Download book

دوسرا باب۔ بےلباسی کی ذلت

اسماعیل صاحب کو گھر آئے ہوئے ایک مہینہ ہوچکا تھا۔ ان کی طبیعت اب مکمل ٹھیک ہوچکی تھی۔ کچھ احتیاط تھی جو وہ ڈاکٹروں کے مشورے پر کررہے تھے۔ عبداللہ بھی کئی دفعہ ان کی طبیعت معلوم کرنے آیا تھا۔ ان دونوں کا ذوق مشترکہ تھا یعنی مذہب۔ اس لیے زیادہ تر گفتگو بھی اسی حوالے سے ہوتی۔ وہ اکثر قرآن مجید لے کر ان کے پاس بیٹھ جاتا اور مختلف اہل علم کی آراء کی روشنی میں قرآن مجید کی شرح و وضاحت کرتا۔ رفتہ رفتہ اسماعیل صاحب اس کی سیرت کی ساتھ اس کے علم سے بھی متاثر ہوتے جارہے تھے۔

انہیں عبداللہ کے ساتھ رہ کر اندازہ ہورہا تھا کہ یہ لڑکا غیر معمولی ذہین اور باصلاحیت ہے۔ اس کے ساتھ اعلیٰ ذوق اور مطالعے کی عادت کی بنا پر اس کا علم اورسمجھ غیر معمولی ہے۔ جو بات ایک پڑھے لکھے مذہبی آدمی کو معلوم نہیں ہوتی تھی وہ عبداللہ بہت آسانی سے بیان کردیتا تھا۔ اسماعیل صاحب اکثر اس سے کہتے تھے کہ وہ بظاہر ایک عام سا غیر مذہبی شخص لگتا ہے، لیکن وہ کسی عالم سے زیادہ صاحب علم ہے۔ جواب میں عبداللہ ہنس کر خاموش ہوجاتا۔

عبداللہ انہیں کیا بتاتا کہ دینی علم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالینا عبد اللہ کا خواب تھا۔ مگر دوسری طرف دنیوی تعلیم کے بعد ملنے والی غیر معمولی دنیوی ترقی نے اس کے لیے صرف یہی راستہ چھوڑا تھا کہ وہ دن بھر دفتر میں معاش کے مسائل نمٹائے اور شام میں اپنے دینی ذوق کی تکمیل کرے۔ اس کی زندگی ایک کشمکش میں گزررہی تھی۔ اس کی تعلیم کچھ اور تھی اور اس کا ذوق کچھ اور تھا۔ کچھ عرصہ قبل وہ عمرہ کرنے گیا تو خدا سے یہی دعا کرتا رہا تھا کہ اس کی منزل اس کے سامنے واضح ہوجائے۔ اس کے لیے ایسے راستے کھل جائیں کہ وہ اپنے آپ کو خدا کے لیے وقف کرسکے۔ مگر سر دست یہ ایک خواب تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ خاندانی سرپرستی سے محروم ایک یتیم کے سامنے پہلا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات؛ گھر، گاڑی، شادی ، بچوں اور خاندان کی ضروریات پوری کرے۔

اسماعیل صاحب کے گھر میں اسے اپنی منزل نظر آنے لگی تھی۔ ناعمہ اس کے دل کے دروازے پر دستک دیے بغیر داخل ہوئی اور چپکے سے خانہ دل پر اپنا مستقل نقش بنالیا۔ یہ نقش مٹانا اب ممکن نہیں رہا تھا۔ دوسری طرف اسماعیل صاحب بھی کئی دفعہ دبے لفظوں میں یہ بات کہہ چکے تھے کہ وہ اسے اپنا بیٹا بنانا چاہتے ہیں۔ یوں وہ اپنی نئی زندگی کے خواب آنکھوں میں سجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس بات سے بے خبر کہ عنقریب اس کے خواب بکھرنے والے ہیں۔

ایک شام جب عبداللہ اسماعیل صاحب سے مل کر اپنے گھر روانہ ہوا تو آمنہ بیگم اسماعیل صاحب کو دوا کھلانے ان کے کمرے میں آئیں۔ اسماعیل صاحب نے دوا کھانے کے بعد اپنی بیٹی سے دریافت کیا:

’’بیٹا! تم نے ناعمہ سے عبداللہ کے حوالے سے بات کی؟ مجھےاب اپنی زندگی کا دھڑکا لگا رہتا ہے اور یہ لڑکا مجھے بہت پسند ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنی زندگی ہی میں ناعمہ کی ذمہ داری سے فارغ ہو جاؤں۔‘‘

’’ابو! ناعمہ اس رشتے پر راضی نہیں ہے۔‘‘، آمنہ بیگم نے سر جھکا کر جواب دیا۔

یہ سن کر اسماعیل صاحب کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئے۔ انہیں شاید یہ امید نہیں تھی کہ ان کی نواسی ان کے پسند کیے ہوئے رشتے سے انکار کردے گی۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد انہوں نے پوچھا:

’’عبداللہ میں خرابی کیا ہے؟‘‘

’’وہی جو ناعمہ کے والد شہزاد میں تھی۔‘‘، آمنہ بیگم نے اداسی کے ساتھ جواب دیا۔

’’شہزاد کے ساتھ تو تقدیر نے خرابی کی۔ ورنہ آج وہ زندہ ہوتا تو صورتحال بالکل مختلف ہوتی۔ مگر تقدیر ہر دفعہ خراب نہیں ہوتی۔‘‘

’’اب زمانہ بدل گیا ہے ابو!‘‘، آمنہ نے سمجھانے والے انداز میں کہا:

’’اب ہم اپنی اولاد پراپنی مرضی نہیں ٹھونس سکتے۔ آج کے بچے ہماری نسل کی طرح اپنی قسمت پر صابر و شاکر نہیں رہتے۔ وہ اپنی قسمت آپ بنانا چاہتے ہیں۔ وہ فیصلے سنتے نہیں، اپنے فیصلے آپ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کے فیصلے غلط ہوں تو اس کا الزام کم از کم اپنے آپ کو دیں۔ اپنے پیاروں کو تو کٹہرے میں کھڑا نہ کریں۔‘‘

’’تمھاری بات ٹھیک ہے، مگر دیکھو تو سہی عبداللہ میں کتنی خوبیاں ہیں۔ وہ اچھی شکل کا ہے۔ بہت باصلاحیت ہے۔ اچھی ملازمت کرتا ہے۔ پھر اس نے ابھی ہسپتال میں ہمارا کس طرح ساتھ دیا ہے۔ سارا دن جاب کرتا اور ساری رات میرے سرہانے ایک کرسی پر بیٹھا رہتا تھا۔ اور نیک دیکھو کتنا ہے۔ اگر نیکی، شرافت اور صلاحیت کو دیکھنے میں ناعمہ کی نوجوان آنکھیں کامیاب نہیں ہو رہیں تو تم تو دیکھ سکتی ہو۔‘‘

’’ابو! ناعمہ جہاں سے زندگی شروع کرنا چاہتی ہے، عبداللہ شاید بڑھاپے تک بھی اس منزل پر نہ پہنچ سکے۔ آپ یہ بھی تو دیکھیے عبداللہ اور اس کے خاندان کا ہمیں بہت زیادہ پتہ نہیں ہے۔ اتنی کم ملاقاتوں میں اتنے بڑے فیصلے نہیں کیے جاتے۔ پھر ناعمہ کے لیے اور بہت سے رشتے آرہے ہیں۔ ناعمہ خوبصورت ہے، تعلیم یافتہ ہے، اچھے گھرانے سے ہے۔ ایک دو رشتے ناعمہ کے اور آئے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک تو بالکل ویسا ہی ہے جیسا ناعمہ چاہتی ہے۔‘‘

’’کہیں ناعمہ کی اپنی کوئی پسند تو نہیں؟‘‘، اسماعیل صاحب نے ایک امکان کو سامنے رکھتے ہوئے پوچھا تو آمنہ بیگم نے فورا تردید کردی۔

’’نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔ ناعمہ کا کبھی کسی لڑکے سے کوئی ربط و ضبط نہیں رہا۔ بس اس کے کچھ خوف ہیں کہ جو محرومی اس نے جھیلی ہے اس کی اولاد کو نہ دیکھنی پڑے۔ پھر اس کے پس منظر کی لڑکیاں اونچا ہی سوچتی ہیں۔ اس جیسی شکل و صورت کی لڑکی فطری طور پر آج کل کے معاشرے میں رہ کر ایسا ہی سوچے گی۔ معاشرہ میں خوبصورتی کا جو سکہ سب سے زیادہ چلتا ہے وہ ناعمہ کے پاس بے حساب ہے۔ پھر وہ اوسط درجے کے ایک رشتے پر کیسے قانع ہوجائے۔ میں بھی اسے کوئی عقلمندی نہیں سمجھتی۔‘‘

ماں نے اپنا وزن بیٹی کے پلڑے میں ڈالتے ہوئے گویا اپنا فیصلہ بھی سنادیا۔

’’دوسرا رشتہ کیسا ہے؟‘‘ اسماعیل صاحب نے ہار مانتے ہوئے بیٹی سے دریافت کیا:

’’بہت امیر گھرانا ہے۔ لڑکا امریکہ میں تعلیم کے آخری مرحلے میں ہے۔ چند مہینے میں آنے والا ہے اور وہ لوگ اس کے بعد فوراً ہی شادی کرنا چاہتے ہیں۔میں نے تصویر دیکھی ہے لڑکے کی۔ بہت اچھا لڑکا ہے۔ رشتے والی خاتون بتارہی تھیں کہ انہیں رشتوں کی کوئی کمی نہیں۔ ایک ڈھونڈیں گے تو ہزار ملیں گے۔ مگر چونکہ وہ خاتون میری پرانی جاننے والی ہیں، اس لیے انہوں نے ترجیحاً سب سے پہلے مجھ سے کہا ہے۔ وہ کہہ رہی تھی کہ فوراً ہاں کہہ دیں۔ ایسے رشتے بار بار نہیں ملتے۔‘‘

’’پھرمجھ سے کیا پوچھتی ہو، ناعمہ ہی سے پوچھ لو۔‘‘، اسماعیل صاحب نے قدرے بے رخی اور بے پرواہی کے ساتھ کہا۔

’’مجھے معلوم ہے جو کچھ ناعمہ کو چاہیے وہ سب اس رشتے میں موجود ہے۔مجھے یقین ہے وہ ہاں کہہ دے گی۔ اس کی سہیلی فاریہ کی بھی منگنی ہوچکی ہے اوراب ناعمہ کی شادی بھی ہوجانی چاہیے۔ آپ ہاں کہہ دیں تو اگلے ہفتے باقاعدہ بات چیت ہوجائے گی۔‘‘

’’میری ہاں تو بس ایک رسمی سی بات ہے۔ مگر میں عبداللہ کا سامنا کیسے کروں گا؟‘‘

’’تو کیا آپ نے عبداللہ سے بات کرلی تھی؟‘‘

’’میں نے تم سے بات کرنے سے قبل اس کا عندیہ اشاروں کنایوں میں لے لیا تھا کہ کہیں اس کی کوئی اور پسند نہ ہو۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ ناعمہ سے ہم بات کرلیں اور عبداللہ بعد میں منع کردے۔ یوں ناعمہ کو کوئی دکھ پہنچے۔مگر یہاں معاملہ ہی الٹا ہوگیا۔ اب تو عبداللہ کو دکھ ہوگا۔ میں نے سوچا تھا کہ ساری زندگی اللہ نے بیٹا نہیں دیا۔ اب عبداللہ جیسا بیٹا ملے گا جو میرے ذوق، مزاج اور خوابوں کے مطابق ہے۔ مگر شاید زندگی کے آخری حصے میں یہ محرومی اور دیکھنی تھی۔‘‘

’’عبداللہ آپ سے مخلص اور واقعی اچھا لڑکا ہے تو پھر بھی آپ کے پاس آتا رہے گا۔‘‘

’’پتہ نہیں آگے کیا ہوگا؟‘‘، اسماعیل صاحب نے آہستگی سے کہا اور آنکھیں بند کرلیں۔

Posted in Uncategorized | Permalink.

One Response to دوسرا باب۔ بےلباسی کی ذلت

  1. RAMEESA_ISLAM says:

    Awesome Written I like it very much. ♥ ♥ ♥ ♥ ♥ ♥ ♥ ♥

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *