(46) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

Download PDF

مبشر نذیر

ترکی کا سفرنامہ (46)

نظام الملک کے قائم کردہ مدارس کو ان کے نام کی مناسبت سے “نظامیہ” کہا جاتا ہے ۔ ہمارے ہاں لفظ “مدرسہ” سے دینی تعلیم کے مدارس ذہن میں آتے ہیں مگر نظام الملک کے نصاب تعلیم میں دینی و دنیاوی کی تفریق نہ تھی۔ ان کے نصاب میں دینی اور دنیاوی دونوں طرز کے علوم شامل تھے۔ نظامیہ مدارس نے بڑے بڑے علماء کو جنم دیا۔ مشہور عالم امام غزالی (م 1111CE/505H) بھی بغداد کے مدرسہ نظامیہ کے صدر مدرس تھے ۔ مشہور سائنسدان اور فلسفی عمر خیام (م 1131CE/525H) کا شمار نظام الملک کے شاگردوں میں ہوتا ہے ۔

ہندوستان کے مدارس میں بھی نظامیہ ہی کا نصاب چلتا رہا ہے۔ اورنگ زیب عالمگیر (م 1707ء ) کے دور میں ایک جلیل القدر عالم ملا نظام الدین سہالوی (وفات 1748ء ) نے اس نصاب میں ضروری ترامیم کر کے عالمگیر کی سول سروس کے لئے ایک نصاب تیار کیا جو ان کے نام کی مناسبت سے “درس نظامی” کے نام سے مشہور ہوا۔ موجودہ دور کے دینی مدارس میں اسی درس نظامی میں کچھ ترامیم کر کے اسے پڑھایا جا رہا ہے ۔

دینی مدارس کے نصاب کا آغاز قرآن مجید کے حروف کی تعلیم سے ہوتا ہے ۔ طالب علم کو عربی، فارسی اور اردو پڑھنا سکھائی جاتی ہے ۔ اس کے بعد اسے عربی گرامر کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس ضمن میں ابتدائی کتب فارسی زبان میں ہوتی ہیں اور اعلی درجے کی تعلیم عربی زبان میں دی جاتی ہے ۔ گرامر کی کچھ کتابیں پڑھانے کے بعد عربی ادب، علم معانی، علم بیان، علم بدیع اور علم عروض کی چند ایک کتب کی تعلیم دی جاتی ہے ۔

خالص دینی علوم میں ابتدا علم الفقہ سے ہوتی ہے جس کی متعدد چھوٹی بڑی کتب کئی سال تک پڑھائی جاتی ہیں ۔ فقہ کے ساتھ علم کلام کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ ان دونوں کے متوازی قرون وسطی کے چند دنیاوی علوم کی تعلیم دی جاتی ہے جن میں منطق، فلسفہ اور ریاضی شامل ہیں ۔

اعلی درجے پر پہنچ کر طالب علم اصول التفسیر، اصول الفقہ، اصول الحدیث کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی تعلیم درمیانی سالوں میں دی جاتی ہے ۔ قرآن مجید کا منتخب نصاب (بالعموم سورہ بقرہ کی تفسیر بیضاوی) اور احادیث میں سے مشکوٰۃ پڑھا دی جاتی ہیں ۔ آخری سال میں دورہ حدیث کروا دیا جاتا ہے جس میں صحاح ستہ کی کتابوں کی صرف ریڈنگ کی جاتی ہے البتہ کہیں کوئی اشکال پیدا ہو تو استاذ صاحب وضاحت کر دیتے ہیں ۔

اس پورے نظام تعلیم میں چند مسائل موجود ہیں جن پر اہل علم عموماً تنقید کرتے رہتے ہیں ۔ بہت سے مدارس میں اگرچہ ان میں سے بعض مسائل پر قابو پا لیا گیا ہے مگر پھر بھی اکثر جگہ یہ مسائل موجود ہیں ۔ اس کی کچھ تفصیل یہ ہے :

مدارس کے نظام تعلیم کا سب سے بڑا مسئلہ “مقصد تعلیم” ہے ۔ برصغیر پاک و ہند کے مدارس بالعموم فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں ۔ ہر مسلک کے مدارس کا ایک وفاقی بورڈ موجود ہے جو کہ اپنے مسلک کے مدارس کے طلبہ کا امتحان لیتا ہے ۔ تعلیم کا سب سے بڑا مقصد یہی سمجھا جاتا ہے کہ اپنے مسلک کے دفاع اور دوسرے مسالک پر حملے کے لئے زبان اور قلم کے جنگجو تیار کیے جائیں ۔ کہنے کو تو یہاں اسلام کے داعی تیار کیے جاتے ہیں مگر اصل مقصد اپنے مخصوص مسلک کے داعی تیار کرنا ہوتا ہے ۔

دین کا اصل ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے ۔ اس کی تفہیم و تبیین احادیث کے ذخیرے میں موجود ہے ۔ اکثر مدارس کے نصاب تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو قرآن و حدیث اس میں ترجیح کے مقام پر موجود نہیں ہیں ۔ قرآن مجید کی ایک نہایت مختصر تفسیر جلالین داخل نصاب ہے مگر بہت ہی کم مدارس میں یہ پوری تفسیر پڑ ھائی جاتی ہے ۔ اعلی درجے کی تفاسیر میں بیضاوی شامل ہے جس میں سے صرف سورہ بقرہ ہی داخل نصاب ہے ۔ بعض مدارس میں چند اور تفاسیر کا مطالعہ کروایا جاتا ہے ۔ یہی معاملہ حدیث کا ہے ۔ حدیث کے ذخیرے میں سے مشکوٰۃ المصابیح ہی وہ کتاب ہے جس کا مدارس کے طلباء تفصیل سے مطالعہ کرتے ہیں ۔ اس میں بھی زیادہ زور ان احادیث کی تشریح میں صرف ہو جاتا ہے جن کی توجیہ میں کچھ فرقہ وارانہ مسائل موجود ہیں ۔معاملات جیسے تجارت، معیشت، سیاست، معاشرت وغیرہ سے متعلق احادیث کو عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ صحیح و ضعیف حدیث کی جانچ پڑتال کے طریقہ کار کی عملی مشق بہت ہی کم کروائی جاتی ہے ۔

مدارس کے نصاب میں جو دنیاوی علوم داخل ہیں ، ان میں سے زیادہ تر آؤٹ ڈیٹڈ ہو چکے ہیں ۔ علم المنطق کو ایک خاص زمانے میں اہمیت حاصل رہی ہو گی مگر آج کی دنیا میں اس کا اطلاق نہ ہونے کے برابر ہے ۔ قرون وسطیٰ میں فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی، اکنامکس، آسٹرانومی، پولیٹیکل سائنس، سوشیالوجی وغیرہ سب کی سب فلسفے کے تحت پڑھائی جاتی تھیں ۔ اب ان علوم میں اس قدر اضافہ ہو چکا ہے کہ یہ فلسفے سے الگ ہو کر اپنی اپنی جگہ علیحدہ حیثیت اختیار کر چکے ہیں ۔ مدارس کے طلباء اس جدید دور میں بھی آٹھ سو سال پرانی سائنس پڑھنے پر مجبور ہیں ۔

قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کی عربی زبان کی اہمیت ناگزیر ہے۔ اکثر مدارس میں عربی سکھانے کے لئے گرامر پر بہت زور دیا جاتا ہے ۔ اس کے بعد عربی ادب میں قرون وسطی کی چند کتب پڑھا دی جاتی ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلی درجے کا قدیم عربی ادب نصاب میں شامل کیا جائے ۔

[جاری ہے ]

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *