(47) ترکی کا سفرنامہ (Mubashir Nazir مبشر نذیر)

Download PDF

ترکی کا سفرنامہ (47)

علوم دینیہ کا ایک نہایت ہی اہم حصہ بالعموم مدارس میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور وہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت اور اسلام کی تاریخ۔ عام طور پر مدارس کے اعلیٰ عہدے دار یہ کہتے ہیں کہ ہم طالب علم میں ایسی استعداد پیدا کر دیتے ہیں جس کی بدولت وہ ان علوم کا خود مطالعہ کرسکتا ہے۔ اگر اس دعویٰ کو درست بھی مان لیا جائے، اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ طالب علم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے ان علوم کی باقاعدہ تعلیم ناگزیر ہے۔

طالب علموں کی اخلاقی تعلیم و تربیت اور کردار سازی کو عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد جب یہ حضرات منبر و محراب کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں تو مسجدیں اکھاڑوں میں بدل جاتی ہیں۔ ان طالب علموں کو اختلاف رائے کے آداب سے ناواقف رکھا جاتا ہے ۔ مخالف فرقوں کی نفرت ان کی رگوں میں اتار دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی اختلاف رائے کی صورت میں انہیں گالی گلوچ، الزام تراشی، پتھر، جوتا، اور بندوق کی گولی، جو کچھ دستیاب ہو، استعمال کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہوتی۔

دین کے ایک طالب علم کے لئے دیگر مذاہب اور مکاتب فکر کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ اس پر عموماً توجہ نہیں دی جاتی اور اگر اس ضمن میں کچھ پڑھایا بھی جاتا ہے تو اس کا مقصد صرف اور صرف ان کی تردید کرنا ہوتا ہے۔ بے تعصب تجزیاتی مطالعہ کے طریق کار سے عموماً اہل مدرسہ ناواقف رہ جاتے ہیں۔

مدارس کے طریق تعلیم کا ایک بہت بڑا مسئلہ ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی ہے۔ مدارس میں برین واشنگ کے ایسے ایسے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں جن کے نتیجے میں طالب علم کی شخصیت کو بری طرح مسخ کر دیا جاتا ہے۔ وہ اب اپنے ہی مسلک کی بعض شخصیات کے ذہنی غلام بن کر رہ جاتے ہیں۔ ان شخصیات کو مقدس بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور ان کی کسی بات سے اختلاف رائے کو بہت بڑا جرم قرار دے دیا جاتا ہے۔ جو قارئین اس موضوع سے دلچسپی رکھتے ہوں، وہ اس کی تفصیل میری کتاب ’’مسلم دنیا میں ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی‘‘ میں دیکھ سکتے ہیں ۔

یہ وہ مسائل ہیں جن کا کسی بھی مدرسے سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص شب و روز مشاہدہ کر سکتا ہے۔ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ بہت سے مدارس کے ارباب اختیار نے ان مسائل کا ادراک کر لیا ہے اور اس ضمن میں وہ اصلاح کی کوششوں میں مشغول ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو کامیابی عطا کرے اور دیگر مدارس کے ارباب اختیار کو بھی ان مسائل کا ادراک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

مدرسے سے فارغ ہو کر ہم اس کے ساتھ ہی موجود قلعے کی طرف بڑھے۔ اس وقت یہ قلعہ بند تھا جس کی وجہ سے باہر کی دیوار ہی نظر آ سکی۔ یہ ایک عظیم پرشکوہ قلعہ تھا۔ قلعے کی دیواریں کافی چوڑی تھیں۔ ارض روم کی سرحدی حیثیت کی وجہ سے یہاں ہر دور میں فوج رہا کرتی تھی۔ آثار قدیمہ میں بالعموم قلعے، محل اور عبادت گاہیں ہی باقی رہ جاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوا کرتی ہے کہ ان عمارتوں کی تعمیر غیر معمولی حد تک مضبوط ہوتی ہے ۔

ارزنجان

اب ہم ارض روم سے باہر جانے والی سڑک پر جا رہے تھے ۔ یہ سڑک نئی نئی بنی تھی چنانچہ ڈرائیونگ میں لطف آنے لگا مگر تھوڑی دور جا کر یہ لطف ختم ہو گیا۔ آگے پرانی سڑک تھی جس میں جگہ جگہ کھدائی کر کے ٹریفک کو ادھر ادھر کیا جا رہا تھا۔ پورے ترکی کے سفر میں اندازہ ہوا کہ بحیثیت مجموعی ترکی کی سڑکوں کے مقابلے میں پاکستان کی سڑکیں کافی بہتر ہیں ۔

سڑک کے بورڈز پر ارزنجان اور ترابزن دونوں کے بارے میں لکھا ہوا تھا۔ ایک گھنٹے کے سفر کے بعد ہم’’اشکیل‘‘ پہنچے۔ یہاں سے ترابزن اور ارزنجان جانے والے راستے علیحدہ ہو رہے تھے۔ کچھ سفر طے کر کے ہم ’’ترجان گولو‘‘ جا پہنچے ۔ یہ نیلے پانی کی ایک خوبصورت جھیل تھی جو خشک پہاڑوں کے درمیان اپنی بہار دکھا رہی تھی۔

تھوڑی دیر میں ہم ارزنجان جا پہنچے ۔ شہر کے اندر جانے والی سڑک پر ’’شہر مرکزی‘‘ کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ یہ بورڈ ہمیں ہر شہر میں نظر آیا۔ ترکی کی ایک خوبی یہ ہے کہ ہر شہر کے بورڈ پر اس کی آبادی بھی درج ہوتی ہے۔ ارزنجان بھی ایک چھوٹا سا شہر تھا مگر صوبائی دارالحکومت تھا۔ چونکہ ترکی کے صوبے ہمارے ضلعوں کے برابر ہیں اس وجہ سے ان کے دارالحکومت بھی اتنے ہی ہیں۔ یہاں کی خوبی یہ تھی کہ ہر گھر پر سولر پینل نظر آ رہا تھا۔ تیل کی زیادہ قیمتوں کے باعث دنیا بھر کی قومیں اب توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تیل اور گیس کی صورت میں توانائی کے اعلی ترین ذخائر دیے ہوئے تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلمان انہیں امت مسلمہ میں سے غربت اور جہالت کے خاتمے کے لئے استعمال کرتے مگر انہوں نے اسے اپنی عیاشی کا ذریعہ بنا لیا۔ اس کا نتیجہ اب یہ نکل رہا ہے کہ دنیا توانائی کے متبادل ذرائع کو بہتر بنا رہی ہے۔ جیسے ہی اس ٹیکنالوجی نے ترقی کر لی، تیل کی عالمی ڈیمانڈ اور قیمتیں زمین پر آ جائیں گی۔

ہم جس راستے پر جا رہے تھے، ابن بطوطہ بھی اسی راستے سے گزرے تھے مگر ان کا رخ ہماری مخالف سمت میں تھا۔ لکھتے ہیں:

ہم ارزنجان پہنچے۔ یہ بھی عراق کے بادشاہ کے تحت شہروں میں سے ایک بڑا گنجان آباد شہر ہے۔ اس کے اکثر باشندے آرمینی ہیں۔ یہاں کے مسلمان ترکی زبان میں گفتگو کرتے تھے۔ اس کے بازاروں کی ترتیب عمدہ تھی۔ یہاں بہت ہی خوبصورت کپڑے بنائے جاتے تھے۔ یہاں تانبے کی کانیں تھیں جس سے برتن اور اوزار بنائے جاتے تھے ۔

سیواس

اب تک سڑک کے بورڈز میں سب سے اوپر ارزنجان بڑے شہر کے طور پر لکھا نظر آ رہا تھا۔ اس سے آگے کے بورڈز پر ’’سیواس‘‘ لکھا نظر آنے لگا۔ انقرہ کا ابھی دور دور تک نام و نشان نہ تھا۔ تقریباً 250 کلومیٹر کے بعد ایک پہاڑی سے اترتے ہوئے اچانک پولیس کی ایک گاڑی نظر آئی۔ اس سے تھوڑی دور ایک اور گاڑی کھڑی تھی۔ اس وقت جتنی گاڑیاں بھی چل رہی تھیں، انہوں نے سب ہی کو روک لیا۔ ایک صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے ، ’’سر! سپیڈ لمٹ۔‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے میرا انٹرنیشنل لائسنس طلب کیا۔ کہنے لگے کہ آپ کی اسپیڈ 116 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ میں نے عرض کیا کہ ہائی ویز پر پوری دنیا میں 120 کی حد رفتار کا قانون ہے۔ کہنے لگے : ’’ترکی میں یہ 100 ہے ۔‘‘ مجھے پورے ترکی میں سوائے موٹروے کے ایک بھی بورڈ نظر نہیں آیا جس میں حد رفتار درج کی گئی ہو۔

چالان کروا کر ہم آگے روانہ ہوئے۔ اب ہم سیواس میں داخل ہو رہے تھے ۔ یہ ایک سرسبز شہر تھا۔ ابن بطوطہ اس کے بارے میں لکھتے ہیں:

اس کے بعد ہم نے سیواس کی طرف سفر کیا۔ یہ بھی عراق کے شہروں میں سے ایک ہے اور اس ملک کے تمام شہروں میں سب سے بڑا ہے۔ یہاں حکام اور امراء کے گھر تھے۔ اس شہر کی عمارتیں خوبصورت تھیں اور سڑکیں کھلی تھیں۔ یہاں کے بازار لوگوں سے بھرے ہوئے تھے۔ یہاں مدرسے کی طرز کا ایک گھر تھا جو کہ ’’دار السیادت‘‘ کہلاتا تھا۔ یہاں صرف معزز لوگ ہی ٹھہر سکتے تھے۔ اس کے محافظین اس میں رہتے تھے۔ اس میں رہنے والوں کو ان کی مدت قیام تک بستر، کھانا اور چراغ وغیرہ فراہم کیے جاتے تھے۔ جب یہ ختم ہونے لگتے تو مزید فراہم کر دیے جاتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *