Download book

(دوسری یلغار (دیباچہ

دوسری یلغار

انسانیت کا قافلہ مختلف ادوار سے ہوتا ہوا آج انفارمیشن ایج میں داخل ہوچکا ہے۔ اس مرحلہ سفر میں انسانیت کی امامت اہل مغرب کے ہاتھ میں ہے۔ ان کی زبان، تہذیب، ثقافت، علم، فلسفہ، اقدار اور حیات وکائنات کے بارے میں ان کے نظریات آج دنیا بھر میں غالب ہیں۔ دنیا پر اہل مغرب کایہ غلبہ ان کی دوسری یلغار کا نتیجہ ہے۔ ان کی پہلی یلغار صنعتی دور کے آغاز میں ہوئی تھی، مگر اس وقت ان کا غلبہ سیاسی نوعیت کا تھا۔ ان کے تہذیبی اثرات محکوم اقوام کی اشرافیہ ہی تک محدود تھے۔ تاہم آج جب سیٹلائٹ، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی غیرمعمولی ترقی نے دنیا کو حقیقی معنوں میں ایک گلوبل ولیج بنادیا ہے، مغربی فکر وتہذیب ذرائع ابلاغ کی طاقت سے معاشرے کے ہر طبقے میں سرائیت کررہی ہے۔ ہمارا تہذیبی ڈھانچہ، اخلاقی اقدار اور اعتقادی نظام سب مغرب کی اس دوسری یلغار کی زد میں ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ اس یلغار کاپہلا نشانہ ہمارا تہذیبی ڈھانچہ اور اخلاقی نظام بنے ہیں لیکن اس کا آخری ہدف ہمارا مذہبی اوراعتقادی نظام ہی ہوگا۔ یہ بنیادی حقیقت کہ عالم کا ایک پروردگار ہے جو کائنات کا نظام براہراست چلارہا ہے۔ وہ اپنے رسولوں کو لوگوں کے پاس بھیجتا ہے تاکہ وہ اس کی مرضی سے لوگوں کو آگاہ کریں۔ پھر ایک دن وہ اپنے وفاداروں کوبہترین جزا دے گا اور منکروں کا احتساب کرے گا۔۔۔ یہ باتیں الحاداور انکار خدا (atheism) پر مبنی مغربی فکر کے تحت لوگوں کو ناقابل یقین لگتی ہیں۔ ان چیزوں کو حقائق سے زیادہ بعض مذہبی لوگوں کا انفرادی عقیدہ یا ایک ثقافتی مظہر (Cultural Phenomenon) سمجھا جاتا ہے۔

جدید دنیا میں مذہبی افکار سے متعلق یہ تصورات عام ہیں، مگر ہمارے ہاں پچھلی دو نسلوں میں مذہبی فکر کے غلبے کی بنا پر یہ چیزیں نمایاں نہیں ہوسکی تھیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ انٹرنیٹ اور سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کی وجہ سے تبدیلی کا ایک عمل آہستہ آہستہ شروع ہوچکا ہے۔ ان ذرائع کی پہنچ اور قوت کی بنا پرالحاد (atheism) کا اصل نشانہ ہماری جدید نسلیں اور نوجوان ہیں۔ ان نوجوانوں میں سوال اور تشکیک کے مرحلے کا آغاز ہوچکا ہے۔ موثر جواب سامنے نہیں آیا تو شکوک وشبہات اور انکار کا مرحلہ جو ابھی ایک اقلیت تک محدود ہے جلد ہی اکثریت کا مسئلہ بن جائے گا۔ اگلی نسل میں بیشتر پڑھے لکھے لوگ خدا و آخرت کو ایک زندہ حقیقت ماننے کے بجائے ایک ثقافتی مظہر کے مقام پر پہنچادیں گے۔ میں مذہب کے ساتھ سوشل سائنس کا بھی طالب علم ہوں اور سماجی حرکیات (Social Dynamics) کو سمجھتا ہوں۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ کیا تبدیلی آرہی ہے اور کیا آنے والی ہے۔ جواب دینے کا یہی وقت ہے۔ اس کے بعد کوئی جواب موثر نہیں ہوگا۔ نوجوان نسل کو بچانے کا یہی وقت ہے۔ اسی احساس کے تحت میں نے آج سے دو برس قبل ’’جب زندگی شرع ہوگی‘‘ کے نام سے ایک ناول شائع کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو وہ مقبولیت عطافرمائی جو کم ہی تحریروں کو ملا کرتی ہے۔

Posted in Uncategorized | Permalink.

2 Responses to (دوسری یلغار (دیباچہ

  1. rashid rauf says:

    Very nice saying to the point.
    But our Mullas dont wana realized they still living in fairy tales

  2. Hafsa says:

    great!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *