Quotes From Travelogue (Turkey)

Download PDF

 

یہاں ہر نسل اور ہر قوم کے لوگ موجود تھے۔ سیاہ فام افریقیوں سے زردفام چینیوں تک۔ دنیا کے اقتدار پر براجمان اہل مغرب سے لے کر ان کی جگہ لینے کی کوشش کرتے اہل مشرق تک۔ قرآن مجید سے بے خبر غیر مسلموں سے لے کر قرآن مجید کو مانتے، چومتے اور اسے بھاری بوجھ سمجھ کر کونے میں رکھ دینے والے مسلمانوں تک سب یہاں موجود تھے ۔۔۔۔۔۔۔ ان بے خبروں میں سے ہر شخص جب روزِقیامت پروردگار عالم کے حضور پیش ہو گا تو اس کے ساتھ جو ہو سو ہو، وہ حاملین قرآن کے متعلق یہ گواہی ضرور دے گا کہ انھوں نے اپنے حصے کا کام نہیں کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مگر انسان کے بعد اس کی ساری دولت اگلے لمحے ہی دوسروں کی دولت بن جاتی ہے۔ عقل مند وہ ہے جو اپنی دولت سے اپنی آخرت بنائے نہ کہ وہ جو اپنی دولت سے دوسروں کی دنیا بنا دے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سفر میں انسان کی توجہ ماضی کی یاد یا مستقبل کی پلاننگ پرلگی رہتی ہے۔ جبکہ تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے مقامات بھی انسان کو زندگی کا احساس دلاتے ہیں۔ یہی احساس عام زندگی میں بھی مطلوب ہے کہ انسان ہر لمحہ ماضی کو سوچ کر اپنا احتساب اور استغفار کرتا رہے اور آخرت کی آنے والی دنیا کا سوچ کر اس کی تیاری کرتا رہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب نبوت کا دروازہ حتمی طور پر بند کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے صحابہ کو باقاعدہ اس بات کا ذمہ دار بنایا گیا کہ جس طرح رسول عربی علیہ السلام نے ان پر حق کی گواہی دی ہے وہ باقی لوگوں پر یہ گواہی دیں۔اسی لیے ان کو امت وسط بنایا گیا کہ ان کے ایک طرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا لایا ہوا پیغام ہے اور دوسری طرف پوری انسانیت ہے اور وہ وسط میں کھڑے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علمبردار بن کر اللہ تعالیٰ نے  یہ قانون بنا رکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو اہل عرب اور دین حق کے دنیا میں کھڑے ہونے والے مسلمان جب اپنی ذمہ داری پوری کریں گے وہ دنیا پر غالب آجائیں گے اور جب نہیں کریں گے تو دنیا میں ذلیل اور مغلوب ہوجائیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ایک دور تھا کہ اسلام پر عمل کرنا مشکل تھا۔ اس کی دعوت دینا ناممکن تھا۔ مگر لوگ دونوں کام کرتے تھے۔ آج یہ دونوں کام کتنے آسان ہیں۔ اس حساب سے مسلمان انسانی تاریخ کے خوش نصیب ترین لوگ ہیں۔ پھر بھی مسلمان یہ کام نہ کریں تو ان سے زیادہ بدنصیب انسانی تاریخ میں کبھی کوئی نہ ہوا ہو گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہم مسلمان آخرت کو اپنا مسئلہ نہیں سمجھتے۔ ہمیں یہ غلط فہمی ہے کہ آخرت کا احتساب غیر مسلموں کے لیے ہو گا۔ ہم تو بخشے بخشائے ہیں۔ اس لیے ہم اس علم سے فائدہ اٹھانے کے بجائے دیگر چیزیوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ دوسرا کام ہم یہ کرتے ہیں کہ آخرت کے اس علم کو انسانیت تک پہنچانے کی جو ذمہ داری ہم پر عائد ہے وہ ہم پورا کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے۔ بلکہ ہمارے نزدیک یہ کوئی کرنے کا کام ہی نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسلم لیڈرشپ عمومی طور پر مغرب کی شدید نفرت میں مبتلا ہے ۔ نفرت میں مبتلا کسی شخص کوکوئی بات سمجھانا بہت مشکل ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اہل مغرب نے دنیا کی امامت کے منصب سے معزول نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ جب ہم نے دعوت اور شہادت حق کا کام چھوڑ دیا تو یہ مغلوبیت بطور سزا ہم پر مسلط کر دی گئی اور دوسو برس کی سرتوڑ کوشش کے باوجود ختم نہیں ہورہی۔مگر جس روز ہم اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا شروع کر دیں گے تو کچھ ہی عرصہ میں ہمارا منصب بحال ہوجائے گا ورنہ یونہی ذلت و رسوائی مقدر رہے گی۔ یہ چیز ہم جتنی جلد سمجھ لیں اتنا ہی بہتر ہو گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انسان کو ہمیشہ ملی ہوئی نعمت پر نظر رکھنا چاہیے۔ اس کو چھوڑ کر نہ ملی ہوئی چیز پر للچائی ہوئی نظر رکھنا منفی اندازِ فکر ہے۔ ایسا انسان کبھی مطمئن نہیں رہتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ماحول اور ان مناظر نے مجھے مسحورکر دیا تھا۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس حسین شام کا احساس آنے والے کئی برسوں تک ہم سیاحوں کوسرشارکیے رکھے گا۔ یہ شام جب بھی مجھے یاد آئے گی تو مجھے استنبول ہی نہیں خدا کی جنت بھی یاد آئے گی۔ وہ جنت جس کی ہر شام اس شام سے زیادہ حسین ہو گی۔ جس کا ہر جلوہ یہاں کے جلووں سے جمیل تر ہو گا۔ جس کا وعدہ خدائے رحمن نے ہر اس شخص سے کر رکھا ہے جو بن دیکھے اس سے ڈرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خدا خوفی کے اس قحط میں جو شخص ظاہر پرستی، فرقہ پرستی، قوم پرستی اور غفلت سے بلند ہو گیا وہ خدا ئے رحمن کی جنت کا سب سے بڑا حقدار ہے۔ وہی ہو گا جو خدا کی محبت سے سرشار اور اس کے بندوں پر مہربان ہو گا۔ وہی ہو گا جو خدا کے بندوں کو خدا کی جنت کی طرف بلائے گا۔ جنت کی ایسی ہر حسین شام اسی سچے خدا پرست کے نام ہو گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے پیچھے اگر کوئی لگ جائے تو وہ اس کی فریاد ضرور سنتے ہیں۔ اس کے لیے کوئی نیک ہونا بھی ضروری نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے جیسے گناہ گاروں کو بھی ان کے تمام تر گنا ہوں کے باوجود اپنی نظر عنایت سے محروم نہیں کرتے۔ اس لیے اپنے ہر سفر میں بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر اس گنہ گار نے ہمیشہ اللہ کی غیر معمولی مدد اور عنایت کا تجربہ کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 جو لوگ غیر اللہ کے پیچھے لگتے ہیں وہ سراب کے پیچھے بھاگتے ہیں اور سرابوں کے پیچھے بھاگنے والوں کے حصے میں مایوسی کے سوا کچھ اور نہیں آتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس دنیا کا اصول ہے۔ یہاں بعض دن اچھے نہیں ہوتے۔ بعض ماہ و سال بھی اچھے نہیں ہوتے۔ مگر  اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو جس اصول پر بنایا ہے اس میں آنے والوں دنوں میں اکثر زیادہ بھلائی ہوتی ہے۔ چنانچہ ایسے مواقع پر انسان کو صبر کرتے ہوئے ہمیشہ مستقبل پر نظر رکھنا چاہیے۔ کسی معاملے میں توقع پوری نہ ہو تو دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ تعالیٰ یہ دیکھتے ہیں کہ بندہ زندگی کی بہار اور نعمتوں کی چھاؤں میں شکر گزار ہوتا یا نہیں۔ اسی طرح بندہ زندگی کی خزاں اور محرومی کی دھوپ میں ثابت قدم رہتا ہے یا نہیں۔ جنت کی ابدی بہار اور فردوس کی ابدی چھاؤں ایسے ہی لوگوں کا بدلہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے نزدیک کمیونیکیشن اور انفارمیشن کے میدان میں یہ انقلابی تبدیلی ایک سادہ تبدیلی نہیں ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس منصوبے کا آغاز ہے جس کے تحت وہ پوری دنیا تک اپنا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔ یہ کام اصل میں تو امت مسلمہ کی ذمہ داری تھی جو اس نے پوری نہیں کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ لوگ بہت خوش نصیب ہیں جو غفلت و تعصب سے بلند ہوکر اس (اللہ کی) دعوت کو دریافت کریں، اسے اپنی زندگی بنائیں اور پھر اس کو زندگی کا مشن بنا کر دنیا بھر تک پہنچائیں۔ یہ پروردگار عالم کی اعلیٰ ترین عنایات بغیر کسی مشکل کے حاصل کرنے کا وہ سنہری موقع ہے جو نہ کبھی پہلے کسی کو دیا گیا اور نہ کبھی آئندہ کسی کو دیا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

توپ کاپی محل میں پہاڑی کے کونے میں بنی مسجد کے سائے تلے بیٹھ کر میں یہ دیر تک سوچتا رہا کہ یہ دنیا اس کی بادشاہت، اس کی رونقیں، اس کی لذت، اس کی شان و شوکت، اس کا مال، اس کا جمال، اس کی قوت، اس کی طاقت کتنا بڑا دھوکہ ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہاں آ کر ایک سب سے بڑا احساس یہ زندہ ہوا کہ ایک ایمپائر وہ تھی جس کو بادشاہوں نے قائم کیا۔ بادشاہوں کی بنائی ہوئی ایمپائر آخر کار ختم ہوجاتی ہے۔ دوسری ایمپائر انبیا علیھم السلام نے قائم کی۔ یہ دعوہ ایمپائر تھی۔ یہ وہ ایمپائر جس نے پوری پوری قومیں پیدا کر دیں ۔ اس کے نتیجے میں سلطنتیں قائم ہوئیں۔ اور یہ وہ ایمپائر جو کل قیامت کے دن جنت میں لوگوں کی بادشاہت قائم کرنے کا باعث بنے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسلمانوں کو دنیا کی سلطنت کے بجائے دعوہ ایمپائر قائم کرنے کی جدوجہد کرنا چاہیے۔ کیونکہ دنیا اور آخرت کی ہر خیر اسی دعوہ ایمپائر سے جنم لیتی ہے۔مسلمان جس سیاسی اقتدار کے پیچھے لگے ہیں، اس کا راستہ بھی یہیں سے کھلتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں یہاں آ کر سن ہو گیا تھا۔ ایک ٹرانس ایک اثر تھا جس سے میں باہر نہیں آ رہا تھا۔ کتنی دیر میں مسجد میں بیٹھا یہی سوچتا رہا۔ کتنی دیر میں مسجد کے سائے میں بچھی نشست پر اسی فکر میں رہا۔ کتنی دیر میں ٹیرس کے آخر میں کھڑے ہوکر سمندر اور سامنے موجود استنبول کے حسین منظر کو اپنی آنکھوں میں سمیٹ کر ماضی، حال، مستبقل کی کہانی سمجھنے کی کوشش کرتا رہا۔ یہ جگہ سترہ صدیوں سے دنیا کے طاقت ور ترین حکمرانوں کا مرکز تھی۔ مگر اب وہ حکمران کہاں ہیں؟ اب ان کی طاقت و قوت کہاں ہیں؟ اب ان کا جاہ و جمال کہاں ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ جگہ جہاں ہر روز دنیا بھر کے ہزاروں لاکھوں سیاح آتے ہیں، ہمیں پیغام دیتی ہے کہ اب ختم نبوت کے بعد دنیا کو یہ پیغام پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ مدعو چل کر اب داعی کے پاس آ رہا ہے۔ مذہب کی بنیاد پر نفرت کا زمانہ ختم ہو چکا ہے۔ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا یہ بہترین موقع ہمیں میسر ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted in Motivational Quotes | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *