ترکی کا سفرنامہ (4) ۔ ستمبر 2013 (Mubashir Nazir مبشر نذیر﴿

Download PDF

 (4) ترکی کا سفرنامہ 

مبشر نذیر

[جاری ہے]

طائرانہ نظر یا برڈ ویو

سوا نو بجے فلائٹ کا اعلان ہوا۔ جدہ ایئر پورٹ پر ابھی ٹنل کی سہولت دستیاب نہیں ہو سکی تھی۔ ہم سب کو ایک بس میں لاد کر جہاز کی طرف لے چلے۔ یہ اسپیشل فلائٹ تھی۔ جہاں عام طور پر جہاز کھڑے ہوتے تھے ، ہمارا جہاز وہاں موجود نہ تھا۔ اب ہم جدہ ایئر پورٹ کے فارن ٹرمینل کی جانب جا رہے تھے۔ جن احباب کو حج و عمرہ کے لئے سعودی عرب آنے کا اتفاق ہوا ہو وہ یہ بات جانتے ہیں کہ یہاں تین ٹرمینل ہیں۔ ایک سعودی ایئر لائنز کے لئے، دوسرا فارن ایئر لائنز کے لئے اور تیسرا حج کی اسپیشل فلائٹس کے لئے۔ ہم سعودی ایئر لائنز کے ٹرمینل سے آئے تھے مگر ہمارا جہاز اسپیشل فلائٹس والے ٹرمینل پر لگا ہوا تھا۔ اس ٹرمینل کی عمارت نہیں ہے بلکہ بڑی بڑی چھتریاں لگا کر اسے خاص حاجیوں کے لئے بنایا گیا ہے۔

ٹھیک وقت پر جہاز حرکت میں آیا۔ ٹیک آف کے وقت ماریہ کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھی تھی اور فضا میں بلند ہونے کے منظر سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ بلندی پر پہنچ کر اس کے لئے اندر یا باہر کی کوئی اہمیت نہ تھی۔ چنانچہ میں نے اس سے سیٹ کا تبادلہ کر لیا۔ میرا خیال یہ تھا کہ جہاز صحرا کے اوپر پرواز کرتا ہوا اردن اور شام سے گزر کر ترکی میں داخل ہو گا لیکن ایسا نہ ہوا۔ جہاز مسلسل سعودی عرب کے ساحل کے ساتھ پرواز کرنے لگا۔ اب میں ایک طائرانہ نظر سے زمین کو دیکھ رہا تھا۔

میری نگاہوں کے سامنے بحیرہ احمر کا نیلا پانی تھا۔ نجانے اس سمندر کو سرخ سمندر کا نام کیوں دیا گیا ہے۔ سمندر کا پانی عرب کے گولڈن صحرا سے ٹکرا رہا تھا۔ حد نگاہ تک سنہری ریت پھیلی ہوئی تھی۔ نیلے اور سنہرے رنگ کا امتزاج آنکھوں کو اچھا لگ رہا تھا۔ پانی اور خشکی کا ملاپ قابل دید تھا۔ یہ ایک سیدھی لکیر کی شکل میں نہیں تھا۔ کہیں خشکی پانی کے اندر داخل ہو کر “جزیرہ نما” بنا رہی تھی اور کہیں پانی خشکی کے اندر داخل ہو کر “کریک” تشکیل دے رہا تھا۔ کبھی ساحل سے کچھ اندر پانی خشکی کے اندر نمودار ہو کر “جھیل” کی صورت اختیار کر رہا تھا اور کبھی خشکی پانی کے بیچ میں سے ظاہر ہو کر “جزیرہ” بنا رہی تھی۔ سمندر میں چھوٹے چھوٹے جزیرے پھیلے نظر آ رہے تھے۔ ایک جزیرہ تو بالکل مچھلی کی شکل کا تھا۔

یہ اللہ تعالی کی تخلیقی قوت کا اظہار تھا۔ میرا دل اللہ تعالی کی طاقت کے احساس سے بھر گیا۔ اس قوت کے چند ذرے اس نے اپنی مخلوقات میں سے صرف انسان کو عطا کیے ہیں جس کی بدولت ہمیں یہ سب سائنسی ترقی نظر آتی ہے۔ انسان کو اس نعمت کا شکر کرنا چاہیے نہ کہ اسی محدود سی قوت کے بل بوتے پر خدا کا مقابلہ کرنے کے لئے کھڑا ہو جانا چاہیے۔

اس منظر کا ایک عجیب پہلو یہ تھا کہ خشکی اور پانی ایک دوسرے کے متضاد ہیں لیکن یہ ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ یہی اس دنیا کا معاملہ ہے۔ اس دنیا میں بسا اوقات بالکل ہی متضاد مزاج کے انسانوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اگر یہی انسان اپنے اختلافات کے باوجود ساتھ چلنے پر آمادہ ہو جائیں تو پھر انسانیت اجتماعی طور پر ترقی کرتی چلی جاتی ہے۔ جیسے پانی اور خشکی میں تصادم ہو جائے تو پھر طوفان آ جاتا ہے، بالکل اسی طرح اگر انسان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر تل جائے تو پھر انسانیت کی ترقی کا سفر معکوس سمت میں چل پڑتا ہے اور تباہی و بربادی اس کا مقدر بنتی ہے۔

جس طرح پانی اور خشکی ایک دوسرے میں گندھے ہوئے ہیں، بالکل اسی طرح نیکی اور بدی اس دنیا میں ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو موجود ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سے ہے جب سے یہ دنیا بنی ہے اور اس وقت تک رہے گا جب تک یہ دنیا رہے گی۔ ہمارے بعض جذباتی نیک افراد دنیا سے برائی کو ختم کر دینا چاہتے ہیں اور اس میں ناکامی کے بعد مایوس ہو کر نیکی سے دور ہو جاتے ہیں۔ اس دنیا سے برائی کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ دنیا انسان کے امتحان کے لئے بنی ہے۔ نیکی اور بدی کا وجود اس امتحان کے لئے ضروری ہے۔ انسان کی حقیقی زندگی میں برائی کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا جسے دین میں “جنت” کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔

Posted in ابویحییٰ کے آرٹیکز, ترکی کا سفرنامہ, مبشر نذیر کے مضاپین | Tags , , , , , , , , , , , | Bookmark the Permalink.

2 Responses to ترکی کا سفرنامہ (4) ۔ ستمبر 2013 (Mubashir Nazir مبشر نذیر﴿

  1. Amy says:

    great as usual.

  2. Ibrahim hussnain says:

    boht zabardast

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *