(41) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

مبشر نذیر

ترکی کا سفرنامہ (41)

شاہراہ ریشم

اب ہم ارض روم سے مشرق کی طرف جا رہے تھے۔ یہ شاہراہ ریشم (Silk Route) تھی۔ بعض قارئین کو حیرت ہو گی کہ شاہراہ ریشم تو اپنی شاہراہ قراقرم کو کہا جاتا ہے جو چین جاتی ہے، یہ ترکی میں کہاں سے آ گھسی۔ شاہراہ ریشم کسی خاص سڑک کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک قدیم راستے بلکہ راستوں کے مجموعے کا نام ہے جس کے ذریعے یورپ سے لے کر چین تک تجارت کی جاتی تھی۔ یورپ سے تجارتی سامان بلیک سی کے راستے ترابزن لایا جاتا جہاں سے یہ ارض روم پہنچا دیا جاتا۔ یہاں سے تجارتی قافلے ایران کے شہر تبریز پہنچ جاتے۔ اس کے بعد یہ زنجان، قزوین، تہران اور نیشاپور سے ہوتے ہوئے پورا ایران پار کر کے ہرات سے افغانستان میں داخل ہوتے۔ ان قافلوں میں سے بعض بخارا، سمرقند اور تاشقند سے ہوتے ہوئے دریائے آمو کے ساتھ ساتھ چین کی طرف چلے جایا کرتے تھے۔

افغانستان میں یہ تجارتی قافلے ہرات، قندہار، غزنی اور کابل سے سفر کرتے ہوئے پشاور کے قریب موجودہ پاکستان کے علاقے میں داخل ہوتے۔ یہاں سے شاہراہ ریشم کے دو حصے ہو جایا کرتے تھے۔ ایک حصہ جنوب مشرق میں لاہور اور پھر دہلی تک جاتا جبکہ دوسرا حصہ شمال مشرق میں مانسہرہ اور گلگت سے ہوتا ہوا چین کے شہر کاشغر پہنچ جاتا۔ یہاں سے پھر آگے چین کے دیگر شہروں میں تجارت ہوا کرتی تھی۔

دور جدید میں سلک روٹ کو دوبارہ آباد کرنے کی کئی مرتبہ کوشش کی گئی ہے۔ شاہراہ قراقرم کی صورت میں چین اور پاکستان نے سڑک تعمیر کر دی ہے۔ ایران اور ترکی میں ان کی سڑکوں کا اپنا نیٹ ورک موجود ہے ۔ درمیان میں افغانستان کے حالات کی وجہ سے یہ لنک ٹوٹا ہوا ہے۔ اللہ تعالی اگر اس ملک کو امن نصیب کر دے تو یہ رابطہ دوبارہ بحال ہو سکتا ہے۔ جن دنوں ہم ترکی میں شاہراہ ریشم پر سفر کر رہے تھے، انہی دنوں یہ خبر بھی نظر سے گزری کہ اسلام آباد سے استنبول تک کارگو ٹرین سروس کا آغاز ہو رہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ جدید دور کی شاہراہ ریشم ثابت ہو جائے۔

فیری چمنی

ہمارے ساتھ ساتھ ریلوے لائن چل رہی تھی۔ ارض روم سے نکل کر پہلا شہر “پسنلر” آیا۔ یہاں پہاڑ کی چوٹی پر ایک قلعہ بنا ہوا تھا۔ قلعے کے نیچے ایک عجیب منظر تھا۔ ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ کون نما گھر بنے ہوئے تھے ۔ ایسے گھر ہم نے پہلے کبھی نہ دیکھے تھے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ آتش فشانی مادہ پر مشتمل کونز تھیں جن کو کھوکھلا کر کے لوگوں نے ان میں اپنے گھر بنا رکھے تھے ۔ انہیں “فیری چمنی” کا نام دیا گیا ہے۔ اس قسم کے بہت سے گھر ترکی کی مشہور تاریخی سائٹ “کپا دوجیا” میں واقع ہیں۔ فیئری چمنی کو دیکھنے کا فائدہ یہ ہوا کہ ہم “کپادوجیا” کے طویل سفر سے بچ گئے جو کہ ان فیری چمنیوں کا گڑھ ہے۔

سلاجقہ

پسنلر کا قلعہ سلجوقی دور کی یادگار لگ رہا تھا۔ قلعہ سیاہ رنگ کی چٹانوں کے اوپر بنا ہوا تھا۔ بعد میں تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ قلعہ رومن دور میں آرمینیوں نے تعمیر کیا۔ اس کے بعد سلجوقی دور کے گورنر اوزون حسن نے پندرہویں صدی میں اس کی تعمیر نو کی۔ سلجوقی حکمرانوں کا تعلق ترکمانستان سے تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ان قبائل نے منظم ہونا شروع کیا۔ دسویں اور گیارہویں صدی عیسوی میں یہ جنوب کی طرف اپنی حکومت کو توسیع دیتے چلے گئے۔ ان کے لیڈر کا نام سلجوق تھا۔

1055ء میں سلجوق کے پوتے طغرل بیگ نے بغداد فتح کر لیا۔ اس زمانے میں عباسی بادشاہ وزیروں کے مشہور خاندان “آل بویہ” کے زیر اثر ہوا کرتا تھا۔ حکومت کے تمام فیصلے آل بویہ کیا کرتے ۔ طغرل بیگ نے اس خاندان کے اثر سے بادشاہ کو آزاد کروایا۔ اب عباسی بادشاہ سلجوقیوں کا سرپرست تھا جبکہ حقیقی حکومت سلاجقہ کے ہاتھوں میں تھی۔ طغرل بیگ کے بعد حکومت اس کے بھتیجے الپ ارسلان کے ہاتھ میں آئی جس نے سلطنت کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد ملک شاہ کا دور آیا جس میں سلجوقی سلطنت اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ انہوں نے رومیوں کو متعدد جنگوں میں شکست دے کر تقریباً پورے اناطولیہ پر اپنی حکومت قائم کر لی۔ بعد میں انہوں نے قونیہ کو اپنا دارلحکومت قرار دیا۔

سلجوقی حکمران علم کے دلدادہ تھے۔ انہوں نے پورے ملک میں تعلیمی اداروں کاجال بچھا دیا۔ اس کی تفصیل ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔ اس کے علاوہ پورے ملک میں سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کر کے انہوں نے تجارت کو فروغ دیا۔ تقریباً 1300ء کے لگ بھگ سلجوقی سلطنت کا زوال شروع ہوا جب یہ مشرق سے تاتاریوں کی یلغار کے آگے نہ ٹھہر سکے۔ اس کے بعد ایران کی صفوی حکومت اور وسطی ایشیا کی عثمانی حکومت کی یلغاروں نے سلاجقہ کا خاتمہ کر دیا۔

پسنلر سے آگے نکلے تو ہم نے خود کو ایک وسیع وادی میں پایا۔ پہاڑ اب کافی دور ہو چکے تھے ۔ وسیع وادی میں ہم دریائے آرس کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ دریا کی وجہ سے یہ وادی قابل کاشت تھی اس لئے دور دور تک کھیت ہی کھیت نظر آ رہے تھے۔ ان کھیتوں میں سورج مکھی کے پھول چمک رہے تھے۔ کھیتوں میں کرد کسان پینٹ کوٹ پہن کر کام کر رہے تھے۔ یہ منظر ہمارے پنجاب سے بہت مختلف تھا جہاں کے کسان دھوتی کرتے میں کام کرتے ہیں۔ ترکوں کے ہاں خوش لباسی کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ ہمارے ساتھ پٹری سے ٹرین گزری جس کی بو گیوں کا رنگ ہماری “قراقرم ایکسپریس” جیسا تھا۔ یہ ایک نہایت ہی سست ٹرین تھی۔

کچھ دور جا کر سڑک کے قریب دریا پر ایک پل نظر آیا۔ یہ ایک قدیم پل تھا جو سلجوقیوں نے تعمیر کیا تھا۔ بعد میں مشہور آرکی ٹیکٹ سنان نے اس پل کی تعمیر نو کروائی تھی۔ اب اس پل کو اس کی تاریخی حیثیت کے پیش نظر بند کر دیا گیا تھا۔ تھوڑی دور جا کر ہمیں تیز بارش نے آ لیا۔ دریائے آرس کے کنارے تیز بارش نے کافی لطف دیا۔

حراسان، آغری اور کردستان

اگلا شہر “حراسان” تھا۔ اسے خراسان نہ پڑھیے گا جو کہ افغانستان کا پرانا نام ہے۔ یہ بھی ایک چھوٹا سا شہر تھا۔ یہ پورا علاقہ کردستان کا حصہ تھا۔ باقی ترکی کی نسبت کردستان کے شہر اتنے صاف اور ترقی یافتہ محسوس نہیں ہو رہے تھے۔ اس کی ایک خاص وجہ تھی۔ اس علاقے میں کرد آبادی ایران، عراق اور ترکی میں تقسیم ہوئی ہے۔ کردوں کی شدید خواہش ہے کہ ان کا علیحدہ وطن ہو۔ اس وجہ سے یہ لوگ پچھلے پچاس برس سے تینوں ملکوں میں تحریک آزادی چلا رہے ہیں جس میں بسا اوقات نوبت تشدد تک پہنچ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تینوں ممالک کی فوج نے کردوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کی پوری کوشش کی ہے ۔

پچھلی صدی میں آزادی کی بہت سی تحریکیں مختلف ممالک میں چلی ہیں ۔ آزادی کی تحریکیں بالعموم ان علاقوں میں چلتی ہیں جہاں حکومت غیر قوم کے افراد کے ہاتھ میں ہو۔ ان تحریکوں کے لیڈر عوام الناس میں غیر قوم کے حکمرانوں سے نفرت کو بھڑکا کر انہیں یا تو مسلح جدوجہد کے لئے تیار کرتے ہیں اور یا پھر انہیں سڑکوں پر لا کر آزادی کا مطالبہ پیش کرتے ہیں۔ اگر ان تحریکوں کا جائزہ لیا جائے تو ایک عجیب حقیقت سامنے آتی ہے۔ ان تحریکوں میں عام طور پر غریب طبقے کے افراد اپنی جان، مال اور آبرو کی قربانیاں پیش کرتے ہیں۔ اس کے بعد جب تحریک کامیاب ہو جاتی ہے تو سارے کا سارا فائدہ تحریک کے لیڈروں کو چلا جاتا ہے اور قربانیاں پیش کرنے والے افراد کی حالت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔

مثال کے طور پر برصغیر کی تحریک آزادی کو دیکھیے۔ انگریزوں کے خلاف تحریک میں اصل قربانیاں یہاں کے غریب عوام نے دیں۔ جب انگریز یہاں سے رخصت ہوا تو اقتدار مقامی اشرافیہ کے حصے میں آیا۔ پاکستان اور ہندوستان دونوں ممالک میں سب سے پہلے تحریک آزادی کے مخلص راہنماؤں کا صفایا کیا گیا۔ پاکستان میں محمد علی جناح کو مناسب علاج فراہم نہ کر کے اور لیاقت علی خان کو براہ راست قتل کر کے راستے سے ہٹایا گیا۔ ہندوستان میں گاندھی جی کو قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک میں کرپٹ اشرافیہ کی حکومت قائم ہوئی جو اس پورے عرصے میں اپنے اپنے ملک کو لوٹ کر کھاتی رہی۔ جن لوگوں نے آزادی کے لئے حقیقی قربانیاں پیش کیں، ان کا کوئی پرسان حال نہ رہا۔ اس پر وہی مثال صادق آتی ہے کہ درد سہیں بی فاختہ، کوے انڈے کھائیں ۔

کچھ ایسا ہی معاملہ کردستان کا ہے۔ تینوں ممالک یعنی عراق، ترکی اور ایران میں ایک عرصے سے تحریک چل رہی ہے۔ کردوں کے لیڈر اپنے غریب عوام کو وطن کے لئے جان دینے پر تیار کرتے ہیں البتہ آزادی کے بعد تمام تر فائدہ لیڈروں ہی کو ہو گا۔

اگلا شہر “آغری” تھا جو کہ صوبائی دارلحکومت کا مقام رکھتا تھا۔ شہر کے شروع میں خوبصورت جدید فلیٹ بنے ہوئے تھے۔ آگے ایک چوک پر میں نے ایک صاحب سے “ڈوغو بایزید” جانے والی سڑک کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے تفصیل سے راستہ سمجھایا۔ یہ صاحب بس کے انتظار میں کھڑے تھے۔ اس دوران ان کی بس نکل گئی۔ مجھے اس کا افسوس ہوا۔ میں نے سوچا کہ انہیں جہاں جانا ہے، ڈراپ کر دوں مگر اتنے میں ایک اور بس آ گئی۔

آغری کے بعد روڈ کافی خراب تھی۔ جگہ جگہ سڑک کو کھود کر دوبارہ بنایا جا رہا تھا جس کی وجہ سے سفر کی رفتار کافی سست تھی۔ دو گھنٹے میں ہم ڈوغو بایزید جا پہنچے جو کہ شاہراہ ریشم پر ترکی کا آخری شہر تھا۔ یہ شہر ترکی، ایران اور آرمینیا کی سرحد پر واقع ہے ۔ آذر بائیجان کی سرحد بھی یہاں سے کافی قریب ہے ۔ [جاری ہے ]

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Articles By Other Writers, Uncategorized | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *