Quotes From Travelogue (Australia)

 

 اب خدا نے انفارمیشن ایج شروع کر دی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اپنی کامل جنت کی مکمل اور عالمی منادی کرادے۔ تاکہ کل جب قیامت کا دن آئے تو کوئی سارا یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے اگر آپ کی کریم ہستی کا مکمل تعارف مل جاتا تو میں تڑپ کرآپ کی حمد کرتی اور بہشت بریں کی امیدوار ہوتی۔ کوئی انسان یہ نہ کہہ سکے کہ مالک آپ نے سائنس اور سماج کا پورا علم تو کھول کر رکھ دیا، مگر اپنی عطا اور رضا کا مکمل علم نہیں کھولا کہ ہم آپ کی عظمت کے احساس میں ڈوب کر آپ کی تسبیح کرتے اور جنت الفردوس کے امیدوار ہوتے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ صدیوں سے بند کھڑکیاں کھولی جائیں ۔ ہدایت کی روشنی ہر انسان تک پہنچے۔ خدا کی عظمت کا وہ منظرجو آج چند عارفوں کی نگاہوں تک محدود ہے، آنے والے کل میں ہر عام و خاص تک جاپہنچے۔ خدا کی حمد جیسے آسمان پر ہوتی ہے۔ ایسے زمین پر بھی ہو۔ اور جیسے زمین ہوتی ہے، ویسے ہی دلوں کی زمین پر بھی کی جائے۔ کھڑکی کھلے گی۔ روشنی ہوگی۔ یہی اٹل فیصلہ ہے ۔

پروردگار یہ احسان تو اپنے نیک بندوں پر ضرور کرے گا کہ اہل خانہ کے درجات کم ہوئے تو باپ کے پاس بلند درجے میں پہنچا دیا جائے۔ مگر اس کا کوئی سوال نہیں کہ کسی کے خاطر اس کے بیوی بچوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں پہنچایا جائے۔ کاش ہم سب اپنے گھروالوں کے معاملے میں بھی حساس ہوجائیں۔

اس راہ (دین کی دعوت) میں ملنے والے اچھے لوگ وہ پھول ہوتے ہیں جن کی وجہ سے اس راہ کے کانٹے بھی گوارا کیے جا سکتے ہیں۔ یہ اچھے لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ نقد انعام ہوتے ہیں جو آخرت کے اجر سے پہلے اِسی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتے ہیں۔

میں سفر تفریح کے لیے نہیں کرتا۔ نہ لکھنے کے لیے سفرنامہ لکھتا ہوں۔ سفر اس لیے کرتا ہوں کہ اس خدا کو دیکھوں جو اس کائنات میں بیک وقت ظاہر بھی ہے اور باطن بھی ہے۔ لکھتا اس لیے ہوں کہ جو خدا کائنات کی ہر شے میں ظاہر ہے، مگر لوگوں کی نگاہوں سے مستور ہے، اسے دوسروں کو دکھا سکوں۔ ضمنی طور پر میری یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہماری قوم بھی ترقی یافتہ اقوام کی طرح آگے بڑھے۔

اہل جنت جنت میں سویا نہیں کریں گے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ انھیں کبھی کوئی تکان لاحق نہیں ہو گی اسے مٹانے کے لیے انھیں سونا پڑے۔ مگر دوسری حقیقت مجھ پر اس وقت واضح ہوئی جب راستے میں عبدالشکورصاحب نے مجھ سے کہا کہ گاڑی میں نیند لے لوں، میں نے عرض کیا کہ یہاں کی خوبصورتی مجھے سونے کی اجازت نہیں دے رہی۔ جنت واقعی ایسی جگہ ہو گی کہ جہاں کی خوبصورتی انسان کو سونے اورآرام کرنے حتیٰ کہ آنکھیں بند کرنے کی اجازت بھی نہیں دے گی۔

 یہ دنیا ختم ہونے والی ہے۔ ابدی جنت شروع ہونے والی ہے۔ رب العالمین اگر یہ دنیا بنا سکتا ہے تو وہ دنیا بھی بنا سکتا ہے۔ کون ہے جو اس کا طلبگار ہے۔ کون ہے جو اس کے لیے خدا سے سودا کرے کہ وہ ہر خواہش، تعصب اور مفاد سے بلند ہوکر خدا کا بندہ بنے گا۔

میں نے برسہا برس میں یہ سیکھا ہے کہ داعی کا کام پہنچانا ہوتا ہے۔ لوگوں کو بدلنا نہیں ہوتا۔ لوگوں کو بدلنا ہو تو رب العالمین کے ایک اشارے کی دیر ہے۔ مگر یہ اسے مطلوب نہیں ہے۔ اسے وہ لوگ چاہییں جو اپنی مرضی سے اس کے سامنے جھک جائیں ۔ جنت انھی کی وراثت ہے ۔ جنت انھی کی ملکیت ہے ۔

ہمارے ہاں پردے کے احکام جب بھی زیر بحث آتے ہیں تو ہمیشہ خواتین ہی پر ساری توجہ ہوتی ہے۔ حالانکہ قرآن نے گفتگو کا آغاز مردوں سے شروع کر کے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی نگاہ اور جذبات دونوں پر قابو رکھیں۔

خدا زبردستی کسی کو بندہ نہیں بنانا چاہتا۔ جنت کا سودا وہی خریدے گا جو اپنی آزادانہ مرضی سے اپنی آزادی سے خدا کے سامنے دستبردار ہوجائے ۔

دین حق کی دعوت لوگوں تک پہنچانا اصلاً نبیوں والا کام ہے۔ اس کا اجر اتنا زیادہ ہے کہ لوگوں کو اندازہ ہوجائے تو اپنی زندگی کا ہر لمحہ اس کام کے لیے وقف کر دیں۔ مگر بدقسمتی سے بیشتر لوگ اپنی خواہشات اور تعصبات کے اسیر ہیں۔اس لیے وہ اس عظیم موقع کو پہچاننے اور اس کا فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ چیز ثانوی ہے کہ کس نے (کس فقہی رائے) پر عمل کیا۔ زیادہ اہم بات جس پر اصل سوال ہو گا وہ یہ ہے کہ اپنے تعصبات اور ذاتی پسند و ناپسند سے بلند ہوکر سچ بات کو دیانت داری سے تلاش کرنے کی کوشش کی تھی یا نہیں۔ پھر اس کے بعد اگلا سوال یہ ہو گا کہ جس بات کو دیانت داری سے درست سمجھا تھا ا س پر عمل کیا یا نہیں۔

لوگ اپنے تعصبات کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ انھیں سچ سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ اس کے بعد کوئی شخص بڑے سے بڑا عمل لے کر بھی اللہ کے حضور پہنچ جائے اللہ تعالیٰ یہ عمل اس کے منہ پر کھینچ کر ماریں گے۔ اس لیے کہ یہ عمل اللہ کے لیے نہیں کیا گیا۔ بلکہ اپنے تعصبات کے تحت کیا گیا ہے۔

خدا کو وہ لوگ چاہییں جن کی دلچسپی حق میں ہو۔ حق کی تلاش ان کا مسئلہ ہو۔ اور پھر حق کے سامنے ان کا سرجھک جائے۔

حقیقت میں خدا کے سامنے ایک طاقتور شخص بھی اتنا ہی کمزور ہے جتنا ایک کمزور آدمی۔ مگرایک طاقتور شخص ہر چیز کا کریڈٹ اپنے آپ کو دینے کا عادی ہوجاتا ہے۔ جبکہ ایک کمزور انسان جب اپنے عجز کو دریافت کر کے خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو جواب میں خدا بھی متوجہ ہوجاتا ہے۔ جب خدا متوجہ ہوجائے تو پھر معجزے وجود میں آتے ہیں۔

ہم سب کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔ ہمیں ایک نسلی یا متعصب مسلمان نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایک حقیقی مسلمان ہونا چاہیے اسلام جس کی اپنی دریافت ہو۔ جس کے میں نے زندگی کے وہ عملی دائرے بیان کر دیے جن میں اللہ تعالیٰ ہمارا رویہ درست دیکھنا چاہتے ہیں ۔ پہلا یہ کہ اسلام سے ہمارا تعلق اپنے فرقہ وارانہ تعصبات کی بنیاد پر نہیں تحقیق پر مبنی اس علم پر ہونا چاہیے جو قرآن و سنت میں موجود ہے ۔ یعنی خدا سے ہمارا ایک زندہ تعلق ہونا چاہیے۔

خارج کے اندھیر دور کرنا خدا کی ذمہ داری ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ ہر روز سورج طلوع کرتا ہے۔ مگر اندر کا اندھیرا دور کرنا انسان کی اپنی ذمہ داری ہے۔یہ اس لیے ضروری ہے کہ اس دنیا میں انسان کو جس امتحان میں ڈالا گیا ہے وہ یہی ہے کہ اسے سچائی کو قبول کرنا ہے۔ اور سچائی اندر کا اندھیرا دور کیے بغیر کبھی قبول نہیں کی جا سکتی۔

مسلمانوں کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ان کی دینی تعلیم میں کسی قسم کا کوئی انحراف ہو چکا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دین کی اصل تعلیم کے ساتھ دین ہی کے نام پر غیر مطلوب چیزوں کو مطلوب بنا کر بیان کیا جا رہا ہے۔ یا غیر اہم چیزوں کو اہم ترین بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کی اصلاح کرنا ایک بڑا کام ہے ۔

آپ کا بچہ آپ ہی سے سیکھتا ہے۔ اس لیے جیسا اسے بنانا چاہتے ہیں، اسے وہی گھر کے اندر بن کر دکھائیں ۔ زبانی باتوں اور دلی خواہشات سے کچھ نہیں ہونے کا۔

جس ملک میں(آپ) رہتے ہوں وہاں کے قانون کی پابندی کریں ۔ اس حوالے سے جو ذمہ داریاں عاید ہوں ان کو پورا کریں۔ جہاں رہتے ہوں ان لوگوں سے محبت کریں اور ان خیرخواہی کا رویہ اختیار کریں۔

انسان کو معیار زندگی بلند کرنے کی ختم نہ ہونے والی دوڑ سے نکل کر ایک جگہ ٹھہرنا ہو گا اور دین کی مدد کو اپنا ذاتی مسئلہ ایسے ہی بنانا ہو گا جیسے بیوی، بچوں اور خاندان کے مسائل کو انسان ذاتی مسئلہ سمجھتا ہے۔ عملی طور پر اس کام کا مطلب یہ ہے کہ ایمان و اخلاق کی دعوت کو اپنی ذاتی زندگی بنانے اور دوسرے تک ایمان و اخلاق کی اس نبوی دعوت تک پہنچانے کی بھرپور کوشش کی جائے۔ یہی کرنے کا اصل کام ہے ۔

ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کھانے پینے کی ممانعت نہیں۔ اسراف کی ممانعت ہے بلکہ سخت ممانعت ہے۔ ذوق جمال کی تسکین کی ممانعت نہیں ، البتہ فحاشی و بدکاری کی سخت ممانعت ہے۔ ذوق مزاح کی ممانعت نہیں ، مگر لوگوں کی تذلیل اور تحقیر کی سخت ممانعت ہے۔ یہی اسلام کا وہ توازن ہے جو اس کو دین فطرت بناتا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم دو سو برس سے ایک غلط راستے پر چل رہے ہیں۔ ہمارا اصل مسئلہ ایمان و اخلاق میں پستی تھی۔ جب یہ صورتحال پیدا ہوجائے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر غیر مسلموں کے ہاتھوں مغلوبیت کی سزا مسلط کر دیتے ہیں۔ یہی انھوں نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا اور یہی مسلمانوں کے ساتھ کیا ہے۔ ایسے میں کرنے کا اصل کام ایمان و اخلاق کی صدا کو پوری قوت سے بلند کرنا ہوتا ہے۔

بہت جلد وہ وقت آ رہا ہے جب خدا فراموش انسان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ انسان کی بنائی ہوئی تعمیرات بھی اب بہت جلد ختم ہونے والی ہیں۔ قیامت کا زلزلہ سڈنی کے اوپرا ہاؤس سے لے کر آگرہ کے تاج محل اور مصرکے اہرام تک ہر جگہ پھیلے جمال و کمال کے ہر مظہر کو ختم کر کے رکھ دے گا۔ مگر اس خاتمے کے ساتھ ہی انسان کی ابدیت کی خواہش کی تکمیل ہوجائے گی۔ انسان کو ہمیشہ جینے کے لیے دوبارہ زندہ کر دیا جائیے گا۔ مگر وہاں انسان کا ابدی مستقبل خدا کے ذوق جمال کی جلوہ گاہ یعنی جنت الفردوس یا پھراس کے غضب کے ظہورکی جگہ یعنی جہنم میں سے کوئی ایک ہو گا۔ 

یہ زندگی یقینی ہے ۔ یہ جنت یقینی ہے ۔ مگر اس میں داخلے کی شرط یہ ہے کہ انسان خدا کو اپنا سب سے بڑا مسئلہ بنالے۔ جو یہ نہیں کریں گے ان کا انجام جہنم ہو گا۔ جس میں انسان نہ زندہ رہے گا نہ مرنے پائے گا۔

 انسان کو نعمت کی قدر و قیمت اس سے محرومی کے بعد ہی محسوس ہوتی ہے۔

ہم نے جب جب کسی کا حق مارا ہو گا، کسی پر ظلم کیا ہو گا، کسی کا دل دکھایا ہو گا، کسی کا مال کھایا ہو گا، کسی پر الزام و بہتان لگایا ہو گا ان تمام مواقعوں پر لوگ اپنے اپنے مطالبات لے کر کھڑے ہوں گے۔ اس دنیا میں تو ہم اپنے طاقت، دولت، چرب زبانی اور چالاکی کی بنیاد پر پر ہر جگہ جیت جاتے ہیں، مگر وہاں خدا کے سامنے ہماری زبان بند کر دی جائے گی۔ صرف ہمارے اعمال بولیں گے یا اعضا ہمارے خلاف گواہی دیں گے۔

آج کے انسان کو سب سے بڑھ کر خدا کا شکر گزار ہونا چاہیے ۔ مگر آج کا انسان سب سے بڑھ کر خدا کو بھولا ہوا ہے ۔

ضروری ہے کہ خواتین سطحی چیزوں سے بلند ہوجائیں۔ خاندانی سیاست، فیشن اور مادیت میں مقابلہ بازی، اپنی طاقتور زبان کاغلط استعمال اور اپنے اتنے ہی طاقتور نسوانی جمال کا بے موقع اظہار کا جذبہ وہ پست چیزیں ہیں جو خواتین کی فیصلہ کن کمزوریاں ہیں۔ ان کے ساتھ وہ کبھی اعلیٰ انسان نہیں بن سکتیں نہ اپنے بچوں کو اعلیٰ انسان بنا سکتی ہیں ۔

 ایک ایسی دنیا میں جہاں اللہ ہی جج کی کرسی پربیٹھا ہر فیصلہ کر رہا ہے ، اگر اسی کو وکیل بنالیا جائے تو انسان اپنا کوئی مقدمہ کبھی نہیں ہار سکتا۔

اس دنیا میں ہر فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کر رہا ہوتا ہے ۔ کس کو بیمار ہونا ہے کس کو نہیں ہونا، کس کو کیا ملنا ہے، کیا نہیں ملنا؛ اس کا آخری فیصلہ وہی کرتا ہے۔ اسباب اپنی جگہ مگر ان کو موثر ہونے دینا یا نہیں ہونے دینا بھی اسی کے اختیار میں ہے ۔ انسان کو اسی کو اپنا کارساز بنانا چاہیے ۔

عنقریب اس دنیا کو مٹا کر ایک نئی دنیا بنائی جانے والی ہے۔ جہاں صرف جنت ہو گی یا پھر جہنم اور تمام انسان ان دومیں سے کسی ایک جگہ موجود ہوں گے۔ اس انتہائی غیر معمولی واقعے کی پوری اور مکمل اطلاع جن لوگوں کے پاس ہے ان کو اس اطلاع کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے میں کوئی دلچپسی ہی نہیں۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو جنت سے واقف ہیں لیکن اس کی خوشخبری دوسروں کو نہیں دینا چاہتے۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو جہنم کو جانتے ہیں، مگر اس کی آگ سے دوسروں کو خبردار نہیں کرنا چاہتے۔ اس کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ پانے والوں نے نہ جنت کو پایا ہے نہ جہنم۔

دعوت کا کام کبھی بے فائدہ نہیں جاتا۔ کچھ نہ کچھ لوگ ضرور بدلتے ہیں ۔ ضرور اثر لیتے ہیں ۔ یہ وہ سلیم الفطرت لوگ ہوتے ہیں جو پہلے ہی سے حق کو تلاش کر رہے ہوتے ہیں یا ناحق سے غیر مطمئن ہوتے ہیں۔

دعوت کا  فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری اپنی شخصیت ہمیشہ بہتری کی طرف گامزن رہتی ہے ۔ دوسرے بدلیں نہ بدلیں ہم ضرور بدل جاتے ہیں ۔ یہی سب سے بڑا فائدہ ہے۔

لوگ ذرا تحقیق کرنے کی عادت ڈالیں، ذہن میں اٹھنے والے سوالوں کو کچلنے کے بجائے، ان سوالوں کے جواب ڈھونڈیں تو وہ سیدھا دین حنیف اور قرآن مجید کی طرف آئیں گے۔ ان کی منزل رسول خدا کی ہستی ہو گی۔ خدا کی ہستی ، تنہا ویکتا ہستی ان کی زندگی کا مرکز و محور بن جائے۔

اس دل کا کیا کیجیے کہ دنیا کہ ہزار آزار اس کو لگے ہوئے ہیں۔ اسے خدا پر اعتبار ہی نہیں آتا۔ اسے جنت پر یقین ہی نہیں ہوتا۔ اسے موت کے بعد زندگی کا ماننا مشکل ہوجاتا ہے۔ دماغ مان بھی لے تو دل نہیں مانتا۔ دنیا کے پھندوں سے نکلتا ہی نہیں ۔ اس کے فریب سے آزاد نہیں ہوپاتا۔

جو خدا کو اپنا مسئلہ بنالے۔ جو خدا کی جنت کو اپنا مسئلہ بنالے۔ ایسا انسان کچھ اور نہ کرسکے تڑپ کر اپنے آپ کو خدا کے قدموں میں لا ڈالتا ہے۔ اس فریاد کے ساتھ کہ جنت کی محرومی برداشت نہیں ہو سکتی۔ اب آپ ہی کچھ کیجیے ۔

خدا مردوں کو زندہ کرسکتا ہے۔ وہ مردہ دل کو زندہ کیوں نہیں کرسکتا۔ وہ کرہی دیتا ہے ۔ اس سے مانگنے والا کبھی محروم نہیں ہوتا۔ جو شخص اپنے تعصبات اور خواہشات سے بلند ہوکر خدا کے سامنے پیش ہوجائے ، یہ طے ہے کہ چاہے وہ جنت کا اعلیٰ ترین درجہ بھی مانگ لے، اس کومل جائے گا۔

خدا نے اس دنیا میں اتنا حسن اس لیے تخلیق کیا ہے کہ انسان اس حسن کو دیکھے اور جنت کے لافانی حسن کا طلبگار بن جائے ۔ مگر کم ظرف انسان اس عارضی دنیا کے پیچھے اس طرح لگتا ہے کہ ابدی زندگی کے لافانی حسن کو ہمیشہ کے لیے گنوا دیتا ہے۔ انسان کو کیسا عظیم موقع ملا ہے۔ انسان نے کتنی بے دردی سے اس موقع کو ضایع کر دیا ہے ۔

اسلام انسانیت کی امید ہے۔ اسلام انسانیت کا انتظار ہے۔ کاش حاملین اسلام اپنے تعصبات سے اوپر اٹھ کر اس حقیقت کو سمجھ لیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Motivational Quotes | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *