(40) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

ترکی کا سفرنامہ (40)

مبشر نذیر

ان کی کئی تحریروں کا ترجمہ جرمن، روسی، البانوی، جاپانی، انڈونیشیائی  ہسپانوی اور اردو زبانوں میں بھی ہو چکا ہے۔ گولان کی تحریروں کو ان کی ویب سائٹ www.fgulen.com پر دیکھا جا سکتا ہے۔

آئل چینج کا مسئلہ

طویل سفر کے بعد آئل چینج کرنا بہت ضروری ہو گیا تھا۔ میں نے ایک سروس اسٹیشن پر گاڑی روکی اور بونٹ اٹھا کر وہاں موجود اسٹاف کو آئل چینج کرنے کے لئے کہا۔ یہ صاحب برٹش پٹرولیم کے تیل کی بوتل اٹھا لائے اور انجن میں موجود تیل نکالے بغیر اسے گاڑی میں ڈالنے لگے۔ میں نے مداخلت کی اور پہلے پرانا تیل نکالنے کے لئے کہا لیکن ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آ سکی۔ یہ اپنے ایک دوست کو بلا لائے جو کچھ کچھ انگریزی جانتے تھے۔ انہیں بمشکل بات سمجھائی اورانہوں نے بمشکل دوسرے کو یہی بات سمجھائی۔ کہنے لگے، ہمارے پاس نیچے سے نٹ کھولنے کا سامان نہیں ہے۔ دوسرے اسٹیشن پر گئے تو وہاں بھی یہی مسئلہ سامنے آیا۔

مجھے یاد آیا کہ رات شہر میں داخل ہوتے وقت راستے میں ایک جگہ بہت سی ورکشاپس دیکھی تھیں۔ اب ہم وہاں کی طرف روانہ ہوئے۔ ایک مکینک کو آئل چینج کا کہا تو انہوں نے ایگزان موبل، شیل، کالٹیکس اور برٹش پٹرولیم کے تیل کے ڈبے سامنے رکھ دیے اور پوچھا: “کون سا۔” میں نے ایک کا انتخاب کیا۔ یہ صاحب بھی اسی طرح بغیر پرانا تیل نکالے انجن کا ڈھکنا کھولنے لگے۔ اب میں نے تقریباً رقص کرتے ہوئے اشاروں سے بات انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔ خدا کا شکر ہے کہ بات ان کی سمجھ میں آ گئی۔ انہوں نے ساتھ والی ورکشاپ پر آنے کو کہا۔ یہاں زمین میں باقاعدہ خندق کھدی ہوئی تھی۔ ان صاحب نے نیچے اتر کر نٹ کھولا اور پرانا تیل نکالا۔ اس کے بعد نیا تیل ڈال کر فلٹر تبدیل کیا۔ مجھے ان کی صفائی پر حیرت ہو رہی تھی۔ ہمارے مکینک حضرات تو رات کو گھر جاتے ہوئے ہی ہاتھ دھوتے ہیں جبکہ یہ صاحب ہر دو منٹ بعد مخصوص لیکوڈ ہاتھوں پر مل کر ہاتھ دھو رہے تھے ۔ اب ہم “ڈوغو بایزید” جانے کے لئے تیار تھے۔

روم و ایران کی جنگ

اب ہم ارض روم سے ایران جانے والی سڑک پر رواں دواں تھے۔ قدیم دور میں یہ پورا علاقہ “آرمینیا” کہلاتا تھا جس میں موجودہ ترکی کا تقریباً پورا مشرقی علاقہ شامل تھا۔ موجودہ دور میں آرمینیا ایک الگ ملک ہے جو اسی علاقے میں ترکی کے مشرق میں واقع ہے۔ آرمینیا پر بھی 1991ء تک روس نے قبضہ جمایا ہوا تھا۔ آرمینیا سے پرے آذر بائیجان کا علاقہ ہے جس کا کچھ حصہ ایران کے صوبے آذر بائیجان میں شامل ہے اور بقیہ حصہ ایک علیحدہ ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔

عہد رسالت میں آرمینیا کا علاقہ روم اور ایران کی سپر پاورز کے درمیان سرحدی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کا کچھ حصہ ایران اور باقی حصہ روم کے زیر اثر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکی زندگی کے زمانے میں روم اور ایران کے مابین اس علاقے میں شدید جنگ ہوئی۔ ایرانیوں نے ان جنگوں کو مجوسیت اور مسیحیت کے درمیان جنگ کا نام دیا۔ عیسائیوں کے جن فرقوں کو کلیسا نے بدعتی قرار دیا تھا، وہ اور یہودی اس جنگ میں ایرانیوں کے ساتھ تھے۔ شروع میں ایران کی افواج غالب آئیں۔ مکہ کے مشرکین کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ تھیں کیونکہ یہ ان کے مشرک بھائی تھے جبکہ مسلمانوں کی ہمدردیاں عیسائیوں کے ساتھ تھیں کیونکہ یہ بہرحال توحید، نبوت اور آخرت پر ایمان رکھتے تھے۔ اسی دوران سورہ روم نازل ہوئی۔

’’رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہو گئے ہیں اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال میں وہ غالب ہو جائیں گے۔ اللہ ہی کا اختیار ہے، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور وہ دن وہ ہو گا جب اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر اہل ایمان خوشیاں منائیں گے۔ اللہ جس کی چاہے مدد فرماتا ہے اور وہ زبردست اور مہربان ہے ۔‘‘ (روم 30: 5-1 )

جب یہ آیات نازل ہوئیں تو مشرکین مکہ نے مسلمانوں کا خوب مذاق اڑایا کہ تمہارے خدا نے یہ کیا بات کر دی ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ایرانی افواج، رومیوں کو مارتے ہوئے تقریباً پورا اناطولیہ فتح کر چکی تھیں اور استنبول فتح کرنے کے قریب تھیں ۔ جنوب میں انہوں نے پورا شام، فلسطین اور مصر فتح کر لیا تھا۔ سید ابو الاعلی مودودی لکھتے ہیں:

619ء تک پورا مصر ایران کے قبضے میں چلا گیا اور مجوسی فوجوں نے طرابلس (موجودہ لیبیا) کے قریب پہنچ کر اپنے جھنڈے گاڑ دیے۔ ایشیائے کوچک (موجودہ ترکی) میں ایرانی فوجیں رومیوں کو مارتی دباتی باسفورس کے کنارے تک پہنچ گئیں اور 617ء میں انہوں نے عین قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کے سامنے خلقدون (موجودہ قاضی کوئی ) پر قبضہ کر لیا۔ قیصر نے خسرو کے پاس ایلچی بھیج کر نہایت عاجزی کے ساتھ درخواست کی کہ میں ہر قیمت پر صلح کرنے کے لئے تیار ہوں۔ مگر اس نے جواب دیا کہ “اب میں قیصر کو اس وقت تک امان نہ دوں گا جب تک کہ وہ پا بزنجیر میرے سامنے حاضر نہ ہو اور اپنے خدائے مصلوب کو چھوڑ کر خداوند آتش کی بندگی اختیار نہ کر لے ۔ ” آخر کار قیصر اس حد تک شکست خوردہ ہو گیا کہ اس نے قسطنطنیہ چھوڑ کر قرطاجنہ (موجودہ تیونس) منتقل ہو جانے کا ارادہ کیا۔

شہنشاہ ایران خسرو کے غرور و تکبر کا اندازہ اس خط سے ہوتا ہے ، جو اس نے یروشلم کی فتح کے وقت قیصر روم کے نام لکھا۔

سب خداؤں سے بڑے خدا، تمام روئے زمین کے مالک خسرو کی طرف سے اس کے کمینہ اور بے شعور بندے ہرقل کے نام۔ تو کہتا ہے کہ تجھے اپنے رب پر بھروسہ ہے۔ کیوں نہ تیرے رب نے یروشلم کو میرے ہاتھ سے بچا لیا۔

قرآن مجید کی اوپر بیان کردہ آیات میں یہ خوشخبری تھی کہ جب اہل روم غلبہ پائیں گے تو اسی زمانے میں اہل ایمان بھی کفار مکہ کے مقابلے میں غالب ہوں گے۔ ان آیات کے نزول کے چند ہی برس کے عرصے میں ایسا ہی ہوا۔ مودودی صاحب لکھتے ہیں:

622ء میں ادھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لے گئے اور ادھر قیصر ہرقل خاموشی سے قسطنطنیہ سے بحر اسود کے راستے ترابزن کی طرف روانہ ہوا جہاں سے اس نے ایران پر پشت کی طرف سے حملہ کرنے کی تیاری کی۔ اس جوابی حملے کی تیاری کے لئے قیصر نے کلیسا سے روپیہ مانگا اور مسیحی کلیسا کے اسقف اعظم سرجیس نے مسیحیت کو مجوسیت سے بچانے کے لئے گرجاؤں کے نذرانوں کی جمع شدہ دولت سود پر قرض دی۔ ہرقل نے اپنا حملہ 623ء میں آرمینیا سے شروع کیا اور دوسرے سال 624ء میں اس نے آذر بائیجان میں گھس کر زرتشت کے مقام پیدائش ارمیاہ (Clorumia) کو تباہ کر دیا اور ایرانیوں کے سب سے بڑے آتش کدے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ خدا کی قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ یہی وہ سال تھا جس میں مسلمانوں کو بدر کے مقام پر پہلی مرتبہ مشرکین کے مقابلے میں فیصلہ کن فتح نصیب ہوئی۔ اس طرح وہ دونوں پیشین گوئیاں جو سورہ روم میں کی گئی تھیں ، دس سال کی مدت ختم ہونے سے پہلے بیک وقت پوری ہو گئیں ۔

پھر روم کی فوجیں ایرانیوں کو مسلسل دباتی چلی گئیں ۔ نینویٰ کی فیصلہ کن لڑائی (627ء) میں انہوں نے سلطنت ایران کی کمر توڑ دی۔ اس کے بعد شاہان ایران کی قیام گاہ دسکرۃ الملک کو تباہ کر دیا گیا اور آگے بڑھ کر ہرقل کے لشکر عین طیسفون (Ctesiphon) کے سامنے پہنچ گئے جو اس وقت ایران کا دار السلطنت تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *