(42) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

Download PDF

مبشر نذیر

ترکی کا سفرنامہ (42)

ارارات کا پہلا نظارہ

کوہ ارارات یا آرات ترکی کا سب سے اونچا مقام ہے۔ اس کی بلندی 16000 فٹ سے زائد ہے۔ اس پہاڑ کا منظر نہایت ہی دلفریب تھا۔ بہتر ہو گا کہ میں اسے اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی بجائے مستنصر حسین تارڑ صاحب کے الفاظ میں بیان کروں کیونکہ ان کا طرز بیان بہت دلنشیں ہے۔ انہوں نے 1960ء کے زمانے میں پاکستان سے برطانیہ خشکی کے راستے سے سفر کیا تھا جس کی تفصیلات انہوں نے اپنے سفرنامے “نکلے تیری تلاش میں” میں بیان کی ہیں۔ پاکستان سے تارڑ صاحب اپنے دوست علی کے ہمراہ افغانستان اور ایران سے ہوتے ہوئے جب ترکی میں داخل ہوئے تو ان کے سامنے وہی منظر تھا جو اس وقت ہمارے سامنے تھا۔ لکھتے ہیں:

’’صدر دروازے سے باہر نکل کر ترکی کی سرزمین پر جب پہلا قدم رکھا تو میری آنکھیں چندھیا گئیں۔ میرے سامنے خنک چاندی کی چمکتی ہوئی ایک دیوار کھڑی تھی۔ دامن سے چوٹی تک سفید برف کے بوجھ تلے دبا ہوا بلند پہاڑ جو سرحد کے اس پار سے دھندلا کہر آلود بادل معلوم ہوتا تھا۔ اتنا نزدیک جیسے ہاتھ بڑھاؤ تو ایک چھناکے سے چھن چھن کرتی چاندی تمام وادی میں بکھر جائے۔ یہ کوہ آرات تھا۔ روایت ہے کہ طوفان نوح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کے بعد حضرت نوح کی کشتی اسی پہاڑ کی چوٹی پر لنگر انداز ہوئی تھی۔ آرات کے پہلومیں بے شمار چوٹیوں نے سر اٹھا رکھے تھے لیکن سبھی خشک اور ویران۔ اس مقدس پہاڑ کی عظمت کا اقرار کرتے ہوئے سر بسجود۔

آرات کا پورا پہاڑ سورج کی روشنی سے چمک رہا تھا مگر گرد و نواح کے پہاڑوں اور گہری وادیوں میں دھندلکا چھا رہا تھا۔ شام ہونے کو تھی۔ قہوہ خانے کا مالک اب کباب بھوننے کی بجائے زمین پر بیٹھا آگ تاپ رہا تھا۔ میں نے آرات کی چوٹی کی جانب اشارہ کر کے پوچھا: “اس کی برف کس موسم میں پگھلتی ہے؟”، “آرات کی برف کبھی نہیں پگھلتی۔” اس نے تقدس آمیز نظروں سے چوٹی کی طرف دیکھتے ہوئے مجھے بتایا۔ “یہ نوحؑ کا پہاڑ ہے۔ وادی کے دوسری طرف جس صبح موسم صاف ہو تو اس کی اجلی برفوں میں ایک کالا دھبہ دکھائی دیتا ہے ۔ لوگ کہتے ہیں وہ نوحؑ کی کشتی کا ایک حصہ ہے۔”۔۔۔۔

آج سے تقریباً سات سو برس پیشتر مارکو پولو بھی اسی راستے سے گزرا تھا۔ وہ اپنے سفرنامے میں لکھتا ہے : “آرمینیا کے قلب میں ایک نہایت بلند پیالہ نما پہاڑ واقع ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ نوحؑ کی کشتی یہاں لنگر انداز ہوئی تھی اور اسی مناسبت سے اسے “نوح کا پہاڑ ” کہتے ہیں ۔ یہ اتنا لمبا چوڑا ہے کہ اس کے گرد چکر لگانے میں دو دن صرف ہو جاتے ہیں۔ چوٹی پر برف پوری طرح کبھی نہیں پگھلتی بلکہ ہر سال پرانی برف پر نئی برف کی تہیں جم جاتی ہیں اور اس طرح اس کی بلندی میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔ برف کے پگھلنے سے پہاڑ کا دامن سرسبز اور زرخیز ہے ۔”

ہمارے سامنے بھی یہی منظر تھا جس کی طرف مارکوپولو اور تارڑ صاحب نے اشارہ کیا ہے ۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس وقت پہاڑ کی چوٹی مکمل طور پر بادلوں میں ڈھکی ہوئی تھی۔ جس کی وجہ سے میں اس کی صاف تصویر نہ لے سکا۔ پہاڑ کا نچلا حصہ نمایاں نظر آ رہا تھا۔ ارد گرد کے پہاڑ بھی کافی بلند تھے مگر ارارات کے آگے وہ بونے محسوس ہو رہے تھے۔ پہاڑ کی چوٹی پر برف اب بھی موجود تھی اور اس کے گلیشیئر نیچے تک آئے ہوئے تھے ۔

[جاری ہے ]

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *