ترکی کا سفرنامہ (2) ۔ اپریل 2013 (Mubashir Nazir مبشر نذیر﴿

Download PDF

 ترکی کا سفرنامہ (2)

مبشر نذیر

[جاری ہے]

اہل اردن پاکستان سے بہت محبت کرتے ہیں۔ ان کی جنگوں میں ہم نے ان کی مدد کی۔ اب سے کچھ عرصہ پہلے تک اردن اور شام میں پاکستانیوں کی بہت عزت کی جاتی تھی۔ پچھلے سفر میں اردنیوں نے ہم سے بہت محبت کا سلوک کیا تھا۔ مگر محض دو سال میں صورت حال تبدیل ہو چکی تھی۔ ہم ان کے ملک کی سیاحت کا ویزا نہیں مانگ رہے تھے۔ مجھے صرف ٹرانزٹ ویزا درکار تھا جس کے تحت میں ان کے ملک سے محض گزرنا چاہتا تھا لیکن نہ تو وہ ویزا دینا چاہ رہے تھے اور نہ ہی صاف انکار کر رہے تھے۔ 

ترکی، شام اور اردن، پاکستان سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک نہیں ہیں۔ خاص طور پر شام اور اردن کی فی کس آمدنی تو پاکستان کے آس پاس ہی ہے۔ یہ مشہور ہے کہ اپنے سے زیادہ امیر ملک کا ویزا حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ غریب ملک کا ویزا حاصل کرنا آسان ہوتا ہے۔ سری لنکا اور نیپال جیسے ممالک تو آمد پر ہی ویزا جاری کر دیتے ہیں۔ یہاں معاملہ الٹ ہو رہا تھا۔ میں سعودی عرب میں کام کرتا تھا۔ اپنی فیملی کے ساتھ اپنی گاڑی پر سفر کرنا چاہتا تھا اور اس بات کا کوئی امکان نہیں تھا کہ ان کے ملک میں جا کر غائب ہو جاتا۔ لیکن ان سب نے ویزا دینے میں محض اس وجہ سے پس و پیش کیا کہ میں اس ملک کا شہری تھا جس کے ساتھ کچھ ایسے مسائل ہیں جو دنیا میں کم ہی ملکوں کے ساتھ ہوں گے۔

یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس کا تجزیہ کرنا اہل پاکستان کے لئے بہت ضروری ہے۔ ہم دنیا بھر میں اتنے بے وقعت کیوں ہو گئے ہیں کہ ہمارے برابر کے ممالک بھی ہمیں کوئی اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ 

ایک سطحی سوچ رکھنے والا تو یہی کرے گا کہ ان ممالک کو کوسنا شروع کر دے گا۔ ان کی حکومتوں کو برا بھلا کہے گا کیونکہ یہ ممالک پاکستان کے ساتھ تعصب رکھتے ہیں۔ ہم اسلام کا قلعہ اور واحد نیوکلیئر طاقت ہیں جس کی وجہ سے یہ ہم سے حسد کرتے ہیں۔ 

ایک اور سطحی تجزیہ “نظریہ سازش” کے نقطہ نظر سے کیا جا سکتا ہے۔ اس نظریے کے حاملین خود کو دنیا کا مرکز سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں پوری دنیا کو اس کے سوا اور کوئی کام نہیں ہے کہ وہ بس ان کے خلاف سازش کرتی رہے اور انہیں نقصان پہنچانے کی فکر میں لگی رہے۔ یہ ہر معاملے میں چند عالمی طاقتوں کی سازش دریافت کر لیتے ہیں۔ چنانچہ اس نقطہ نظر کے حاملین یہ کہہ سکتے ہیں کہ کچھ ملکوں نے پوری دنیا میں پاکستان کے خلاف لابینگ کی ہے۔ ان کی حکومتوں کو پاکستان کے خلاف کر دیا ہے جس کی وجہ سے یہ ہمیں ویزا دینے کو تیار نہیں ہیں۔ یاد رکھیے کہ دنیا میں کسی کے خلاف سازش تب ہی کامیاب ہوتی ہے جب اس شخص میں کوئی کمزوری موجود ہو۔ 

صحیح اور درست طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی کمزوریوں کا تجزیہ کریں۔ ہم کسی کو بھی سازش کرنے سے نہیں روک سکتے مگر کم از کم اپنی خامیوں کو دور کر سکتے ہیں تاکہ ہر قسم کی سازش کو ناکام بنایا جا سکے۔

حقیقی وجہ یہ ہے کہ اخلاقی اعتبار سے ہمارا امپریشن پوری دنیا کے سامنے خراب ہوچکا ہے۔ عام زندگی میں ہم دوسروں کے ساتھ معاملات ان کی اخلاقی ساکھ (Credibility) کی بنیاد پر کیا کرتے ہیں۔ اگر ہمارا کوئی جاننے والا ایسا ہو کہ بات بات پر ناراض ہو کر لڑنے مرنے پر اترا رہے۔ معمولی سی تکلیف پر احتجاج شروع کر دے۔ قانون اور سماجی ضوابط کی پرواہ نہ کرے۔ ہمیں دھوکہ دے کر ہم سے ہمارا مال حاصل کرنے کی کوشش کرے اور پھر اپنی چالاکی اور دھوکے بازی پر فخر بھی کرے تو کیا ہم ایسے شخص سے رشتہ قائم کرنا پسند کریں گے؟ اس کے برعکس ہم ایسے شخص سے دوستی کرنا ضرور پسند کریں گے جو بڑی سے بڑی بات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرے۔ قانون اور سماجی ضوابط کی پابندی کرے۔ بات کا کھرا ہو اور کبھی کسی کو دھوکہ نہ دے۔

ہمارے ساتھ یہ المیہ ہو چکا ہے کہ پچھلے دو سو برس سے ہماری پوری قوم کو جعل سازی، دھوکہ دہی، منفی ذہنیت اور احتجاجی رویے کی تربیت دی جا رہی ہے۔ منشیات سے لے کر دہشت گردی اور جعلی دستاویزات تیار کرنے سے لے کر انسانوں کی اسمگلنگ جیسے جرائم کے منظم نیٹ ورک ہم ہی نے بنائے ہیں۔ جن ترقی یافتہ اقوام نے ہمیں اپنے ممالک میں رہنے کی اجازت دی ہے، ہم وہاں بھی طرح طرح کے ہتھکنڈوں کے ذریعے کرپشن کو فروغ دے رہے ہیں۔ پچھلے چند برس میں ان تمام معاملات کو ہمارے معاشرے میں بہت فروغ حاصل ہوا ہے۔

اگرچہ ان معاملات میں ہماری قوم کے چند لوگ ہی ملوث ہیں لیکن کرپٹ ذہنیت ہمارے پورے معاشرے میں سرایت کر چکی ہے۔ آپ کو بارہا یہ تجربہ ہوا ہو گا کہ کوئی عام شخص آپ کو یہ کہے، ”آپ اپنے ہیں اس لئے آپ کے ساتھ تو ایسا معاملہ نہیں کر سکتا۔“ اس کا مطلب یہی ہے کہ غیروں کے ساتھ دھوکہ دہی کو وہ شخص جائز اور درست سمجھتا ہے۔ یہ ذہنیت چند افراد میں نہیں بلکہ پوری قوم میں سرایت کر چکی ہے۔ ان حالات میں اگر دوسرے ہم پر اعتماد نہیں کرتے تو ہمیں اس کا الزام انہیں دینے کی بجائے خود اپنے آپ کو دینا چاہیے اور اس کے حل کا آغاز اپنی ذات سے کرنا چاہیے۔

یہ درست ہے کہ ہمارے ہاں امیر و غریب کے فرق اور حکمرانوں کی لوٹ کھسوٹ نے کرپشن کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے مگر یہ ہمارے رویے کے لئے کوئی معقول بنیاد نہیں ہے۔ سری لنکا کی مثال کو لے لیجیے۔ یہ ہم سے زیادہ غریب ملک ہے مگر اخلاقی اعتبار سے ہم سے بہت بہتر ہے۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہم لوگ کردارسازی کا آغاز دوسروں سے کرنا چاہتے ہیں حالانکہ شخصیت و کردار کی تعمیر کا آغاز ہمیشہ اپنی ذات سے ہوا کرتا ہے۔ ہر شخص دوسروں پر تنقید تو کرتا ہے مگر اپنی ذات کو نظرانداز کر دیتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دوسرے ٹھیک ہو جائیں تو معاملہ درست ہو جائے گا۔ معاملہ اس وقت تک درست نہیں ہو گا جب تک ہم خود ٹھیک نہ ہو جائیں۔ 

خیر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ الحمدللہ ہمارے ہاں اپنے کردار کی کمزوری کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ انسان ایسی مخلوق ہے کہ اس میں جب احساس پیدا ہو جائے تو پھر یہ مسئلے کا حل بھی نکال لیتا ہے۔

ہمیں اردن کا ویزا نہ ملنے کی تکلیف تو ہوئی مگر اس سے اپنے ان بھائیوں کی تکلیف یاد آ گئی جو مزدوری کی تلاش میں صبح گھر سے باہر آتے ہیں مگر انہیں کام نہیں ملتا۔ اپنے ایسے بھائیوں کی مدد ہمارا دینی فریضہ ہے۔ مگر ہم لوگ ایسے محنت کشوں کی مدد کی بجائے پروفیشنل بھکاریوں کو بھیک دینا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ 

اس ناکامی میں ہمارے لئے ایک اور بھی بڑا سبق تھا۔ آج تو محض اتنا ہی کہا گیا تھا کہ ”تم اردن میں داخل نہیں ہو سکتے“۔ اگر کل یہ کہہ دیا گیا کہ ”تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے“ تو پھر ہمارا کیا حال ہو گا۔ یہ تصور کر کے انسان کی روح لرز اٹھتی ہے۔

جان، مال اور آبرو خطرے میں

اردن کا ویزا نہ مل سکنے کے بعد ہم نے دوسرے متبادل طریقوں پر غور کیا۔ ایک متبادل راستہ یہ تھا کہ ہم عراق کے راستے شام میں داخل ہو جاتے۔ میں نے عراق کے سفارت خانے سے رجوع کیا تو انہوں نے پاسپورٹ دیکھنے کے بعد بخوشی ویزا دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔ سعودی عرب کا عراق کے ساتھ زمینی رابطہ صرف ایک ہے۔ سعودی عرب کے شمالی شہر ”عرعر“ سے ایک سڑک عراق کے شہر ”نخیب“ میں داخل ہوتی ہے۔ یہ سڑک آگے چل کر کربلا اور بابل سے ہوتی ہوئی بغداد پہنچتی ہے۔ یہاں سے ہم دریائے دجلہ کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہوئے ”سمارا“ اور ”تکریت“ سے گزرتے ہوئے ”موصل“ جا پہنچتے جہاں سے محض ایک ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر ترکی کی سرحد تھی۔

دوسرا راستہ یہ تھا کہ ہم پورے عراق کو چھوڑتے ہوئے نخیب سے شام کی جانب مڑ جاتے اور ”طولیاحہ“ اور ”ربطہ“ سے ہوتے ہوئے تین چار گھنٹے میں شام میں داخل ہو جاتے۔

ان دنوں عراق کی جنگ ختم ہو چکی تھی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ یہاں کا سفر محفوظ نہ تھا۔ کسی بھی مستحکم معاشرے میں انتشار پھیلا کر انارکی پیدا کرنا مشکل کام نہیں ہے لیکن اس کے بعد اس انتشار کو ختم کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انارکی کو ظالم سے ظالم حکومت سے بھی بدتر سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ظالم حکومت کا ظلم چند افراد تک محدود ہوتا ہے مگر جب حکومت کی رٹ ختم ہو جائے تو پھر یہ ظلم ہر گھر تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کے بعد ہر وہ شخص جس کے پاس کچھ اسلحہ یا طاقت ہے، دوسرے کی جان، مال اور آبرو کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی وجہ سے حکمران کے ظلم پر صبر کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور مسلح بغاوت کے ذریعے انتشار پھیلانے سے منع فرمایا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں معاشرے کی جڑیں جب ہلتی ہیں تو پھر کسی بھی شخص کی جان ، مال اور آبرو محفوظ نہیں رہا کرتی۔ وہ ظلم جو چند افراد تک محدود ہوتا ہے، اس کی لپیٹ میں ہر بوڑھا، بچہ، خاتون اور معذور فرد آ جاتا ہے۔ آپ کا ارشاد گرامی ہے:

سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، ”یا نبی اللہ! اگر ہم پر ایسے حکمران مسلط ہوں جو ہم سے تو اپنا حق طلب کریں مگر ہمیں ہمارا حق نہ دیں تو آپ کیا فرماتے ہیں؟“ آپ نے ان کی بات کو نظر انداز کر دیا۔ انہوں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ نے پھر نظر انداز کر دیا۔ جب انہوں نے دوسری یا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا تو اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے انہیں پکڑ کر کھینچا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو۔ ان پر ان کے اعمال کی ذمہ داری ہے اور تم پر تمہارے اعمال کی۔“ (مسلم، کتاب الامارت، حدیث نمبر 4782-83)

سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو میری راہ پر نہیں چلیں گے۔ میری سنت پر عمل نہیں کریں گے اور ان میں سے ایسے لوگ ہوں گے جن کے دل شیطان کے اور جسم انسان کے سے ہوں گے۔“ میں نے عرض کیا، ”یا رسول اللہ! اس وقت میں کیا کروں؟“ فرمایا، ”اگر تم ایسے زمانے میں ہو تو حکمران کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ اگرچہ وہ تمہاری پیٹھ پر (کوڑوں کی) ضرب لگائے اور تم سے تمہارا مال بھی لے لے، تب بھی اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔“ (مسلم، کتاب الامارت، حدیث نمبر 4785)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص حکومت کی اطاعت سے باہر ہو جائے اور جماعت (نظم اجتماعی) کا ساتھ چھوڑ دے اور مر جائے تو اس کی موت جاہلیت کی موت کی طرح ہو گی۔ اسی طرح جو شخص اندھے جھنڈے کے نیچے (کسی نامعلوم مقصد کے لئے) لڑے۔ اپنی قومی عصبیت کے لئے اس میں غصہ ہو، اپنی قومی عصبیت کی طرف لوگوں کو بلاتا ہو، اپنی قوم کی مدد کرتا ہو اور اس میں مارا جائے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی۔ جو شخص میری امت کے خلاف بغاوت کرے اور ان کے اچھوں اور بروں کو قتل کرے، اہل ایمان کو بھی نہ چھوڑے، اور جس سے معاہدہ ہوا ہو، اس کی بھی پرواہ نہ کرے تو نہ اس کا مجھ سے کوئی تعلق ہے اور نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے“۔ (مسلم، کتاب الامارت، حدیث نمبر 4786)

موجودہ دور کی تمام جنگیں اور بغاوتیں سو فیصد اسی معیار پر پوری اترتی ہیں جس کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ فرمایا ہے۔ یقینی طور پر عراق میں امریکی افواج غاصبانہ طور پر داخل ہوئی ہیں۔ ان کو اپنی سرزمین سے نکالنے کی جدوجہد عراقی عوام کا حق ہے۔ اگر کوئی بدمعاش ہمارے گھر میں آگھسے تو کیا ہمیں اپنے گھر کو آگ لگا دینی چاہیے؟ اس کی بجائے ہمیں اپنے گھر کو ممکن حد تک بچاتے ہوئے غاصبوں کو باہر نکالنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ موجودہ دور میں اس کی مثال برصغیر پاک و ہند اور جنوبی افریقہ کی تحریک آزادی کی شکل میں موجود ہے۔ 

اہل عراق نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان ارشادات کو بری طرح نظر انداز کیا اور امریکی افواج کو نکالنے کے لئے اپنا گھر جلانا شروع کر دیا اور اپنی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی۔ اگر وہ اپنے حکمرانوں سے مطمئن نہ تھے تو انہیں بلٹ (Bullet) کی بجائے بیلٹ (Ballot) کی طاقت سے انہیں تبدیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔ اس کے برعکس انہوں نے اپنے پورے معاشرے کو تباہی کے راستے پر ڈال دیا۔ یہی وجہ ہے کہ عراق غیر ملکیوں کے سفر کے لئے تو کیا، خود ان کے اپنے لئے بھی محفوظ نہ رہا تھا۔ جنگ ختم ہو چکی تھی مگر انارکی ابھی باقی تھی۔ دشمن افواج کو چھوڑ کر اہل عراق اب فرقہ وارانہ بنیادوں پر ایک دوسرے کے قتل میں مشغول تھے۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, ترکی کا سفرنامہ, مبشر نذیر کے مضاپین | Tags | Bookmark the Permalink.

5 Responses to ترکی کا سفرنامہ (2) ۔ اپریل 2013 (Mubashir Nazir مبشر نذیر﴿

  1. Rabia says:

    Great!! MashaAllah… Yeh Na sirf safarnama hai. Balky aik naseehat bhi hai..

  2. Amy says:

    Jazak Allah khair.

  3. tasneem hussain says:

    jazak Allah khair………….

  4. Mohammad says:

    really interesting & heart touching, I would like to be connected with you,

  5. Ibrahim hussnain says:

    Allah apko jaza day.ap nay boht achay andaz men zaati muashi or siasi halaat ko beyann kia hay.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *