ترکی کا سفرنامہ (1) ۔ مارچ 2013 (Mubashir Nazir مبشر نذیر﴿

ترکی کا سفرنامہ (1)

مبشر نذیر

[جاری ہے]

بل کھاتے ہوئے کچے راستے پر نئے ماڈل کی چھوٹی سی فی ایٹ کار دوڑتی جارہی تھی۔ گھنے سبزے میں ڈھکے ہوئے پہاڑ، جن کا سبزہ ہمارے شمالی علاقہ جات کے پہاڑوں کے سبزے سے کچھ زیادہ ہی گھنا تھا، دونوں جانب سے راستے کو گھیرے ہوئے تھے۔ ایک طرف یہ سڑک پہاڑ کے دامن کو مس کر رہی تھی اور دوسری جانب ایک سینکڑوں فٹ گہری کھائی اس سڑک کو پہاڑ سے جدا کر رہی تھی۔

گاڑی کا اسٹیرنگ اس وقت میرے ناتواں ہاتھوں میں تھا۔ اگر یہ گول پہیہ میرے ہاتھ سے ذرا سا بھی پھسل جاتا تو کار رول ہوتی ہوئی کھائی کے اندر گرتی چلی جاتی۔ دور نیچے گہرائی میں مخروطی سرخ چھتوں والے مکانات نظر آرہے تھے۔ عجیب بات یہ تھی کہ کچی سڑک پر کاریں جیپوں کی طرح دوڑ رہی تھیں۔ اچانک ایک دوراہا سامنے آگیا۔ کوئی بورڈ موجود نہیں تھا۔ دونوں طرف ایک جیسی چوڑی سڑک جا رہی تھی۔ ”کس طرف چلا جائے؟“ میرے ذہن میں سوال گونجا۔

اچانک ایک جانب سے جدید طرز کا ٹریکٹر نمودار ہوا جس کی اکلوتی سیٹ پر دھوتی کرتہ اور پگڑی میں ملبوس گھنی مونچھوں والے کسان کی بجائے پینٹ کوٹ پہنے ایک کلین شیو سرخ و سفید بینک آفیسر ٹائپ شخص بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اپنی طرف کا شیشہ نیچے اتار کر رکنے کا اشارہ کیا۔ کمال خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان صاحب نے بریک پیڈل پر پاؤں رکھ دیا۔

”سیون لیکس، دس سائیڈ؟“ میں نے ایک جانب اشارہ کیا۔

جواب میں نامعلوم زبان میں ایک تقریر کردی گئی۔ ہاتھوں کے اشارے سے بہرحال سمت کا تعین ہو گیا۔ تھینک یو ویری مچ اور اس کے ساتھ میں نے شکریہ کے تاثرات اپنی شکل پر پیدا کرنے کی کوشش کی اور ہاتھ سے بھی اشارہ کیا کیونکہ یہ معلوم نہیں تھا کہ زبان کا شکریہ اپنی منزل مراد تک پہنچا یا نہیں۔

تھوڑی دور جا کر کھائی تنگ ہونے لگی۔ پہاڑ ایک دوسرے کے قریب آنے لگے۔ سبزہ گہرا اور گھنا ہونے لگا۔ بل کھاتی ہوئی سڑک پہاڑ کی چوٹی سے نیچے اترنے لگی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ہم کسی گہرے کنویں کی تہہ میں اترتے چلے جا رہے ہیں۔ سڑک کے دونوں جانب موجود درخت اوپر جا کر ایک دوسرے سے مل رہے تھے اور ان کے درمیان راستہ کسی سرنگ کی شکل اختیار کر رہا تھا۔

تھوڑی دور جا کر ایک چیک پوسٹ سامنے آئی جس میں کوئی شخص موجود نہیں تھا۔ ایک لمبے سے بانس پر مشتمل بیریئر اوپر اٹھا ہوا تھا۔ ایک جانب ایک بورڈ پر “ییدی گولر نیشنل پارک” لکھا ہوا تھا۔ تھوڑی دور جا کر پانی کے گرنے کی آواز سنائی دی۔ یہ آواز ایک نہایت ہی دلکش فطری نغمہ تشکیل دے رہی تھی جس کے لئے انسان کے بنائے ہوئے کسی ساز کی ضرورت نہیں تھی۔ اس نغمے کے سرتال اعصاب کو سکون بخش رہے تھے۔ سبز رنگ کی ایک جھیل ہمارے سامنے تھی جس کا پانی ایک آبشار کی صورت میں بہتا ہوا دوسری جھیل میں گر رہا تھا۔

ییدی گولر کا مطلب ہے ”سات جھیلیں“۔ یہ ترکی کا مشہور نیشنل پارک تھا جو گھنے سبزے سے بھرے ہوئے پہاڑوں اور ان کے درمیان موجود سات جھیلوں پر مشتمل تھا۔

ترکی ایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع ایک ایسا ملک ہے جہاں دو براعظموں کا محض جغرافیہ ہی نہیں ملتا بلکہ ان دونوں عظیم خطوں کی تاریخ، ثقافت، افکار اور نظریات ہر دور میں ایک دوسرے سے ملتے چلے آئے ہیں۔ اب سے سو برس پہلے تک ترکی عالم اسلام کا مرکز تھا۔ یہی ترک تھے جو ایک ہزار برس تک مسلمانوں کا عسکری بازو بنے رہے۔ ترکی کی اسی تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر ہم نے ترکی کے سفر کا ارادہ اس وقت کیا جب ہم اردن اور مصر کے سفر سے واپس آ رہے تھے۔ اس سفر کی تفصیل آپ میرے سفرنامے ”قرآن و بائبل کے دیس میں“ میں پڑھ چکے ہیں۔

ویزا پراسیسنگ

ہمارا ارادہ یہ تھا کہ ترکی کا سفر سعودی عرب سے بذریعہ کار کیا جائے۔ درمیان میں شام اور اردن کے ممالک پڑتے ہیں۔ ان کا ویزا لینا ضروری تھا مگر اس سب سے پہلے ترکی کا ویزا حاصل کرنا لازم تھا۔ ترکی ایک ٹورسٹ ڈیسٹی نیشن ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک کے لئے اس کا قانون یہ ہے کہ آپ اطمینان سے ترکی تشریف لائیے اور ایئر پورٹ یا بارڈر سے ویزا حاصل کر لیجیے۔ مگر چند ممالک جن میں ہمارا ملک پاکستان بھی شامل ہے، کے لئے یہ قانون ہے کہ اپنے ملک میں ترکی کے سفارت خانے سے ویزا حاصل کر کے آئیے۔

میں جدہ کے ڈسٹرکٹ اندلس میں واقع ترکی کے سفارت خانے میں پہنچا اور ویزا کے حصول کے طریق کار سے متعلق معلومات حاصل کیں۔ سکیورٹی کم انفارمیشن ڈیسک پر موجود صاحب کہنے لگے: ”یہ فارم لے جائیے۔ اس کے ساتھ اپنے پاسپورٹ، اقامہ اور بینک اسٹیٹمنٹ کی کاپی، دو تصاویر اور اپنی کمپنی سے ایک لیٹر لکھوا لائیے جسے چیمبر آف کامرس سے تصدیق شدہ ہونا چاہیے۔ میں آپ کو اندر بھیج دوں گا۔ ویسے پاکستانیوں کو ویزا مشکل سے ملتا ہے۔“ یہ کہہ کر انہوں نے ہمدردانہ مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھا۔

چند دن بعد یہ سب دستاویزات لے کر میں پھر سفارت خانے میں پہنچا۔ ان صاحب نے مجھ سے موبائل فون طلب کیا اور اس کے بدلے ایک کارڈ ایشو کر کے مجھے اندر بھیج دیا۔ ویزا آفس ایک کمرے میں قائم تھا جہاں دو نہایت ہی نستعلیق قسم کے افراد میز کرسی رکھے براجمان تھے۔ ایک سفید بالوں والے بزرگ تھے اور دوسرے نوجوان۔ ایک ایک سعودی نوجوان ویزے کے لئے ان دونوں کے سامنے بیٹھے تھے۔ میں انتظار کرنے کے لئے وہیں موجود صوفے پر بیٹھ گیا۔

بزرگ پہلے فارغ ہوئے اور مجھے اپنے ڈیسک پر آنے کا اشارہ کیا۔ میں نے انگریزی میں گفتگو کا آغاز کیا جس کا جواب عربی میں وصول ہوا۔ میں نے اپنے اور اپنی فیملی کے کاغذات پیش کیے۔ انہوں نے بغور مطالعہ کیا۔ ان کی شکل پر قائل ہو جانے کے تاثرات پیدا ہوئے۔ اس کے بعد جب انہوں نے سبز پاسپورٹ دیکھے تو قائل ہو جانے کے تاثرات غائب ہو گئے۔ کہنے لگے، ”آپ تشریف رکھیے، مجھے قونصل جنرل سے پوچھنا پڑے گا۔“ یہ کہہ کر وہ باہر چلے گئے۔

تھوڑی دیر بعد آ کر کہنے لگے، ”قونصل صاحب اس وقت تو موجود نہیں ہیں۔ آپ اپنے کاغذات میرے پاس چھوڑ دیجیے۔ اپنا موبائل نمبر دے دیجیے۔ میں ہفتے یا اتوار تک آپ کو خود کال کر دوں گا۔“ میں نے عرض کیا، ”اس کی رسید وغیرہ۔“ کہنے لگے، ”میں ان سے پوچھے بغیر رسید جاری نہیں کر سکتا۔“

میرا خیال تھا کہ انہوں نے مجھے محض ٹالا ہی ہے۔ کس کے پاس اتنا وقت ہو گا کہ مجھے کال کرتا پھرے۔ بہرحال میں نے رسک لینے کا فیصلہ کر لیا۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب ہفتے والے دن میرے موبائل پر ترکی سفارت خانے سے کال وصول ہوئی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ”آپ کو ویزا دینے کا فیصلہ کر دیا گیا ہے۔ آئیے اور اپنے پاسپورٹ لے جائیے۔“ میں جیسے ہی وہاں پہنچا تو ان بزرگ کے پاس رش لگا ہوا تھا۔ میری شکل دور سے دیکھتے ہی چلائے: ”تعال تعال“ یعنی آئیے، آئیے۔ میں آگے بڑھا۔ آؤ دیکھا نہ تاؤ، چھوٹتے ہی بغیر کسی مروت کے فرمانے لگے، ”پانچ سو دس ریال نکالیے۔“ میں نے رقم ان کے حوالے کی۔ انہوں نے مجھے رسید دے دی اور کہنے لگے، ”کل تین بجے پاسپورٹ لے لیجیے گا۔“

اگلے دن تین بجے وہاں پہنچا تو کاؤنٹر پر ایک بنگالی صاحب موجود تھے۔ رسید دیکھ کر کہنے لگے، ”یہ تو کل کی ہے۔ کم از کم وقت 48 گھنٹے کا ہے۔“ میں نے کہا، ”مجھے خود آپ کے آفیسر نے آج کا وقت دیا ہے۔ آپ چیک کر لیں۔“ چیک کیا تو واقعی پاسپورٹ موجود تھے جن پر ترکی کا ویزا لگا ہوا تھا جس پر وہ صاحب کافی شرمندہ ہوئے۔ انسان اگر بات کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ سمجھ لے تو پھر شرمندگی سے بچ جاتا ہے۔ پاسپورٹ کے ساتھ انہوں نے مجھے ترکی کی سیاحت سے متعلق کچھ بروشر بھی دے دیے جن کی مدد سے مجھے اپنے سفر کی منصوبہ بندی میں بہت مدد ملی۔

اگلے دن شام کے سفارت خانے میں گیا۔ ترکی کے مقابلے میں شام کا سفارت خانہ مچھلی بازار لگ رہا تھا۔ ٹوٹے پھوٹے کاؤنٹر اور تنگ و تاریک ماحول۔ لائن تو طویل نہیں تھی البتہ بیوروکریٹک انداز میں کام کی وجہ سے ڈیڑھ گھنٹہ لگ گیا۔ یہ بیوروکریسی کا خاص طریقہ کار ہوا کرتا ہے جس سے ہم اپنے ملک میں عموماً گزرتے رہتے ہیں۔ چند منٹ کے کام کو اتنا پیچیدہ اور مشکل بنا دیا جاتا ہے کہ سیدھے طریقے سے کام کروانے میں طویل وقت، انتظار اور محنت صرف ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر آپ کا رابطہ کسی ایجنٹ وغیرہ سے ہے تو وہی کام فوراً ہو جاتا ہے۔ کام کو جلد کرنے کی قیمت آپ کو بہرحال ادا کرنا پڑتی ہے۔

جب کاؤنٹر پر پہنچا تو سبز پاسپورٹ دیکھتے ہی وہی رد عمل سامنے آیا جو ترکی والوں کا تھا۔ ”پاسپورٹ چھوڑ جائیے۔ ہمیں قونصل جنرل سے پوچھنا پڑے گا۔“ اگلے دن گیا تو تھوڑی سی دیر میں ویزا لگا کر انہوں نے پاسپورٹ میرے حوالے کر دیے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ انہوں نے ملٹی پل انٹری ٹرانزٹ ویزا جاری کیا تھا۔

اب اردن کے سفارت خانے کی باری تھی۔ یہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بہت سے ترک اور شامی حضرات موجود تھے جو بذریعہ سڑک اپنے ملکوں میں چھٹیاں گزارنے کے لئے جانا چاہتے تھے۔ ایک ترک جو انطاکیہ سے تعلق رکھتے تھے، مجھے کہنے لگے، ”آپ کو عربی لکھنا آتی ہے۔ برائے مہربانی میرا فارم پر کر دیجیے۔“ میں نے ان کا اور ان کی فیملی کا فارم پر کیا۔ وہ صاحب مدینہ سے آئے تھے اور وہاں بطور مکینک کام کرتے تھے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ان کی شادی ایک پاکستانی خاتون سے ہوئی تھی۔

جب میری باری آئی تو ایک نئی بات سامنے آئی اور وہ یہ تھی کہ اہل پاکستان کے لئے انہوں نے یہ قانون بنا رکھا تھا کہ ان کے ویزا کی درخواست پہلے اردن جائے گی۔ وہاں سے وزارت خارجہ نے اگر اس کی منظوری دے دی تو پھر ویزا ایشو ہو گا ورنہ نہیں۔ میں نے انہیں بہت کہا کہ میں پہلے اردن جا چکا ہوں۔ کہنے لگے، ”ہم کیا کر سکتے ہیں جب قانون یہی ہے۔“ اگر یہ بات میرے علم میں پہلے ہوتی تو میں پہلے ہی درخواست دے دیتا۔ خیر اب درخواست جمع کر دی۔ کہنے لگے، ”دس دن بعد معلوم کیجیے۔“ دس دن کے بعد گیا تو انہوں نے مزید ایک ہفتے کا کہہ دیا۔ یہ سلسلہ جب تین ہفتے سے زیادہ دراز ہوا تو مجھے یقین ہو گیا کہ اہل اردن ہم پاکستانیوں کو ویزا ایشو نہیں کرنا چاہتے۔

ہمارے ”نظریہ سازش“ کے علمبرداروں کی طرح میرے دل میں بھی خیال آیا کہ اس کے پیچھے ضرور کوئی گہری سازش ہو گی۔ غالباً امریکی اور یہودی ایجنٹوں کو ہمارے اس سفر کی بھنک پڑ گئی ہو گی۔ انہوں نے ہمیں اس سفر سے روکنے کے لئے اردن کے سفارت خانے میں موجود اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہمارا ویزا رکوا دیا ہے۔ یہ اسی قسم کا خیال تھا جیسے ایک صاحب کی اپنی بیگم سے شدید لڑائی ہو گئی اور برتن چلنے کی نوبت آئی۔ مار کھانے کے بعد اپنی ہڈیوں کو سینکتے ہوئے گھر سے باہر آئے تو کہنے لگے، ”یہ ہمارے گھر میں جو کچھ ہو رہا ہے، امریکہ کروا رہا ہے۔“

ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند۔۔۔۔

گستاخء فرشتہ ہماری جناب میں

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, ترکی کا سفرنامہ, مبشر نذیر کے مضاپین | Tags , | Bookmark the Permalink.

6 Responses to ترکی کا سفرنامہ (1) ۔ مارچ 2013 (Mubashir Nazir مبشر نذیر﴿

  1. Amy says:

    I love travelling, but its such a complicated process these days :/

  2. Rabia says:

    zabardast!!

  3. javid iqbal says:

    turkey is very nice

  4. Fan says:

    Assalam o alaikum,
    Actually we are responsible for this treatment. We should think about “why other nations treating us by different way”.

  5. Riaz Bachani says:

    Very True! I remember my frequent overseas trips, Its really embarrassing to travel on Pakistani Passport.

  6. Ibrahim hussnain says:

    mjhy sab jan kar bht dukh hua j hm PAKISTANI logon k sath aesa salooq kia jata hy.chalo khair Allah madad kare ga jmari bhi wohi hmara gham gusar hay 🙂

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *