔ ہم اب ایک تنگ و تاریک درے میں داخل ہو چکے تھے۔ بعض مقامات پر تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پہاڑ جیسے سر پر آ گرے گا۔ محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً لینڈ سلائیڈنگ کی صورت میں جگہ جگہ پہاڑ سڑک پر آ گرا تھا۔ ایک مقام پر تو باقاعدہ گاڑیاں لائن میں رکی ہوئی تھیں۔ اتر کر اگلی گاڑی سے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ یہاں ابھی تازہ تازہ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور ہائی وے ڈیپارٹمنٹ نے گاڑیوں کو روکا ہوا ہے۔ ہم نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا کہ عین ہمارے گزرنے کے وقت سلائیڈنگ نہیں ہوئی۔ کچھ دیر کے بعد سڑک صاف ہوئی تو یہاں سے روانگی ہوئی۔

کافی فاصلہ طے کرنے کے بعد ہم ایک دو راہے پر جا پہنچے۔ یہاں سے ایک سڑک قریب ہی واقع قصبے “یوسف علی” کی طرف جا رہی تھی۔ یہ مقام “دریائی رافٹنگ” کے لئے مشہور ہے۔ رافٹنگ ایسا کھیل ہے جس میں ربڑ کی کشتیوں پر بیٹھ کر تیزی سے بہتے ہوئے پہاڑی دریا میں کشتی رانی کا شوق پورا کیا جاتا ہے۔ میرا بھی ارادہ تھا کہ اس کھیل کا تجربہ کر کے دیکھا جائے مگر اس وقت یہاں ایسے کوئی آثار نہ تھے۔ سنا ہے کہ ہمارے ہاں بھی شمالی علاقوں میں فوجی جوان یہ کھیل کھیلتے ہیں مگر عوام میں یہ کھیل مقبول نہیں ہے۔

یوسف علی کے قریب ایک سروس اسٹیشن پر نماز ادا کرنے کے بعد ہم نے اگلے شہر “ارض روم” کی طرف رخ کیا۔ یہاں سے دریا کی دو شاخیں ہو رہی تھیں۔ ایک تو یوسف علی کی جانب سے آ رہی تھی اور دوسری ارض روم کی طرف سے۔ تھوڑ ی دور جا کر ہمیں “ٹورٹم آبشار” کا بورڈ نظر آیا چنانچہ میں نے اسی طرف گاڑ ی موڑلی۔

ٹورٹم آبشار

پارکنگ میں گاڑی کھڑ ی کر کے ہم آگے بڑھے۔ اس مقام پر لگے ایک تعارفی بورڈ میں ٹورٹم کو ترکی کا سب سے قیمتی قدرتی خزانہ قرار دیا گیا تھا۔ یہاں ایک وسیع وادی تھی جس میں دریائے چوروح ایک پرسکون ندی کی طرح بہہ رہا تھا۔ اچانک دریا کے راستے میں کئی سو فٹ گہری کھائی آ جاتی ہے اور دریا اس کے اوپر سے ایک بہت بڑی آبشار کی صورت میں نیچے گرتا ہے۔ اسی کا نام ٹورٹم آبشار تھا۔

آبشار کے دونوں جانب نیچے جانے کے لئے سیڑ ھیاں بنی ہوئی تھیں ۔ ان سیڑ ھیوں کی تعداد کم از کم 200 تو ہو گی۔ یہ آبشار واقعتاً ترکی کا سب سے قیمتی قدرتی خزانہ تھی۔ یہاں پانی چار حصوں میں تقسیم ہو کر نیچے گر رہا تھا۔ درمیان کے دو حصوں میں پانی زیادہ تھا جبکہ کناروں پر پانی کم تھا۔

ہم ایک طرف کی سیڑھیوں سے نیچے اترنا شروع ہوئے۔ سیڑھیاں اتر کر نیچے پہنچے تو آبشار کا ایک مختلف زاویے سے جائزہ لیا۔ بالکل نیچے پہنچ کر آبشار ایک بڑے سے تالاب میں گر رہی تھی۔ اس تالاب سے پانی چھلک کر دوبارہ ندی کی صورت اختیار کر رہا تھا۔ یہی ندی آگے جا کر دریائے چوروح میں مل رہی تھی۔

یہاں بعض ترک پتھروں پر قدم رکھتے ہوئے آبشار کے قریب جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہم نے اس کوشش سے پرہیز کیا کیونکہ پانی کی وجہ سے پتھر کافی چکنے ہو رہے تھے اور ذرا سی غلطی سے ہم تیز بہتی ہوئی ندی میں گر سکتے تھے۔ آبشار سے اڑنے والی پانی کی پھوار دور تک پھیل رہی تھی۔

کچھ دیر یہاں گزار کر ہم نے واپسی کے لئے دوسری جانب کی سیڑھیوں کا انتخاب کیا۔ اوپر پہنچے تو صورتحال مختلف ہو چکی تھی۔ اب ہم ندی کے دوسری جانب تھے۔ یہاں ندی پرسکون تھی۔ یہی ندی آہستہ آہستہ پہاڑی کے کنارے کی طرف جا رہی تھی جہاں سے یہ یک دم پوری قوت سے آبشار کی صورت میں نیچے گر رہی تھی۔ اس مقام پر ندی کو پار کرنے کے لئے پتھر رکھ کر راستہ بنایا گیا تھا جس پر سے گزر کر ہم واپس پارکنگ میں پہنچ گئے۔ یہاں کچھ ریستوران بنے ہوئے تھے۔ اب شام ہو رہی تھی لہٰذا ہم نے فیصلہ کیا کہ جلد از جلد ارض روم کی طرف روانہ ہوا جائے تاکہ دن کی روشنی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جا سکے۔

کچھ دور جا کر ہم ایک بہت بڑی جھیل پر پہنچ گئے۔ یہ ٹورٹم جھیل تھی۔ سنہرے پہاڑوں کے درمیان اس جھیل کا نیلا پانی خوب صورت منظر پیش کر رہا تھا۔ جھیل کافی بڑی تھی اور سڑک اس کے کنارے پر چل رہی تھی۔ کچھ دیر بعد مغرب ہو گئی اور اندھیرا پھیلنے لگا۔ سڑک اب کافی چوڑی ہو چکی تھی۔ یہاں سنگل سڑک کے بیچ میں ایک لین بنا دی گئی تھی جو کہ اوور ٹیکنگ کے لئے استعمال ہو سکتی تھی۔ اب ہم “ارض روم” کے قریب ہوتے چلے جا رہے تھے۔

ارض روم، ڈوغو بایزید اور کوہ ارارات

ارض روم پہنچے تو یہ ایک عجیب شہر خموشاں کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ابھی عشاء کی اذان ہو رہی تھی اور پورا شہر بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمیں ہوٹل ڈھونڈنا نہیں پڑا۔ جلد ہی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل نظر آیا جس کے نیچے ریستوران بھی بنا ہوا تھا۔ ہوٹل میں داخل ہوئے تو ریسپشن پر مامور صاحب نماز پڑھ رہے تھے۔ ہمیں بھوک لگ رہی تھی۔ نیچے موجود ریستوران میں داخل ہوئے تو ماحول کچھ ایرانی سا لگا۔ اس سے پہلے اہل ترکی مجھے “پاشا” کہہ کر پکار رہے تھے، ایران سے قربت کے باعث یہاں انہوں نے مجھے “آغا” قرار دیا۔

ہوٹل کے کاؤنٹر پر ایک باریش ترک بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ ہمارا خیر مقدم کیا۔ اب کھانے کے انتخاب کا مسئلہ تھا۔ سامنے تھال میں کھانے سجے ہوئے تھے۔ سوچ سمجھ کر سبزی گوشت کا انتخاب کیا جو کہ درست ثابت ہوا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہ ہمارے ہی کھانوں کی ابتدائی شکل ہو جس سے ارتقاء کرتے کرتے موجودہ پاکستانی سالن وجود میں آیا ہو۔ کھانے سے فارغ ہو کر میں ہوٹل میں کمرہ لینے کے لئے گیا۔ ریسپشن پر موجود صاحب کی نماز ابھی جاری تھی۔ نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے کمرہ دکھایا جہاں ہمیں رات گزارنا تھی۔

ارض روم مشرقی ترکی کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ بھی ایک قدیم شہر ہے جس کی تاریخ 4000 قبل مسیح تک جاتی ہے۔ شہر کے نام کی وجہ یہ ہے کہ جب مسلم حکومتوں نے مشرقی اناطولیہ کا علاقہ فتح کیا تو ان کی سرحدیں اس شہر پر آ کر رک گئیں۔ اس زمانے میں یہ رومی سلطنت کا آخری شہر ہوا کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عربی اور فارسی میں اسے “ارض روم” یعنی روم کی سرزمین کا نام دے دیا گیا۔ اپنی سرحدی لوکیشن کی وجہ سے یہ شہر تاریخ میں ہمیشہ جنگوں کا مرکز بنا رہا ہے۔ ابن بطوطہ کے دور میں یہاں سلجوقیوں اور تاتاریوں کے درمیان جنگ کے نتیجے میں یہ شہر تباہ ہو گیا تھا۔ اپنے سفر نامے میں موصوف لکھتے ہیں :

ہم مڑ کر ارزو روم (ارض روم) شہر پہنچے۔ یہ عراق کے شہروں میں سے ایک شہر ہے جس کا رقبہ بہت زیادہ ہے۔ اس کا اکثر حصہ اس فتنہ کے باعث تباہ ہو چکا تھا جو کہ ترکمان کے دو گروہوں کے مابین واقع ہوا۔ اس میں سے تین دریا گزرتے ہیں ۔ اس کے اکثر حصے پر باغات پھیلے ہوئے ہیں ۔

ترکی کے باقی حصوں کی طرح ارض روم میں بھی صبح بہت جلد ہو گئی۔ ناشتے کے طور پر ایک بیکری سے پنیر کے پیٹز لئے۔ میں چونکہ دوپہر کے کھانے میں صرف پھل کھاتا ہوں، اس لئے ایک پھلوں کی دکان سے ڈھیر سارے انگور، خوبانیاں اور آڑو بھی خریدے ۔ اب میرے پاس ترکش لیرا ختم ہو رہے تھے۔ ایک بینک ڈھونڈ کر یہاں سے لیرا حاصل کرنے کے بعد ہم شہر سے نکلنے کو تیار ہو گئے۔

فتح اللہ گولان

ارض روم کی مشہور شخصیات میں محمد فتح اللہ گولان شامل ہیں۔ آپ ایک مذہبی سکالر، مفکر، ممتازاہل قلم اورشاعر ہیں۔ گولان نے جدید معاشرتی اورطبعی علوم کے اصول و ضوابط اورنظریات کا بھی عمیق مطالعہ کیا۔ انہوں نے ترکی میں ایک اسلام پسند تعلیمی تحریک کی بنیاد رکھی۔

محمد فتح اللہ گولان نے اپنے خطبات اورتحریروں میں اکیسویں صدی کا ایسا تصور پیش کیا ہے جس میں ہم ایک ایسی ہمہ پہلو روحانی تبدیلی کا مشاہدہ کریں گے جو خوابیدہ اخلاقی اقدار میں ایک نئی روح پھونکے گی۔ یہ برداشت، فہم و فراست اور بین الاقوامی تعاون کا دور ہو گا۔ جو کہ تہذیبوں کے درمیان مکالمہ اورمشترکہ اقدار کی بنا پر ایک مشترک معاشرتی تہذیب کی طرف راہنمائی کرے گا۔ تعلیم کے میدان میں انہوں نے بہت سے فلاحی ادارے بنانے میں سرپرستی کی ہے۔ جن کا مقصد نہ صرف ترکی کے اندر بلکہ ترکی کے باہر بھی رفاہ عامہ کے لیے کام کرنا ہے۔ انہوں نے عوام کو انفرادی اوراجتماعی طور پر اہم مسائل سے آگاہی کے لیے میڈیا خاص طور پر ٹیلی ویژن کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

گولان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عوام کے لیے انصاف کا حصول، معقول اورمناسب تعلیم پر منحصر ہے۔ صرف اسی صورت میں دوسروں کے حقوق کی حفاظت اوراحترام کا مناسب فہم اور بردباری کا جذبہ پیدا ہو گا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے سالہاسال سے معاشرے کے سرکردہ افراد اور راہنماؤں، مضبوط صنعت کاروں اورچھوٹے کاروباری لوگوں کو اس بات پر ابھارا کہ وہ تعلیمی معیار بڑھانے میں امدا دکریں۔ ان ذرائع سے حاصل ہونے والے عطیات سے تعلیمی رفاہی ادارے اس قابل ہوئے کہ وہ ترکی میں اورترکی سے باہر بہت سے سکول قائم کریں۔

گولان کے مطابق جدید دنیا میں آپ ترغیب سے ہی دوسروں کو اپنے خیالات ماننے کے لیے قائل کرسکتے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ جو لوگ اپنے خیالات زبردستی دوسروں پر ٹھونسنا چاہتے ہیں وہ عقلی طور پر دیوالیہ ہیں۔ لوگ ہمیشہ اپنے معاملات میں طریقہ کار کے انتخاب اوراپنی مذہبی و روحانی اقدار کے اظہارکے لیے آزادی چاہیں گے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ جمہوریت اپنے تمام تر نقائص کے باوجود اب واحد پائیدار سیاسی نظام ہے اور لوگوں کوچاہیے کہ وہ جمہوری اداروں کو جدید اور مستحکم بنانے کی کوششیں کریں۔ تاکہ ایک ایسا معاشرہ قائم کیاجا سکے جس میں انفرادی حقوق اورآزادی نہ صرف محفوظ ہوں بلکہ ان کا احترام کیا جاتا ہو۔ جہاں سب کے لیے مساوی مواقع ایک خواب کی طرح نہ ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Uncategorized, ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *