(43) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

مبشر نذیر

ترکی کا سفرنامہ(43)

سیدنا نوح علیہ الصلوۃوالسلام کی دعوت

سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں ایک بہت بڑے طوفان کی خبر ہمیں مذہبی صحائف سے ملتی ہے۔ اس کی جو تفصیلات قرآن مجید نے بیان کی ہیں، یہاں ہم وہ پیش کر رہے ہیں:

جب ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ (انہوں نے کہا:) “میں تمہیں صاف صاف خبر کرنے والا ہوں کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ ایک دن تم پر درد ناک عذاب آئے گا۔” جواب میں ان کی قوم کے سرداروں، جنہوں نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا تھا، نے کہا: “ہمارے خیال میں تم ہمارے جیسے انسان ہی ہو۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری قوم میں سے بس ان لوگوں نے جو ہمارے ہاں ذلیل تھے، بغیر سوچے سمجھے تمہاری پیروی کر لی ہے۔ ہمیں تم میں کوئی ایسی بات نظر نہیں آ رہی جس میں تم ہم سے بہتر ہو۔بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا ہی سمجھتے ہیں۔

انہوں نے فرمایا: “اے میری قوم! دیکھو میں تو اپنے رب کی طرف سے (آفاق و انفس کی) روشن دلیل پر قائم تھا اور اس نے اپنے پاس سے مجھے رحمت (نبوت) عطا فرمائی۔ اب اگر تمہیں یہ نظر نہیں آ رہی تو ہم تمہیں اسے ماننے پر کیسے مجبور کر سکتے ہیں؟ اے میری قوم! میں اس کام کے بدلے تم سے کوئی مال نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے۔ میں ان لوگوں کو اپنے پاس سے ہٹانے سے بھی رہا جو ایمان لے آئے ہیں۔ وہ تو اپنے رب کے پاس جانے والے ہیں۔ مگر میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم جہالت برت رہے ہو۔ اے میری قوم! اگر میں ان (کمزور) اہل ایمان کو دھتکار دوں تو خدا کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا؟ تمہاری سمجھ میں کیا اتنی سی بات نہیں آتی؟ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں، اور نہ ہی میرا یہ دعوی ہے کہ میں فرشتہ ہوں، میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ جنہیں تمہاری آنکھیں حقارت سے دیکھتی ہیں، انہیں اللہ نے کوئی بھلائی نہیں دی۔ ان کے نفس کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں گا تو ظالم ہوں گا۔

وہ کہنے لگے: “اے نوح! تم نے ہم سے بحث کر لی اور بہت کر لی۔ اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب لے آؤ جس کی تم دھمکی دیتے ہو۔” انہوں نے کہا: “وہ تو اللہ ہی لائے گا، اگر چاہے گا۔ تم اسے روکنے کی طاقت نہیں رکھتے ہو۔ اب اگر میں تمہاری مزید خیر خواہی کرنا بھی چا ہوں تو میری خیر خواہی تمہارے کام نہ آ سکے گی جبکہ اللہ نے تمہیں اس راہ پر چھوڑ دینے کا ارادہ کر لیا ہے۔ وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تمہیں لوٹنا ہے ۔۔۔۔

نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لانے والے تھے، وہ ایمان لا چکے اب مزید لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ اب تم ان کے اعمال پر غم کرنا چھوڑو اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کرو۔ دیکھو، جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ، ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا۔ یہ سب کے سب اب ڈوبنے والے ہیں ۔

نوح کشتی بنانے لگے ۔ ان کی قوم کے سرداروں میں سے جو کوئی ان کے پاس سے گزرتا تھا، ان کا مذاق اڑ اتا تھا۔ انہوں نے فرمایا: “اگر تم ہمارا مذاق اڑ ا رہے ہو تو پھر ہم بھی اسی طرح تمہارا مذاق اڑ ائیں گے۔ عنقریب تمہیں علم ہو جائے گا کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا اور کس پر وہ بلا آن پڑے گی جو ٹالے نہ ٹلے گی۔ یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آ گیا اور وہ خاص تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا: “ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی پر رکھ لو۔ اپنے گھر والوں کو ساتھ لے لو سوائے ان افراد کے جن کی نشاندہی کی جا چکی ہے اور اہل ایمان کو بھی ساتھ بٹھا لو۔ “نوح پر ایمان لانے والوں کی تعداد قلیل تھی۔

نوح نے کہا: “اس میں سوار ہو جاؤ۔ اللہ کے نام کے ساتھ ہی اس کا چلنا بھی ہے اور ٹھہرنا بھی۔ میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے ۔” کشتی ان لوگوں کو لے کر پہاڑ جتنی بڑی بڑی لہروں میں چلنے لگی۔ نوح کا ایک بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوح نے پکار کر کہا: “بیٹا! ہمارے ساتھ سوار ہو جاؤ، ان کفار کے ساتھ نہ رہو۔” اس نے پلٹ کر جواب دیا: “میں ابھی پہاڑ پر چڑھ جاتا ہوں، جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔” نوح نے کہا: “آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے۔” اتنے میں ایک موج ان دونوں کے درمیان حائل ہو گئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہو گیا۔

(کچھ عرصے بعد) حکم ہوا: “اے زمین! سارا پانی نگل جاؤ اور اے آسمان! رک جاؤ۔ پانی زمین میں جذب ہونے لگا ، معاملہ ختم کر دیا گیا اور کشتی “جودی” پر رک گئی۔ کہہ دیا گیا: “دور ہو گئی ظالموں کی قوم۔”نوح نے اپنے رب کو پکارا: “اے رب! میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں سے تھا۔ تیرا وعدہ سچاہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے ۔” فرمایا: “اے نوح! وہ تمہارے گھر والوں میں سے نہیں تھا۔ وہ تو ایک بگڑی ہوئی شخصیت تھی۔ لہذا تم اس کی درخواست نہ کرو جس کی حقیقت کا تمہیں علم نہیں ہے۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ جاہلوں جیسا رویہ اختیار نہ کرنا۔” انہوں نے عرض کیا: “اے میرے رب! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ میں وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں ۔ اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہو جاؤں گا۔

حکم ہوا: “اے نوح! اتر جاؤ۔ ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہیں تمہارے لئے اور ان گروہوں کے لئے جو تمہارے ساتھ ہیں ۔ کچھ گروہ ایسے بھی ہیں جن کو ہم کچھ مدت کے لئے سامان زندگی بخشیں گے ۔ پھر انہیں دردناک عذاب آ پہنچے گا۔ (سورہ ہود 11: 25-48)

سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ واقعہ دراصل اللہ تعالی کے اس قانون کا معلوم تاریخ میں پہلا اطلاق تھا جسے “دینونت” کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالی نے آخرت میں ہر انسان کے ساتھ جزا و سزا کا جو معاملہ کرنا ہے، اس نے متعدد بار وہی معاملہ بعض اقوام کے ساتھ دنیا میں کر کے دکھا دیا تاکہ لوگوں کو یہ یقین آ جائے کہ ان کے ساتھ آخرت میں یہ سب ہونے والا ہے۔ دینونت کی اس تاریخ کو مذہبی صحائف میں محفوظ کر دیا گیا تاکہ جو عبرت پکڑنا چاہے، اس کے لئے یہ مواد موجود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے طوفان کا ذکر نہ صرف بائبل اور قرآن مجید میں موجود ہے بلکہ ہندو مذہب کی کتابوں میں بھی ایک عظیم طوفان کا ذکر ملتا ہے ۔ یہی معاملہ جنوبی امریکہ کے ریڈ انڈینز کا ہے۔ ان کی مذہبی داستانوں میں بھی ایک عظیم طوفان کا تذکرہ موجود ہے۔ اس دینونت کی تاریخ کو میں نے اپنے سفرنامے “قرآن اور بائبل کے دیس میں” میں تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ اس کے علاوہ اس پر موضوع پر سلائیڈ شو کی شکل میں ایک پریزنٹیشن بھی میری ویب سائٹ پر موجود ہے ۔

دور جدید میں کوہ ارارات پر بہت سی مہمات بھیجی گئی ہیں تاکہ کشتی نوح کی باقیات کا پتہ چلایا جا سکے ۔ پہاڑ پر ایک چٹان ایسی ملی ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ کشتی کا فوسل ہے۔ حقیقت جو بھی ہو بہرحال اللہ تعالی نے یہ نشانیاں روئے زمین پر بکھیر دی ہیں۔ اب ہر انسان کی مرضی ہے ۔ چاہے تو وہ ان واقعات کو محض داستانیں سمجھ کر نظر انداز کر دے اور چاہے تو ان سے سبق سیکھ کر خدا کا بندہ بن جائے ۔

۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *