(44) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

Download PDF

ترکی کا سفرنامہ(44) 

مبشر نذیر

اسحاق پاشا کا محل

کوہ ارارات کا نظارہ دور سے ہی ممکن تھا کیونکہ اس کے بیس کیمپ تک جانے کے لئے بھی انسان کو کوہ پیما ہونا ضروری تھا۔ ہم لوگ ایک ہوٹل کے قریب رکے۔ یہاں کئی بسیں رکی ہوئی تھیں جن میں سے ایرانی زائرین نکل نکل کر آ رہے تھے۔ غالباً یہ لوگ شام کی طرف زیارتوں کے سفر کے لئے جا رہے تھے۔

اب ہم ڈوغو بایزید شہر میں داخل ہو گئے۔ یہاں ایک طویل بازار تھا۔ ہم لوگ اسحاق پاشا کا محل دیکھنا چاہتے تھے۔ جگہ جگہ “اسحاق پاشا سرائے ”  کی طرف جانے کے لئے بورڈ لگے ہوئے تھے ۔ پہلے میں بھی یہی سمجھا تھا کہ یہ کوئی سرائے ہو گی مگر ایسا نہ تھا۔ ترکی زبان میں محل کو سرائے کہا جاتا ہے ۔ شاید اسی سے اردو میں محل سرا کی ترکیب پیدا ہو گئی ہو گی۔ کچھ گلیوں سے گزر کر ہم شہر سے باہر جانے والی تنگ سی سڑ ک پر ہو لئے ۔ کچھ دور جا کر کافی بلندی پر محل کے آثار نظر آئے جو کہ چمکتی دھوپ میں کافی خوبصورت محسوس ہو رہا تھا۔

محل کے نیچے ایک کیمپنگ ایریا بنا ہوا تھا جس میں ٹائلٹ اور بچوں کے لئے جھولوں کی سہولت موجود تھی۔ یہاں کچھ دیر رک کر ہم اوپر محل کے دروازے پر جا پہنچے ۔ اتنی بلندی پر محل کی تعمیر کے لئے بہت محنت کرنا پڑ ی ہو گی۔ بہرحال یہ بادشا ہوں کے کام تھے ۔ عوام کے پیسے کو اس طرح کی عیاشیوں میں اڑ انا ان کا مشغلہ رہا تھا۔

عثمانی دور کے گورنر عبدی پاشا نے یہ محل 1685ء میں تعمیرکروانا شروع کیا تھا۔ اس کے بعض سیکشن ان کے پوتے اسحاق پاشا نے 1784ء میں تعمیر کروائے تھے ۔ محل کا دروازہ بہت ہی بلند تھا۔ محل میں اس دور کی تمام لگژری سہولتیں فراہم کی گئی تھیں ۔ ایک طرف گورنر کا دربار تھا۔ کھیل تماشوں کے لئے ہال الگ تھا۔ مختلف قسم کے کھانے پکانے کے لئے علیحدہ کچن بنے ہوئے تھے ۔ گورنر کے لئے حمام بنایا گیا تھا۔ خواتین کے لئے حرم بنا ہوا تھا۔ ان محلات کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے زوال کے اسباب کیا تھے ۔ اس کی مزید تفصیل ہم استنبول کے باب میں بیان کریں گے ۔

زرتشت کی دعوت

اس وقت ہم جس علاقے سے گزر رہے تھے ، صدیوں پہلے یہیں جناب زرتشت نے توحید اور انسانیت کی دعوت پیش کی۔ ان کے بارے میں جو جدید تحقیقات ہوئی ہیں ، ان کے مطابق زرتشت ایک خدا پر یقین رکھتے تھے ۔ ان سے پہلے مذہبی راہنماؤں نے عوام کا استحصال کرنے کے لئے بہت سی مذہبی رسومات ایجاد کر رکھی تھیں جن میں دیوی دیوتاؤں کے حضور قربانیاں پیش کرنا ضروری تھا۔ یہ قربانیاں پروہتوں کے خزانے میں داخل ہو جایا کرتی تھیں ۔ قرآن مجید نے ان رسومات کو اصرارو اغلال سے تعبیر کیا ہے ۔ زرتشت نے بھی ان رسومات کی مخالفت کی۔

اس معاملے میں اختلاف ہے کہ زرتشت نبی تھے یا نہیں البتہ ان کی تعلیمات کے ساتھ بھی وہی معاملہ ہوا جو انبیاء کرام علیہم السلام کے ادیان کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ ان کی تعلیمات کو مسخ کر کے اس میں شرک کو داخل کر لیا گیا اور آگ کی پوجا کی جانے لگی۔ پورے ایران میں زرتشتی مذہب کو آتش پرستی کا مذہب قرار دے دیا گیا۔ اس کی باقیات آج بھی پارسیوں کی شکل میں موجود ہیں ۔ عرب انہیں مجوسی کہا کرتے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجوسیوں کے ساتھ اہل کتاب کا سا معاملہ کرنے کا حکم دیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید زرتشت اللہ کے نبی ہی ہوں گے جن کی تعلیمات کو ان کے پیروکاروں نے مسخ کر لیا۔

انسان کا روئے زمین پر پھیلاؤ

کچھ دیر محل دیکھنے کے بعد ہم نیچے اترے ۔ نیچے شہر سے کھانا کھایا، کافی پی اور واپسی کے سفر کے لئے تیار ہو گئے ۔ ہم اس وقت زمین کے اس حصے میں تھے جہاں سے پوری نسل انسانی روئے زمین پر پھیلی ہے ۔ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے تینوں بیٹوں کی نسل زمین کے تین مختلف علاقوں میں جا کر آباد ہوئی تھی۔ حام کی نسل افریقہ میں ، سام کی نسل دجلہ و فرات کی وادی میں اور یافث کی نسل آرمینیا کے علاقے میں ۔

ہم آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ یہ نسلیں مختلف علاقوں میں جا کر آباد کیوں ہوئیں ۔ قرآن مجید اور بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور کے انسانوں کی عمریں بہت طویل ہوا کرتی تھیں ۔ ہزار برس کی عمر تو عام سی بات ہوتی تھی۔ یقینی طور پر وہ لوگ بہت ہی مضبوط ہوں گے اور ان کے جسموں میں بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہو گی۔ اگر کسی شخص کی ہزار سالہ عمر میں 15% بچپن اور اتنے ہی بڑھاپے کے سال فرض کر لیے جائیں تو جوانی کی عمر 700 برس بچتی ہے۔ اگر اس شخص کی شادی 150 سال کی عمر میں کر دی جائے اور اس کے بعد اگلے 500 برس تک ہر سال ایک بچہ ہو تو صرف ایک انسانی جوڑ ے سے 500 بچے پیدا ہو سکتے تھے ۔ ابھی یہ صاحب محض 300 برس کے کڑیل جوان ہی ہوں گے جب ان کی پہلی اولاد بھی شادی کر کے پرفارم کرنے کے لئے تیار ہو گی۔ ان میں سے اگر نصف بچے مر مرا بھی جائیں تب بھی اس شخص کی زندگی ہی میں اس کی اپنی اولاد کی تعداد لاکھوں تک پہنچ جاتی ہو گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *