Download book

تیسری روشنی

 بسم اللہ الرحمن الرحیم 

میری کتاب ”جب زندگی شروع ہوگی“ کو الله تعالیٰ  نے جو مقبولیت عطا فرمائی ہے وہ اردو زبان کی تاریخ میں کسی اور کتاب کو شاید نہیں ملی ہے۔ تاہم اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس کتاب کو اللہ تعالیٰ  نے ان گنت لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی کا ذریعہ بنادیا ہے۔ لوگوں کی زندگیاں بدل گئیں۔ توحید اور آخرت کی بنیادی دعوت ایک زندہ حقیقت بن کر ان کے سامنے آگئی۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی سیرت طیبہ، آپ کے اخلاق عالیہ، آپ کی لائی ہوئی شریعت اور آپ کے عطا کیے ہوئے دین پر عمل کا سچا جذبہ پیدا ہوا۔ لوگوں نے گناہوں کی زندگی سے توبہ کی۔ نیکی کی راہ اختیار کی۔ الله اور اس کے رسول کی اطاعت کا راستہ اختیار کیا۔ اللہ کی سچی محبت دلوں میں راسخ ہوگئی۔ اس سے ملاقات اور اس کی جنت کے حصول کا جذبہ پیدا ہوا۔ حشر اورجہنم کی سختیوں سے بچنے کی خواہش دلوں میں گھر کرگئی۔ لوگوں میں خود قیامت کے برے انجام سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کی سوچ عام ہوئی۔

یہ سب کچھ ہوا اور آج تک الحمد لله ہو رہا ہے۔ اور اس پر اپنے مالک کا بے حد شکر گزار ہوں۔ تاہم یہ ایک فطری چیز ہے کہ جو چیز معاشرے میں غیر معمولی مقبولیت اختیار کرلے، اس پر کچھ نہ کچھ مخالفانہ ردعمل بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ کچھ عرصہ سے کتاب کے خلاف اکا دکا تحریریں سامنے آنا شروع ہوئیں۔ میرا طریقہ یہ رہا ہے کہ جب بھی کوئی منفی بات سامنے آتی ہے میں پہلے مرحلے پر پوری دیانت داری سے یہ کوشش کرتا ہوں کہ میری غلطی اگر واضح کردی گئی ہے تو میں اس غلطی کی اصلاح کرلوں۔ کوئی بات اگر کمزور ہے تو اسے دور کردوں۔

اپنی غلطی واضح نہیں ہوتی تو میں پروردگار سے دعا کرتا ہوں کہ پروردگار! اگر یہ کتاب کسی گمراہی کا سبب ہے تو سب سے پہلے میں اس شر کے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور تیری بارگارہ میں دعا کرتا ہوں کہ اس کتاب کے پھیلنے کے راستے مسدود کردے۔ اور اگر یہ تیری مرضی اور رضا کے مطابق ہے تو اپنی خصوصی نصرت بھیج کر اس کتاب کو مزید پھیلا تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ تیرے قریب آسکیں۔

الحمد لله تادم تحریر یہ کتاب رکنے کے بجائے پھیلتی چلی جارہی ہے۔ میرے مالک کی عنایت سے انتہائی کم وقت میں یہ اردو کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکی ہے۔ ہر مخالفانہ تحریر کے بعد میں یہی دعا کرتا ہوں اور ہردفعہ کتاب پہلے سے زیادہ پھیل جاتی ہے۔ اس ضمن میں ایسے ایسے واقعات میرے سامنے آئے ہیں کہ دل تو چاہتا ہے کہ انہیں بیان کروں، مگر شاید اس میں خودستائی کا عنصر نہ داخل ہوجائے، اس لیے اس سے صرف نظر کرکے میں اصل بات کی طرف آتا ہوں۔

پچھلے دنوں بعض حضرات نے کتاب کے خلاف باقاعدہ مہم شروع کردی۔ ایسے میں قارئین اور احباب کی طرف سے یہ مطالبہ شدت کے ساتھ سامنے آیا کہ میں اس کا کچھ جواب لکھوں۔ میں اس طرح کی منفی چیزوں کا جواب لکھنے کو وقت کا زیاں تصور کرتا ہوں۔ جو قلم ایمان و اخلاق کی دعوت کے فروغ کے لیے وقف ہو، اس کی حفاظت الله تعالیٰ خود فرماتے ہیں۔ مزید یہ کہ منفی سوچ رکھنے والوں کے پاس کبھی الفاظ ختم نہیں ہوتے۔ آپ ان کی غلطی کتنی ہی واضح کردیں وہ ہر بات کے جواب میں ایک نئی اور غیر متعلقہ بحث چھیڑ دیں گے۔ اب یا تو انسان خاموش ہو کر اپنا مثبت کام کرتا رہے یا پھر طے کرلے کہ اسے سارے کام چھوڑ کر ایسے لوگوں کو گھر تک پہنچانا ہے۔ پہلی صورت میں منفی پروپیگنڈا پھیلتا چلا جاتا ہے اور ایمان کی دعوت کو سخت نقصان پہنچتا ہے اور دوسری صورت میں انسان کے پاس اپنا اصل کام کرنے کا وقت ہی نہیں رہتا۔

اس وقت بھی صورتحال یہ ہے کہ میں اپنی زندگی کی سب سے بڑی تصنیف ”قرآن کا مطلوب انسان“ پر نظر ثانی کررہا ہوں۔ یہ کتاب یعنی ”قرآن کا مطلوب انسان“ امت کے علمی ذخیر ے میں انشاءاللہ ایک منفرد اضافہ ہوگا جس میں قرآن و حدیث کے صریح ترین الفاظ میں لوگ یہ جان لیں گے کہ وہ کیا اعمال ہیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلوب ہیں۔ جنت اور جہنم کا دارومدار دراصل کن چیزوں پر ہے۔ دین کی اصل ترجیحات اور اس کے بنیادی مطالبات کی نوعیت کیا ہے۔

مگر ایسے میں یہ مسئلہ شدت کے ساتھ سامنے آگیا اور میں تذبذب کا شکار ہوگیا کہ کیا کروں۔ ایسے حالات میں میں اپنے مالک کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا۔ اس آقا کا میں کس منہ سے شکر ادا کروں کہ ہمیشہ کی طرح اس نے اس گناہ گار کی لاج رکھی اور ایک ایسی چیز کی طرف میری رہنمائی کردی جو انشاءاللہ العزیز اس معاشرے سے تعصب اورفرقہ واریت کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دے گی۔

اللہ تعالیٰ  نے مجھ پر یہ بات واضح کردی ہے کہ میں ایک حقیر انسان ہوں جس کے کام کے دفاع کی نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ کوئی اہمیت ہے۔ البتہ یہ بات بہت اہم ہے کہ اس معاشرے سے فرقہ واریت اور گروہی تعصب ختم ہو۔ درحقیقت یہ وہ چیزیں ہیں جو لوگوں کو انبیا و رسل کا بھی دشمن بنادیتی ہیں۔ یہ ایسا مرض ہے جو اپنے مریض کو پروردگار کے غضب میں مبتلا کردیتا ہے۔ اس مرض کے شکار لوگ تعصب میں اندھے ہوکر وقت کے نبی کو بھی قتل کردیتے ہیں۔ انہی چیزوں کی بنا پر آج بھی یہ صورتحال ہے کہ کون سا معروف عالم اور کون سا مکتبہ فکر اور مسلک نہیں جس کے بارے میں کفر اور گمراہی کا فتویٰ  نہیں ہے۔

ہمارے ہاں آج کفر و ضلالت کے فتووں سے لے کر بے گناہ انسانوں اور علمائے کرام کے قتل جیسے سنگین جرائم کے پیچھے بھی گروہی تعصب اور فرقہ واریت کا یہی مرض ہے۔ تاہم اس مرض کے پھیلنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ یہ سارے کام کررہے ہوتے ہیں وہ اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کھڑے ہوتے ہیں۔ ایک عام آدمی نیک دلی کے ساتھ ان کے پیچھے جاتا ہے اور فرقہ واریت اور تعصب کی زنجیروں سے خود کو جکڑتا چلا جاتا ہے۔ وہ ایمان و اخلاق کی دنیا کے بدترین جرائم کا ارتکاب کرتا ہے اورسمجھتا ہے کہ وہ کوئی دینی خدمت سرانجام دے رہا ہے۔ اس کے پاس کوئی ایسا معیار ہی نہیں ہوتا کہ وہ جانچ سکے کہ جن کو وہ رہنما سمجھ کر ان کے پیچھے ہولیا ہے وہ کس طرح غلط ہوسکتے ہیں۔

مگر الحمد لله پروردگار کی عنایت اور مالک کے کرم سے اس کا یہ عاجز بندہ اب تمام مسلمانوں کے سامنے ایک کسوٹی پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے جس کی مدد سے لوگ یہ جانچ سکیں گے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔ کون رب کی طرف بلارہا ہے اور کون اپنے تعصبات کا اسیر ہے۔ کون شیطان کے مشن کی تکمیل کررہا ہے اور کون انبیا علیہم السلام کا جانشین ہے۔ کون ہدایت پر ہے اور کون گمراہی پھیلارہا ہے۔ گویا ”قرآن کا مطلوب انسان“ سے قبل میں یہ واضح کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں کہ ”قرآن کا نامطلوب انسان“ کیا ہوتا ہے۔

پیش نظر تالیف میں کچھ ایسے واضح اور روشن اصول لوگوں کے سامنے رکھ رہا ہوں جن کی بنیاد پر ایک عام آدمی ہر طرح کے کنفیوژن سے بالاتر ہوکر صحیح و غلط کا فیصلہ کرسکے گا۔ کتاب کے آخر میں میری بعض دیگر تحریریں شامل ہیں جو ”جب زندگی شروع ہوگی“ کے حوالے سے سامنے آنے والے کچھ اہم سوالات کا جواب بھی دیتی ہیں اور ساتھ میں کچھ ایسے رویوں پر بھی توجہ دلاتی ہیں جو نفرت اور تعصب پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔ میری ہر مسلمان سے جو اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ایک روز اسے میدان حشر میں پیش ہو کر اپنے اعمال کا جواب اس طرح دینا ہے کہ خدا کے غضب سے بچانے کے لیے اس روز کوئی نہیں آئے گا، یہ درخواست ہے کہ وہ ایک بار اس تحریر کو پوری توجہ سے پڑھے اور جب کبھی اس کے پاس کسی بھی نقطہ نظر، مسلک، کتاب اور عالم کے خلاف نفرت پھیلانے والا مواد سامنے آئے تو وہ ان اصولوں کی روشنی میں ان کا تجزیہ کرلے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ عمل اسے قیامت کی ایک بہت بڑی ذلت اور رسوائی سے محفوظ کردے گا۔

الله تعالیٰ  سے دعا ہے کہ وہ اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما کر امت میں اتحاد اور یکجہتی کا ذریعہ بنا دے۔ اپنی تصنیف کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کے لیے میں اللہ تعالیٰ  کی بارگاہ میں ہدایت کے لیے دعا کرتا ہوں۔ میرے دشمن یہ لوگ نہی ںشیطان ملعون ہے۔ شیطان گمراہی کے اندھیروں کا پجاری ہے۔ الله تعالیٰ نے اپنے اس حقیر غلام کو شیطان کے خلاف جنگ کے لیے چنا اور یہ عزت عطا کی کہ اس کی پچھلی دو کتابوں نے ان گنت لوگوں کو شیطانی اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی تک پہنچایا ہے۔ میری پہلی کتاب ”جب زندگی شروع ہوگی“ نے لوگوں میں ایمان اور توبہ کی منادی کی۔ دوسری کتاب ”قسم اُس وقت کی“ نے دین اسلام پر لوگوں کا اعتماد بحال کیا اوراب انشاءالله یہ کتاب ”تیسری روشنی“ بن کر سامنے آئے گی۔ انشاءالله اس کتاب کو پڑھ کر ایک مخلص مسلمان فرقہ واریت، نفرت اور گروہی تعصب کے اندھیرے سے نکل کر ہدایت، محبت اور معرفت کی روشنی میں آجائے گا۔ مسلمانوں میں اتحاد پیدا ہوگا اور مسلمان مل کر ہدایت کی اس روشنی سے دنیا کو منور کریں گے جو ان کے پاس ا ن کے محبو ب  پیغمبر کی امانت  ہے۔

باقی جو لوگ اپنے تعصبات کی قید سے نکلنا ہی نہیں چاہتے تو الله تعالیٰ  سے دعاگو ہوں کہ ان کے شر سے مجھے اور ہر مسلمان کو محفوظ رکھے۔ اللھم انا نجعلک فی نحورھم و نعوذبک من شرورھم۔ اللھم انی اعوذبک من الفتن ما ظھر منھا وما بطن۔

بندہ عاجز

ابو یحییٰ

Posted in Uncategorized | Permalink.

3 Responses to تیسری روشنی

  1. Aeysha Gulzar says:

    JazakAllah…

  2. Intikhab Bhatti says:

    May ALLAH RABULALAMEEN strengthen all Muslims to invite for Siratulmustaqeem and be on it as well till last breath .

  3. Shahid says:

    May Allah bless u on your efforts to go for right things.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *