ترکی کا سفرنامہ 33

مبشر نذیر

تھوڑی دیر کے بعد اچانک چڑھائی شروع ہو گئی۔ چڑھائی کے ساتھ ساتھ دریا کے شور میں بھی اضافہ ہو رہا تھا کیونکہ یہ اب زیادہ تیزی سے نیچے کی طرف جا رہا تھا۔ تھوڑ ی سی چڑھائی کے بعد اچانک سڑ ک سیدھی ہو گئی۔ سامنے مسجد کا مینار نظر آ رہا تھا۔ دریا اب پرسکون ہو چکا تھا۔ ایک موڑ مڑتے ہی ہمارے سامنے ترکی کا حسین ترین منظر تھا۔ یہ یوزن جھیل تھی جو اپنے حسن کے لحاظ سے پورے ترکی میں مشہور تھی۔ ترابزن کے بروشر میں جس منظر نے ہمیں مسحور کیا تھا، وہ اب نگا ہوں کے سامنے تھا اور حقیقتاً اپنی تصویر سے بڑھ کر دلفریب تھا۔

جھیل کے ایک کنارے پر سڑک تھی جس پر دکانیں وغیرہ بنی ہوئی تھیں ۔ دوسرے اور تیسرے کنارے پر ہوٹل تھے مگر ہوٹلوں اور جھیل کے درمیان ایک کچی سڑک تھی۔ چوتھی جانب خالی تھی۔ جھیل کے شمالی کنارے پر ایک بہت ہی خوبصورت مسجد بنی ہوئی تھی۔ جھیل کے بیچوں بیچ ایک ننھا منا سا جزیرہ تھا جو گھنے سبزے سے ڈھکا ہوا تھا۔ اس کا سائز کچھ اتنا ہی تھا جتنا کہ ہماری کلری جھیل میں نوری جام تماچی کا مقبرہ بنا ہوا ہے ۔ جھیل کے ایک جانب سے دریائے یوزن نکل رہا تھا۔ چاروں طرف سبزے سے ڈھکے ہوئے پہاڑ تھے جن کی چوٹیاں بادلوں سے ہم آغوش ہو رہی تھیں ۔

اس جھیل کے منظر کا موازنہ اپنی جھیل سیف الملوک سے کیا جا سکتا ہے مگر یہاں فرق یہ تھا کہ جھیل کے چاروں طرف لکڑی کے بہت سے ہٹس بنے ہوئے تھے ۔ یہ جھیل اتنی بلندی پر بھی نہ تھی جتنی بلندی پر سیف الملوک واقع ہے۔ پہلی نظر ہی میں ہم اس جھیل پر عاشق ہو چکے تھے چنانچہ فیصلہ یہ ہوا کہ اگلے دو تین دن یہیں بسر کیے جائیں ۔ ویسے بھی اب ہم استنبول سے 1300 کلومیٹر کا سفر طے کر چکے تھے ۔

جھیل کے کنارے بہت سے لوگ تھے جن میں سعودیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ ان میں سے زیادہ تر حضرات اپنی جیپوں اور کاروں پر سعودی عرب سے آئے تھے ۔ ان کی خواتین نے برقعے پہنے ہوئے تھے جس کی وجہ سے ماحول پاکیزہ لگ رہا تھا۔ ترکی کے مغرب زدہ ماحول کی وجہ سے ہمیں جو گھٹن محسوس ہو رہی تھی، اس کا بھی یہاں خاتمہ ہو گیا تھا۔ ہمارے ہاں عربوں کا تصور یہ ہے کہ یہ اپنے ممالک سے باہر جا کر خوب عیاشی کرتے ہیں ۔ یہ تصور بالکل ہی غلط ثابت ہوا۔ یہاں موجود تمام عرب نہایت ہی شرافت سے انجوائے کر رہے تھے ۔ ان کی خواتین بھی مکمل باپردہ تھیں اور مردوں کی نظر میں بھی حیا تھی۔ ترک خواتین بھی باپردہ نظر آ رہی تھیں ۔

ابھی بہت کچھ باقی ہے !

اس صورت حال سے متعلق ہم آپس میں گفتگو کرنے لگے ۔ اہل مغرب کا کلچر مسلم معاشروں میں پھیلانے کے لئے کس درجے کی کوششیں کی گئی ہیں ۔ میڈیا کی پوری طاقت کو اس کام پر لگا دیا گیا کہ دنیا میں بے حیائی کو عام کیا جا سکے۔ سینما، ٹی وی ، رسائل و میگزین، انٹرنیٹ ، تھیٹر غرض ہر قسم کے میڈیا کے ذریعے بے حیائی کے فروغ کا کام لیا جانے لگا۔ مصر اور پاکستان جیسے ممالک میں سرکاری طور پر بے حیائی کے کاروبار کی سرپرستی کی گئی۔ ترکی میں حکومتی جبر کے زور پر بے حیائی کو مسلط کیا گیا۔ اس سب کے باوجود مغربی کلچر پوری طرح ہمارے معاشروں میں سرایت نہیں کر سکا ہے ۔ اب بھی ہمارے ہاں ایسے خواتین و حضرات کی کمی نہیں ہے جن کے نزدیک حیا اور عفت و عصمت بنیادی اقدار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مناسب ہو گا اگر ہم اس موقع پر بے حیائی کی تاریخ کا مختصر جائزہ لے لیں ۔

[جاری ہے ]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Posted in ترکی کا سفرنامہ | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *