9 – مشکلات میں جینے کا فن (Professor Aqil پروفیسر عقیل﴿

مشکلات میں جینے کا فن 

(پریشان ہونا چھوڑئیے ، جینا شروع کیجئے) 

پروفیسرمحمدعقیل

اصول نمبر 9 ۔ اسٹاپ لاس (Stop Loss) کے قانون سے مدد لیں!

کیس اسٹڈی: 

لیو ٹالسٹائی کی خوش نصیبی تھی کہ وہ جس لڑکی سے دیوانہ وار محبت کرتا تھا وہ اسے حاصل بھی ہوگئی اور دونوں کی شادی ہوگئی۔ لیکن وہ لڑکی انتہائی حاسد اور شکی مزاج نکلی۔ وہ بھیس بدل کر اکثر اپنے شوہر کا تعاقب کرتی، اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھتی اور شک کی بنا پر خودکشی کی دھمکی دیا کرتی تھی۔ ٹالسٹائی یہ بات جانتا تھا۔ چنانچہ اس نے ایک ڈائری لکھنا شروع کی جس میں اس نے خود کو معصوم اور اپنی بیوی کو ہر قصور کا مورد الزام ٹھہرایا  تا کہ آئندہ آنے والی نسلیں اسے معصوم سمجھیں۔ اس کی بیوی کو جب خبر ہوئی تو اس نے بھی اپنی ایک تصنیف میں ٹالسٹائی کو ایک گھریلو شیطان اور خود کو ایک شہید کے روپ میں پیش کیا تاکہ آئندہ کی نسلیں اسے اچھے الفاظ میں یاد رکھیں۔ دونوں آئندہ آنے والی نسلوں کے سامنے تو اپنی پوزیشن کلئیر کرنے میں لگے رہے لیکن انہیں یہ توفیق نہیں ہوئی کہ آپس میں مل بیٹھ کر ایک دوسرے کے سامنے اپنی پوزیشن کلئیر کریں۔ وہ اگر اسٹاپ لاس کا قانون اپلائی کرتے تو ان کی زندگی بہت خوشگوار ہوجاتی۔ وہ یہ تھا کہ جو ہو چکا سو ہو چکا، اب مزید نقصان نہیں اٹھانا۔

وضاحت

ہماری زندگی میں اکثر یہ ہوتا ہے کہ ہم نقصان اٹھاتے ہیں۔ کبھی غصے میں آ کر کسی کو کچھ کہہ دیا، کبھی کوئی غلطی کر کے کسی کا دل دکھادیا ۔ کبھی یہ غلطی چھوٹی ہوتی ہے اور کبھی بڑی۔ لیکن یہ نقصان ہو چکا ہے۔ اب عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس پر اسٹاپ لاس کا اصول اپلائی کر کے مزید غلطیوں اور نقصان سے بچا جائے۔ لیکن ہوتا عام طور پر اس کے برعکس ہے ۔ ہم اس غلطی کو جسٹفائی کرنے کی کوشش میں نقصان در نقصان کئے جاتے ہیں۔ اور یوں نتیجہ بھیانک گمراہی اور ٹوٹل لاس کی شکل میں نکلتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی کی نماز چھوٹ گئی ہے تو اسٹاپ لاس کا قانون یہ کہتا ہے کہ اس پر توبہ کر کے اس کی قضا پڑھ  لی جائے اور آئندہ نماز نہ چھوڑی جائے۔ لیکن عام طور پر لوگ ایک نماز چھوڑنے کے بعد ہمت ہار جاتے اور مستقل بے نمازی بن جاتے ہیں ۔ اسی طرح خاندانی جھگڑوں میں بعض اوقات یہ علم ہوتا ہے کہ ہم غلطی پر ہیں لیکن اسٹاپ لاس کرنے کی بجائے ہم غلطی کو جسٹفائی کرتے چلے جاتے ہیں جس سے تعلقات میں بحالی کی امید ختم ہوجاتی ہے ۔

اسائنمنٹ

۔ ان حقائق کی فہرست بنائیے جہاں آپ اسٹاپ لاس کا قانون اپلائی کرسکتے تھے اور آپ نے نہیں کیا۔

۔ان مستقبل کے مواقع کی فہرست بنائیے جہاں آئندہ آپ اسٹاپ لاس کا قانون اپلائی کرسکتے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, مشکلات میں جینے کا فن | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

2 Responses to 9 – مشکلات میں جینے کا فن (Professor Aqil پروفیسر عقیل﴿

  1. Amy says:

    Jazak Allah Khair.

  2. Mrs faisal says:

    1.same jaisa is mazmoon mai hain mai hameesha apny shohar se isi bat p jaghrty rhi k ghar dair se atay hain buyri buri batain sunana khud ko mazloom btana k mai din bhar
    akaily thy etc…………………….jb k woh bhar se mehnat kr k atay thy
    2.apnay ghusay p qabu pana bat bat p ager mai shirag paa na hn aur patience se kam ln tu it ll definately STOP LOSS esp the way i beat my children n become so harsh

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *