Eye Candy (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

 Eye candy انگریزی زبان کی ایک اصطلاح ہے۔ اس سے مراد کوئی ایسی چیز، منظر یا شخصیت ہے جسے دیکھنا اچھا لگے گرچہ اس کی علمی یا عملی کوئی اہمیت نہ ہو۔ میڈیا کی دنیا میں یہ اصطلاح عام طور پر خوبصورت خواتین اور ان کی جسمانی نمائش کے لیے استعمال ہوتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ناظرین ان کی نسوانی کشش کی بنا پر اس فلم یا پروگرام کو دیکھیں ۔

دنیا بھر کے انٹرٹینمنٹ میڈیا میں آئی کینڈی کا استعمال عام ہے۔ خاص کر فلموں اور ٹی وی پروگراموں میں کم ہی اس کے بغیر گزارا ہوتا ہے ۔ البتہ حالات حاضرہ کے پروگراموں میں اس کا استعمال بہت کم اور علمی پروگراموں میں تو بالکل نہیں ہوتا۔ ہمارے ملک کے میڈیا کو البتہ یہ اعزاز حاصل ہے کہ حالات حاضرہ کے بیشتر پروگراموں میں کسی آئی کینڈی کو بطور میزبان لے کر ناظرین کی توجہ حاصل کی جاتی ہے ۔ ٹی وی کے سنجیدہ ناظرین یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت نشر ہونے والے حالات حاضرہ کے بیشتر پروگرام، آئی کینڈی میزبانوں کے ذریعے سے باہمی مسابقت کر رہے ہیں ۔

میرا تعلق چونکہ برسہا برس تک میڈیا سے رہا ہے اس لیے میں اپنے بعض ایسے تجربات بھی قارئین سے شیئر کرسکتا ہوں جن سے انھیں اندازہ ہو گا کہ سنجیدہ پروگراموں میں بھی کسی حسینہ کی موجودگی محض حسن اتفاق نہیں ہوتی۔ میں کئی برس تک ایک مذہبی ٹی وی پروگرام کا میزبان رہا ہوں جو اس زمانے میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا مذہبی پروگرام تھا۔ پروگرام کی ابتدا میں مینجمنٹ کا اصرار تھا کہ میرے ساتھ کوئی خاتون میزبان بھی ہوں۔ چنانچہ ایک ایسی خاتون کا انتخاب عمل میں آیا جن کا نہ دینی علم سے کوئی تعلق تھا نہ ٹی وی پروگراموں کا کوئی تجربہ تھا۔ ان کی واحد وجہ انتخاب نسوانی جمال تھا۔

کچھ پروگرام تو انھوں نے جیسے تیسے کر لیے ، مگر پھر ایک پروگرام میں ڈاکٹر اسرار مرحوم تشریف لائے ۔ پروگرام کے دوران میں پروڈیوسر صاحب مسلسل ہمارے کان میں یہ صور پھونک رہے تھے کہ فلاں سوال کریں ۔ پھر انھوں نے ایک ایسے سوال پر اصرار کیا جو بالکل بے تکا تھا۔ میں نے اس کو نظر انداز کر دیا۔ مگر خاتون کو اس کے بے تکے پن کا اندازہ نہ تھا سو انھوں نے وہ سوال کر ڈالا۔ اب جو لوگ ڈاکٹر صاحب مرحوم سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ بڑے جلالی بزرگ تھے۔ انھوں نے سوال کے جواب میں خاتون کو ڈانٹ دیا۔ اگلے پروگرام سے خاتون ہمیں داغ مفارقت دے گئیں اور پھر کئی برس تک وہ پروگرام میں نے تنہا ہی کیا۔

میں بحیثیت اسکالر بھی کافی عرصے تک ٹی وی کے مختلف پروگراموں میں آتا رہا ہوں ۔ پھر ایک وقت آیا کہ میں نے میڈیا کی دنیا کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کیا ۔ اس کے بعد جب کبھی کسی ٹی وی چینل کی طرف سے رابطہ کیا جاتا میں معذرت کر لیتا۔ ایسے میں رابطہ کرنے والے اکثریہ پوچھ لیتے تھے کہ کسی اور اسکالر کے بارے میں بتادیجیے ۔ ایک دفعہ ایسے ہی کسی موقع پر جب میں نے معذرت کی توپروگرام کے پروڈیوسر نے دریافت کیا کہ سر کیا یہ ممکن ہے کہ آپ کسی خاتون اسکالر سے رابطہ کرا دیں ۔ ۔ ۔ اور ہاں وہ خوبصورت بھی ہونی چاہیے ۔ بعد ازاں جب ٹی وی پر بعض مذہبی پروگرام دیکھے جن میں خواتین اسکالر یا نعت خواں موجود تھیں تو اندازہ ہوا کہ انتخاب کرنے والوں نے خوبصورتی ہی کو بنیادی معیار بنایا ہے ۔

بہرحال اس طرح کے اور بھی کئی ذاتی مشاہدات ہیں ، مگر میں چونکہ طالب علم ہوں اس لیے اپنے مطالعہ کی بنا پر بھی جانتا ہوں کہ میڈیا میں دو چیزیں بکتی ہیں۔ ایک ہاٹ اور ریڈیکل گفتگو اور دوسرے نسوانی جمال اور جنسی کشش۔ دنیا ان کا استعمال انٹرٹینمنٹ میں کرتی ہے ۔ مگر ہائے افسوس کہ ہم نے علم وخبر کی دنیا کو بھی آئی کینڈی کی بھینٹ چڑھا دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, سماجی مسائل | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

2 Responses to Eye Candy (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. Hafsa says:

    Well said sir. What a sad reality in our society. I wish the things could get any better, but getting worse. A recent example is Ms Ayan in Karachi University.

  2. بالکل درست نشاندہی کی ہے اپ نے ۔۔ اور افسوس ہے ان خواتین پر ۔۔۔ جزاک اللہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *