(45) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

Download PDF

مبشر نذیر

ترکی کا سفرنامہ (45)

شروع میں تو اس شخص کی اولاد اکٹھی رہتی ہو گی۔ بعد میں جب وسائل کی تنگی پیدا ہوتی ہو گی تو یہ لوگ مزید زمین کی تلاش میں بکھر جاتے ہوں گے ۔انسانوں کی موجودہ آبادی اس بات کی شہادت فراہم کرتی ہے کہ یافث کی نسلوں یعنی یاجوج و ماجوج میں سب سے زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا۔ یہ لوگ جلد سے جلد نئی زمینوں کی تلاش میں آرمینیا کے علاقوں سے نکل کر مشرق میں چین و ہندوستان، شمال میں روس اور مغرب میں یورپ کی طرف روانہ ہوئے ۔ اس زمانے میں روس اور الا سکا کے درمیان سمندر جما ہوا تھا چنانچہ یہ لوگ سمندر کے اوپر سفر کرتے ہوئے امریکہ جا پہنچے ۔ جب یہ سمندر پگھل گیا تو ان کا رابطہ اپنے بھائیوں سے منقطع ہو گیا۔

اب عصر کی نماز کا وقت ہو رہا تھا۔ میں نے ایک سروس اسٹیشن پر گاڑی روکی۔ یہاں کا پانی بہت سرد تھا۔ نماز کی ادائیگی کے بعد باہر نکلا تو اسٹیشن کے ملازمین نے مجھے گھیر لیا اور تعارف کی ناکام کوشش کرنے لگے ۔ یہ جان کر وہ بہت خوش ہوئے کہ میں پاکستان سے آیا ہوں ۔ یہ لوگ کر د تھے ۔ میں نے یونہی کہہ دیا کہ صلاح الدین ایوبی بھی تو کر د ہی تھے ۔ یہ سن کر ان میں سے ایک صاحب پھڑ ک اٹھے اور اپنے ساتھیوں کو کہنے لگے: “تم کر د ہو، کیا تمہیں معلوم ہے کہ صلاح الدین ایوبی کر د تھے؟ ” انہوں نے نفی میں سر ہلایا تو بولے : “دیکھو ہمارے پاکستانی بھائی کو یہ معلوم ہے ۔ کچھ شرم کرو۔” ظاہر ہے وہ بے چارے تعلیم حاصل کیے بغیر کام کاج پر لگ گئے ہوں گے ۔ انہیں یہ معلوم نہ ہو سکا ہو گا کہ ان کے ایک بطل جلیل پر نہ صرف کر د قوم بلکہ پورا عالم اسلام فخر کرتا ہے ۔

مغرب کے قریب جا کر کہیں ہم واپس ارض روم پہنچے۔ اتفاق سے ہم ایک بازار میں جا نکلے جہاں پچھلی رات کی نسبت ایک بہتر ہوٹل میسر آ گیا۔ ہوٹل کی دیوار پر ترکی کا ایک نقشہ لگا ہوا تھا۔ میں نے ہوٹل کے منیجر سے پوچھا کہ انقرہ جانے کے لئے کون سا راستہ بہتر ہے: بلیک سی کے ساتھ ساتھ براستہ ترابزن، سامسن اور سائنپ یا پھر اندرونی راستہ براستہ ارزنجان اور شیواس۔ کہنے لگے کہ اندر کا راستہ زیادہ بہتر ہے۔ اس سے بسیں 12 گھنٹے میں انقرہ پہنچتی ہیں ۔ آپ اپنی کار پر ہیں، اس لئے جلدی پہنچ جائیں گے ۔ ایک راستہ تو ہم آتے ہوئے دیکھ ہی چکے تھے، چنانچہ ہم نے اندرونی راستے سے واپسی کا ارادہ کیا۔

شیطانی انڈے

اگلی صبح ناشتہ کرنے کے لئے ہم ہوٹل کے ساتھ ہی واقع ریسٹورنٹ میں پہنچے۔ یہ ایک چھوٹا سا صاف ستھرا ریسٹورنٹ تھا جس میں فیملی ہال الگ تھا۔ یہاں ایک ترک انکل اور آنٹی بیٹھے ہوئے تھے ۔ غالباً آج آنٹی کا ناشتہ بنانے کا موڈ نہیں تھا۔ میں نے ویٹر سے آملیٹ کا پوچھا۔ جواب اثبات میں ملا۔ تھوڑی دیر بعد یہ صاحب تین تھالیاں اٹھا لائے جن میں ہاتھی کے کان سے بھی بڑے انڈے پڑے ہوئے تھے۔ چکھ کر دیکھا تو ذائقہ اپنے دیسی انڈوں جیسا محسوس ہوا۔ ماریہ روٹی کے بغیر انڈا کھایا کرتی تھی۔ اس نے اپنے انداز میں انڈا کھانا شروع کیا۔ ہم تینوں کھا کھا کر تھک گئے مگر انڈے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے ۔ بمشکل ہم تینوں نے مل کر دو انڈے ختم کئے ۔ تیسرے کو راستے کے لئے پیک کروا لیا۔

ہم سوچنے لگے کہ نجانے یہ انڈے کس بلا کے تھے جو ختم ہونے کا نام ہی نہ لے رہے تھے ۔ پہلے ہمارے ذہن میں شتر مرغ کا تصور آیا مگر اس کے انڈے اتنی آسانی سے دستیاب کہاں ہوتے ہیں ۔ پھر ہم نے سوچا کہ شاید یہ بطخ کے انڈے ہوں اور آملیٹ دو انڈوں پر مشتمل ہو۔ بعد میں اندازہ ہوا کہ یہاں سپر مارکیٹوں میں باقاعدہ ترکی کے انڈے ملتے ہیں ۔ کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جائیے گا، یہ تَرکی پرندے کے انڈے تھے ، نہ کہ تْرکی ملک کے ۔ ان کا چھلکا چتکبرا ہوتا ہے۔

ارض روم کی قدیم مسجد اور مدرسہ

ناشتے سے فارغ ہو کر ہم نے سامان گاڑی کی ڈگی میں رکھا۔ ہمارا ارادہ تھا کہ ارض روم کی تاریخی عمارات دیکھنے کے بعد انقرہ کے لئے نکلا جائے ۔ ہوٹل کی گلی سے نکل کر ہم مین روڈ بلکہ مین گلی میں آئے ۔ میں نے گاڑی دائیں جانب موڑی کیونکہ رات ہم اسی طرف سے آئے تھے ۔ اچانک سامنے سے آنے والی ہر گاڑ ی کے ڈرائیور نے چہرے پر سنگین تاثرات لا کر اشارے کرنا شروع کر دیے کہ ہم غلط سمت میں جا رہے ہیں ۔ چونکہ یہ اندرون شہر تھا، اس وجہ سے ٹریفک کا نظام ون وے تھا۔ تنگ ون وے گلی میں کسی نہ کسی طرح گاڑی موڑ کر ہم آگے بڑھے ۔ تھوڑی دور جا کر ایک سیاہ رنگ کی مسجد نظر آئی۔

ایک جگہ بمشکل پارکنگ ملی۔ مسجدچھوٹی سی تھی۔ اس کے کتبے پر “قاسم پاشا جامع” لکھا ہوا تھا اور تاریخ 1657ء درج تھی۔ باہر سے تو مسجد کی حالت مخدوش نظر آ رہی تھی مگر اندرونی حصہ ترکی کی روایت کے مطابق خوب بھڑکیلے نقوش سے سجا ہوا تھا۔ مسجد میں کچھ بچے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کر رہے تھے البتہ ان کے استاذ غائب تھے ۔ میں یہاں کی تصاویر بنانے لگا۔ ایک بچے نے اپنی تصویر لینے کی فرمائش کر دی۔ مسجد کے قریب ہی موجود اسٹور سے ماریہ کے لئے آئس کریم خرید کر ہم اسی سڑ ک پر آگے بڑھے ۔ تھوڑی دیر میں ہی ہم ارض روم کے مشہور مدرسے تک پہنچ چکے تھے ۔

مدرسے کی عمارت بہت شاندار تھی۔ مین گیٹ کے باہر وسیع دالان تھا جس میں پارک بنا ہوا تھا۔ مدرسے کا اندرونی حصہ U شکل میں بنا ہوا ہوا تھا۔ دونوں جانب کمرے تھے اور درمیان میں گھاس سے بھرا ہوا لان تھا۔ سامنے کی طرف مسجد تھی۔ مدرسے کے اوپر کی منزل بند تھی مگر نیچے سے نظر آ رہی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اناطولیہ کا سب سے بڑا مدرسہ تھا۔ مدرسے پر موجود کتبوں میں یہ درج تھا کہ اس کی درست تاریخ تعمیر کا علم نہیں ہے البتہ یہ طے تھا کہ یہ مدرسہ تیرہویں صدی کے نصف آخر میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ وہی دور تھا جب سلجوق سلطنت اپنے آخری سانس لے رہی تھی اور تاتاری ان کی سلطنت پر قابض ہو رہے تھے ۔

مدرسے کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ سلجوق سلطان علاؤ الدین قیقباد کی بیٹی ہاندے خاتون نے تعمیر کروایا تھا۔ اس سے سلجوق بادشاہوں کی علم دوستی کا اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے آخری دور میں بھی انہوں نے تعلیم کے فروغ کی کوشش کی تھی۔ ان کی خواتین تک میں علم کو پھیلانے کا اتنا جذبہ تھا کہ اپنے زوال کے آخری دور میں بھی وہ مدرسے تعمیر کروا رہی تھیں ۔ اسی دور کے مدارس ترکی کے دوسرے شہروں میں بھی موجود ہیں ۔

مدارس کا نظام تعلیم

سلجوقوں کے دور میں تعلیم کو باقاعدہ اداروں کی شکل میں منظم کیا گیا۔ یہ کارنامہ اس دور کے وزیر اعظم نظام الملک ( م 1092CE/485H) کے کارناموں میں سے ایک ہے ۔ انہوں نے ملک بھر میں بغداد سے لے کر نیشا پور تک مدارس کا جال بچھا دیا۔ مسلمانوں کے تاریخ کے کامیاب ترین ایڈمنسٹریٹرز کی اگر ایک فہرست تیار کی جائے تو نظام الملک کا نام اس فہرست میں پہلے پانچ ناموں میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔ ان کی نصیحتوں پر مشتمل کتاب “سیاست نامہ” کے ترجمے آج بھی دنیا کی بہت سی یونیورسٹیوں میں پڑھائے جاتے ہیں ۔

[جاری ہے ]

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *