2014سلسلہ روز و شب- دسمبر (Abu Yahya ابویحییٰ)

Download PDF

 

 

سلسلہ روز و شب

ابویحییٰ

شیعہ سنی جھگڑے کا حل

محترم قارئین! پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کئی جہتیں ہیں ۔ ان میں سے ایک اہم جہت شیعہ سنی جھگڑے کے پس منظر میں ہونے والی قتل و غارت گری ہے ۔ چنانچہ آئے دن اس حوالے سے کوئی نہ کوئی واردات ہوتی رہتی ہے اور عوام الناس کے ساتھ اہل علم بھی اس کا نشانہ بنتے رہتے ہیں ۔ خاص کر محرم کے مہینے میں تو اس حوالے سے خوف و دہشت کی ایک فضا پیدا ہوجاتی ہے کہ نجانے اب کیا ہو گا۔اس حوالے سے کیے جانے والے حفاظتی اقدامات کے نتیجے میں عملی طور پر بڑے شہروں کی زندگی معطل ہوجاتی ہے ۔ برسہا برس گزرگئے ہیں کہ اس صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی بلکہ اب تو مڈل ایسٹ میں رونما ہونے والے واقعات کے حوالے سے یہ ایک بین  الاقوامی نوعیت کا مسئلہ بنتا چلا جا رہا ہے ۔ اب دنیا مشرق وسطیٰ کو فلسطین کے مسئلے کے حوالے سے کم اور اس حوالے سے زیادہ جاننے لگی ہے ۔

اس صورتحال میں ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ میں نے اس حوالے سے کئی برس قبل ایک مضمون میں اس مسئلے کا ایک حل تجویز کیا تھا۔ میرے نزدیک اس مسئلے کا یہ واحد ممکنہ حل ہے ۔ جب یہ مضمون شائع ہوا تو معروف شیعہ عالم علامہ ڈاکٹر محسن نقوی صاحب کو کچھ غلط فہمی لگی اور اس پر انھوں نے مجھے ایک ای میل لکھا۔ میں نے ایک خط میں اپنی بات کو مزید واضح کر کے بیان کر دیا۔ مجھے امید تھی کہ یہ معقول بات مان لی جائے گی۔ یہ بات پرانی ہوگئی مگر پچھلے دنوں ڈاکٹر زبیر احمد صاحب جو کہ ٹی وی کے معروف اینکر ہیں ، انھوں نے ایک ملاقات میں مجھے یہ بتایا کہ علامہ صاحب نے ملک کے ممتاز علماء کی ایک کانفرنس میں شیعہ سنی مسئلے کے حل کے لیے وہی تجویز پیش کی جو میں نے پیش کی تھی۔ یہ میرے خط لکھنے کے بعد ہی کا زمانہ تھا۔ ڈاکٹر زبیر صاحب نے مزید بتایا کہ اس پر ممتاز اہل حدیث عالم دین ابتسام الٰہی ظہیر نے یہ کہہ کر اس تجویز کی تائید کی کہ سب لوگ جانتے ہیں کہ میرے والد کون تھے ( یعنی علامہ احسان الٰہی ظہیر جن کی زندگی کا بڑا حصہ اہل تشیعہ حضرات کے نقطہ نظر کے خلاف جدوجہد میں گزرا اور 1988 میں ایک جلسے میں خطاب کرتے ہوئے ایک بم دھما کے میں ان کی رحلت ہوئی ) مگر اس کے باوجود میں اس تجویز کی تائید کرتا ہوں ۔ بدقسمتی سے بعض دیگر اہل علم کی تائید نہ ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔ تاہم اگر ایک بات معقول ہے تو اسے سامنے آنا چاہیے تاکہ اس مسئلے کے حل کی سمت کوئی قدم تو بڑھے ۔ ورنہ یہ آگے نجانے کتنے گھر اور اجاڑے گا اور کتنے معصوم لوگ اور اہل علم اس کا نشانہ بنیں گے ۔

میں اس تجویز کا خلاصہ پیش کر دیتا ہوں اور پھر اس کے بعد تفصیل کے لیے اپنا مضمون اور پھر علامہ محسن کو لکھا گیا اپنا ای میل بھی نقل کر دوں گا۔ میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ اس حوالے سے بنائے فساد دو چیزیں بن رہی ہیں ۔ ایک اہل تشیعہ حضرات کی طرف سے اور ایک اہل سنت کی طرف سے ۔ اہل تشیعہ کی طرف سے صحابہ کرام پر کیا جانے والا سب و شتم جسے اصطلاحاً تبرا کہا جاتا ہے ایک خوفناک ردعمل کو جنم دیتا ہے ۔ چنانچہ اہل تشیعہ علما کو یہ طے کرنا ہو گا کہ وہ اپنے نقطہ نظر کی اساس تبرائی سوچ کے بجائے تولائی سوچ پر رکھیں گے ۔ یعنی صحابہ کرام سے نفرت کے بجائے اہل بیت کی محبت کی بنیاد پر اپنے لوگوں کی تربیت کریں ۔

جبکہ دوسری طرف کے علما کو تکفیری سوچ کی حوصلہ شکنی کرنی ہو گی۔ اپنے لوگوں کو یہ بتانا ہو گا کہ کسی کے عقیدے کی بنیاد پر اسے کافر قرار دے کر قتل کرنے کی اجازت کسی صورت میں نہیں ہے ۔اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا آزمائش کے اصول پر پیدا کی ہے اور لوگوں کو مکمل آزادی دی ہے کہ وہ جو چاہیں عقیدہ اختیار کریں ۔ یہ اللہ کا ہی حق ہے کہ وہ چاہے تو کسی کو اس کے غلط عقیدے کی بنیاد پر سزا دے ۔ یہ دروازہ ختم نبوت کے بعد بند ہو چکا ہے ۔ ا ب یہ حق کسی صورت کسی انسان کو نہیں دیا جا سکتا کہ وہ کسی دوسرے فرد کے ایمان اور کفر کا فیصلہ کرے اور اس بنیاد پر قتل کر دے ۔ یہ بدترین ظلم اور سرکشی ہے ۔

اسلام میں اگر کسی جرم پر سزائے موت دی گئی ہے تو اس کو نافذ کرنے کا حق بھی صرف اور صرف ریاست کے پاس ہے ۔عدالت میں باقاعدہ مقدمہ چلتا ہے ۔ ملزم پر جرم ثابت کیا جاتا ہے ۔ ملزم کو صفائی کا مکمل موقع دیا جاتا ہے ۔ اسلام میں اس بات کا کوئی سوال ہی نہیں کہ خدائی فوجداروں کا کوئی گروہ کسی کے عقیدے کی بنیاد پر اس کے قتل کا فیصلہ کر لے اور اس کی جان مال آبرو کو کسی قسم کا کوئی نقصان پہنچائے ۔

جب دونوں طرف سے یہ بات بار بار اپنے لوگوں کے سامنے رکھی جائے گی تو اختلاف ختم ہو نہ ہو فساد ضرور ختم ہوجائے گا۔ یہی اصل مطلوب ہے ۔ رہا نقطہ نظر کا اختلاف تو علمی سطح پر یہ گفتگو جاری رہنی چاہیے ۔ اصل فیصلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ خود کر دیں گے ۔

اس تمہید کے بات میں وہ مضمون آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں جو میں نے 2007میں لکھا تھا۔ یہ مضمون جو ’’نئی امریکی سازش یا پرانا مسلم تنازعہ‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا، درج ذیل ہے ۔

نئی امریکی سازش یا پرانا مسلم تنازعہ

آج کل ہمارے ہاں ایک نئی امریکی سازش کا بڑا تذکرہ ہے ۔ یہ سازش مشہور امریکی تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کے اس نظریے پر مبنی قرار دی جا رہی ہے جس میں مشرق وسطیٰ کو سنی اور شیعہ بلاکوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا۔اس نظریے کے مطابق ایرانی قیادت میں عراق ، بحرین، لبنان اور شام پر مشتمل ایک شیعہ بلاک ہونا چاہیے ۔ جبکہ اس کے بالمقابل سنی بلاک سعودی عرب کی قیادت میں وجود میں آئے گا۔

نظریہ سازش کے علمبرداروں کے نزدیک اس منصوبے پر عملدرآمد سے امریکہ اور اسرائیل کو متعدد فوائد حاصل ہوں گے ۔ ایک یہ کہ مسلم دنیا جو اسرائیل کی مخالفت میں یکسو تھی ، آپس کے تنازعات میں الجھ جائے گی۔ خاص کر عرب دنیا کی توجہ اپنے بدترین حریف اسرائیل کے بجائے ، ایٹم بم سے مسلح شیعہ خطرے کی طرف ہوجائے گی۔ پھر اس خطرے کی بنا پر ایران کو ایٹم بم کے حصول سے روکنے کی جو کوششیں امریکہ اور مغربی ممالک کر رہے ہیں ، انہیں عرب اقوام کی بھرپور حمایت حاصل ہوجائے گی۔ تیسرے اسلامی انتہا پسند وں کا رخ جو اس وقت امریکہ کی طرف ہے ، وہ اس نئے تنازع کی طرف ہوجائے گا۔ شیعہ انتہا پسند اور سنی انتہا پسند دونوں امریکہ اور اسرائیل کو چھوڑ کر آپس میں سر ٹکرانا شروع کر دیں گے ۔عراق میں جاری شیعہ سنی حملے پورے عالم اسلام کی جنگ بن جائیں گے ۔ خاص کر پاکستان میں جہاں شیعہ بڑی تعداد میں موجود ہیں ، شیعہ سنی فسادات کی لہر اس طاقتور ملک کو کمزور کرنے میں بہت معاون ثابت ہو گی۔ پھر یہ بات بھی لازمی ہے کہ ایران ان فسادات میں پاکستانی معاملات میں مداخلت کرے گا، اس لیے پاکستان سے اس کے تعلقات خراب ہوجائیں گے ۔ یوں ایران بیک وقت دو خطرات میں گھر جائے گا ، جس کے ایک طرف عرب دنیا ہو گی اور دوسری طرف ایٹمی پاکستان ۔ چنانچہ اس کی توجہ اسرائیل سے ہٹ جائے گی۔ان تمام حالات میں امریکہ نہ صرف باعزت طور پر عراق سے نکل چکا ہو گا، بلکہ اسے مسلم انتہا پسندوں کے خطرے سے نجات مل جائے گی، جو آپس ہی میں لڑ مر کر ختم ہوجائیں گے ۔اسی طرح اسرائیل کوبھی عرب اور ایران خطرے سے نجات مل جائے گی اور اس کے مقابلے پر تنہا فلسطینی رہ جائیں گے ۔ جن پر اپنی مرضی کا کوئی بھی حل مسلط کیا جا سکتا ہے ۔

رینڈ کارپوریشن کی اس تھیوری اور اس مبینہ سازش کے بارے میں کچھ دیر کے لیے فرض کر لیا جائے کہ یہ حقیقت پر مبنی ہے ، تو اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ عالم اسلام کے لیے آنے والے دنوں میں کتنے سنگین مسائل پیدا ہونے والے ہیں ۔ تاہم غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جس چیز کو ہم لوگ امریکی سازش قرار دے رہے ہیں کیا وہ واقعی کوئی امریکی سازش ہے یا ہماری اپنی ہی کوئی کمزوری ہے ، جس نے صدیوں مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے ۔

Posted in سلسلہ روز و شب | Tags , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

2 Responses to 2014سلسلہ روز و شب- دسمبر (Abu Yahya ابویحییٰ)

  1. بنت فااطمہ says:

    جزاک اللہ بہت مدلل ،اور جامع تحریر ہے۔اورمحترم سر ابو یحیی نے بہت بہترین حل پیش کیا ہے۔بالکل اسی طور سے ہی اس فساد سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔

  2. Muhammad Usman says:

    بہت اچھی رائے ہے اور مسئلہ کو فورا حل کرنے کے لئے اس سے بہتر کوئی علاج نہیں علمی بحثیں تو ہوتی رہیں گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *