2016 سوال وجواب – جون (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

سوال وجواب

ابویحییٰ

اللہ تعالیٰ اور وقت

سوال:

جناب ایک حدیث کے مفہوم کے مطابق اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وقت کو برا مت کہو کیونکہ میں وقت ہوں اور آپ نے اپنی کتاب ’’قسم اس وقت کی‘‘ میں ایک کردار ’’وقت کا بیٹا‘‘ ’’العصر‘‘ لکھا! تخلیق کیا ہے ، براہ کرم اس پر تھوڑا غور کر کے جواب عنایت فرما دیں ۔

میر آصف بلوچ

جواب:

محترم حدیث کا مفہوم آپ نے جو سمجھا ہے کہ میں وقت ہوں سے مراد معاذ اللہ یہ ہے کہ وقت اللہ تعالیٰ کے قائم مقام ہے ایک مغالطہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ زمان و مکان کی ہر چیز سے بلند ہیں ۔ وقت مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے اور بس۔ ہمارا رب پاک ہے کہ اس جیسا کوئی ہو۔ حدیث میں جو آیا ہے وہ ایک اعلیٰ ادبی اسلوب میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ گردش حالات سے جو کچھ ظہور پذیر ہوتا ہے وہ اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے ۔ اس کا معاذ اللہ اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ وقت اللہ ہے یا اللہ تعالیٰ اپنا ظہور معاذ اللہ وقت کی شکل میں کرتے ہیں ۔ حدیث کا مطلب اگر واضح ہے تو پھر میری کتاب پر کوئی اعتراض باقی نہیں رہتا۔

ابو یحییٰ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قرآن کریم پڑھنے کا ثواب

سوال:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک مجھے سیدھے راستے کی رہنمائی فرمائے ۔ جب سے میں نے قرآن پاک کا مطالعہ شروع کیا اور خالق کائنات کی نازل کردہ کتاب پر توجہ دینی شروع کی تو مجھے پتہ چلا کہ جیسا کہ قرآن میں بیان ہوا ہے ، یہ واقعی انسانیت کے لیے ہدایت ہے۔ اور میرا یہ ماننا ہے کہ یہ کتاب اللہ ہے تو اسے صرف نیکیوں کے حصول کے لیے ہی نہیں پڑھنا چاہیے ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم ہر کتاب، میگزین اور اخبار پڑھتے وقت اس کا سمجھنا یقینی بنائیں لیکن قرآن پاک کو بلا سمجھے پڑھتے جائیں؟ اور جب میں نے یہ حدیث سنی کہ الف لام میم پڑھنے سے تیس نیکیاں ملتی ہیں تو میں اور زیادہ کنفیوز ہو گیا کیوں کہ اس کے ظاہری مطلب سے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں قرآن پاک سمجھ کر پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اور جب میں نے سورۃ فرقان میں یہ پڑھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود امت کے خلاف کیس دائر کریں گے اور قرآن پاک کو اس پر گواہ بنائیں گے تو مجھے ذاتی طور پر یہ محسوس ہوا کہ اللہ پاک کے احکامات کی پیروی کے بغیر اور سمجھے بغیر قرآن پاک پڑھنا غلط ہے۔ برائے کرم آپ اس حدیث کی سند کے بارے میں بتا دیجیے ۔ جزاک اللہ خیر۔ نجم۔ کینیڈا

جواب:

آپ نے بالکل درست فرمایا۔ قرآن مجید کو سمجھ ہی کر پڑھنا چاہیے ۔ باقی جس روایت کی طرف آپ نے اشارہ فرمایا ہے وہ درج ذیل ہے ۔

من قرأ حرفاً من کتاب اللہ فلہ بہ حسنۃ ، والحسنۃ بعشر أمثالہا لا أقول (الم) حرف
(ولکن : ألف حرف ولام حرف ، ومیم حرف)  (صحیح الجامع 6469)

امام البانی نے اس کو درست قرار دیا ہے ۔ تاہم میرے نزدیک حدیث کا موقع محل سمجھ لیا جائے تو کوئی اشکال نہیں رہتا۔ یہ ظاہر ہے کہ اگر یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے تو اس کے مخاطب صحابہ کرام ہی ہیں ۔ عربی ان کی اپنی زبان ہے جس میں قرآن مجید نازل ہوا ہے ۔ اب ایسے میں اگر ان سے یہ بات کہی جائے تو اس میں یہ بات خود بخود شامل ہے کہ یہ لوگ جب بھی قرآن پڑ ھیں گے تو لازماً سمجھ رہے ہوں گے ۔ کیونکہ ان کے لیے پڑھنا اور سمجھنا بالکل ایک ہی ہے ۔ مگر ہمارے لیے یہ دو الگ الگ کام ہیں ۔ اس لیے ہمیں اس روایت پر اشکال محسوس ہوتا ہے ورنہ اپنے موقع محل میں یہ روایت ایک بالکل سیدھی سی بات بتا رہی ہے کہ یہاں پڑھنے میں سمجھنا ہر حال میں شامل ہے ۔ امید ہے بات واضح ہوگئی ہو گی۔ ابو یحییٰ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسئلہ نور و بشر

سوال:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے نہیں گئے ۔ وہ آج بھی اس دنیا میں ہیں ۔ اور اس بات کو ثابت کرنے کے لیے وہ کہتے ہیں کہ جب معراج کا واقعہ پیش آیا تھا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین سے آسمانوں کی طرف گئے تھے تو یہ کائنات اور اس کا نظام رک گیا تھا ۔ اور جب واپس زمین پر آئے تھے تو سب کچھ وہیں سے شروع ہوا جہاں سے وہ چھوڑ کر گئے تھے ۔ اور وہ کائنات آج بھی چل رہی ہے ۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاضر ہیں اس دنیا میں ۔اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نور مانتے ہیں اللہ کا۔ جب کہ قرآن میں ان کے بشر ہونے کی کئی آیات ہیں ۔ ان لوگوں کو کیسے قائل کیا جائے جو یہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں اور نور ہیں ؟، عائشہ آرائیں

جواب:

ایسے لوگوں کو قرآن مجید کے مطالعے کی طرف راغب کریں ۔ قرآن مجید خود ہی لوگوں کے تصورات کی اصلاح کر دیتا ہے ۔ اگر بحث کریں گی تو تلخی پیدا ہو گی۔ ایسی بحثوں نے ایک زمانے میں لوگوں میں بڑی نفرتیں پیدا کی ہیں ۔ ان سے بچنا چاہیے ۔ لوگوں پر واضح کرنا چاہیے کہ ہم سے اصل مطالبہ آپ کی اطاعت اور پیروی کا ہے ۔ اسی پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ یہی وہ سوال ہے جو قیامت کے دن ہم سے کیا جائے گا۔ نہ کہ آپ کے نور و بشر ، حاضر و ناظر ہونے کے متعلق۔ قرآن مجید ان حقائق کو آخری درجہ میں واضح کر دیتا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سحری کے لیے اذان

سوال:

فرض نمازوں کے علاوہ تہجد کی نماز کے لیے اذان دینا ثابت ہے یا نہیں اور رمضان میں اکثر مساجد میں سحری کی اذان بھی دی جاتی تھی۔ صحیح احادیث سے وضاحت کر دیں ، عائشہ آرائیں ۔

جواب:

اذان نماز باجماعت کے اعلان کے لیے دی جاتی ہے اور اسی حیثیت میں اذان دینا مسنون ہے، البتہ بخاری کی ایک روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رمضان میں سحری کے آغاز پر ایک اذان دی جاتی تھی اور ایک اس کے اختتام پر۔ معلوم یہی ہوتا ہے کہ پہلی اذان کا مقصد لوگوں کو سحری کے لیے اٹھانا اور دوسری سے وقت فجر اور روزے کے آغاز کا اعلان تھا۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک رات کو بلال اذان دیتے ہیں کہ پس تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ عبداللہ بن ام مکتوم اذان دیں ۔

اسی پر قیاس کر کے ہمارے اہل علم بعض دیگر مواقعوں جیسے دشمن کے حملے سے خبردار کرنے وغیرہ کے لیے بھی اذان دینے کے قائل ہیں ۔

 ابو یحیٰ

 

۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔ 

 

Posted in QnA سوال و جواب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *